ابھی نہیں کہا جا سکتا کیسا ہوگا اگلا اولمپکس: آئی او سی

ٹوکیو اولمپکس اس سال 24 جولائی سے 9 اگست تک ہونا تھا، لیکن کورونا وائرس ‘كووڈ -19’ کے پیش نظر اگلے سال تک کے لئے ملتوی کر دیا گیا۔ اب اس کا انعقاد 23 جولائی سے 8 اگست 2021 تک کیا جائے گا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

جنیوا / نئی دہلی: بین الاقوامی اولمپک کمیٹی (آئی او سی) نے کہا ہے کہ جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو میں اگلے سال جولائی میں ہونے والے اگلے اولمپکس کی شکل کیسی ہوگی اس کے بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

ٹوکیو اولمپکس اس سال 24 جولائی سے 9 اگست تک ہونا تھا، لیکن کورونا وائرس 'كووڈ -19' کے پیش نظر اگلے سال تک کے لئے ملتوی کر دیا گیا۔ اب اس کا انعقاد 23 جولائی سے 8 اگست 2021 تک کیا جائے گا۔
آئی او سی کے صدر تھامس باک نے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ساتھ ایک مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کرنے کے بعد نامہ نگاروں سے کہا کہ یہ پہلی بار ہے جب اولمپک کھیلوں کا انعقاد سے گریز کیا گیا ہے۔ یہ اولمپکس انسانیت اور یکجہتی کا جشن ہو گا۔

باک نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ کھیل محفوظ ماحول میں منعقد کرنا ضروری ہیں۔ اب اس میں ایک سال اور دو ماہ کا وقت ہے۔ محفوظ اولمپکس کے انعقاد کے لئے کیا اقدامات کرنے ہوں گے اس کا ابھی سے قیاس لگانا جلد بازی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اولمپک کھیلوں کے محفوظ انعقاد کے لئے ایک مشترکہ ورکنگ کمیٹی کا قیام کیا گیا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے ماہرین بھی اس کا حصہ ہیں۔ آئی او سی گیمز کے لئے محفوظ انعقاد کے لئے ڈبلیو ایچ او کی سفارش پر منحصر ہے۔ اس مفاہمت کی یادداشت فزیکل سرگرمیوں کو فروغ دینے اور غیر متردی بیماریوں کے کنٹرول کے سلسلے میں ہے۔ باک اور عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیدروس گیبريسس نے اس پر دستخط کیے۔

باک نے کہا کہ یہ مفاہمت آئی او سی اور ڈبلیو ایچ او کے پرانے تعاون کو مضبوط کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ دونوں کا مقصد ایک ہی ہے- جسمانی سرگرمیوں اور صحت کو فروغ دینا۔ دونوں تنظیم مل کر كووڈ -19 کے چیلنجوں کا مقابلہ کر سکتی ہیں اور اس سے پیدا ہوئے مواقع کا فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وبا نےاچھی صحت کی اہمیت ثابت کر دی ہے۔ جن کی صحت بہتر ہے وہ بیماری کا اچھی طرح سامنا کر رہے ہیں۔ صرف غیر متعدی بیماری ہی نہیں، وائرس سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے تناظر میں بھی یہ کھیل- کود کم لاگت میں صحت مند رہنے کا متاثر کن ذریعہ ہے۔

آئی او سی چیف باک نے حکومتوں سے اپیل کی کہ وہ کھیل کو فروغ دینے میں مدد کریں۔ انہوں نے کہا کہ کھیلوں سے نہ صرف معیشت کو رفتار ملتی ہے بلکہ اس کے صحت اور سماجی عنصر بھی ہیں۔ ڈاکٹر ٹیدروس نے کہا کہ کھیل کود پائیدار ترقی کے اہداف کو حاصل کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ڈبلیو ایچ او اور آئی او سی تین دہائی سے زیادہ وقت سے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ یہ مفاہمت نامہ اسی رشتے کو اور آگے بڑھائے گا۔