ڈیوس کپ پر منڈلایا خطرہ، پاکستان میں ہندوستانی ٹینس ایسوسی ایشن نے کھیلنے سے کیا انکار

آل انڈیا ٹینس ایسو سی ایشن نے بین الاقوامی فیڈریشن کو خط لکھ کر کہا ہے کہ یا تو ڈیوس کپ کو پاکستان سے کسی دوسری جگہ منتقل کیا جائے یا پھر ٹورنامنٹ کو ہی کچھ وقت کے لیے ملتوی کیا جائے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

نئی دہلی: بھارتیہ ڈیوس کپ کھلاڑیوں کےپاکستان میں مقابلہ نہ کھیلنے کےمطالبے کے بعد آل انڈیا ٹینس ایسوسی ایشن نے بین الاقوامی ٹینس فیڈریشن کو خط لکھ کر کہا ہے کہ ہندوستان -پاکستان ڈیوس کپ مقابلے کوحالات معمول پر آنے تک دومہینے کےلئے ملتوی کردیا جائے یا پھر اسے دوسری جگہ منتقل کیا جائے ۔

آل انڈیا ٹینس ایسوسی ایشن (اے آئی ٹی اے)نے 48گھنٹے پہلے بین الاقوامی ٹینس فیڈریشن (آئی ٹی ایف)سے پاکستان میں سیکورٹی کے حالات کا دوبارہ جائزہ لینے کا مطالبہ کیا تھا جبکہ غیر کھلاڑی کپتان مہیش بھوپتی کی قیادت والی انڈین ڈیوس کپ ٹیم نے اس کے 24گھنٹے بعد مقابلے کےلئے غیر جانبدار مقام کا مطالبہ کیا تھا۔

ہندوستان کو 14اور 15ستمبر کو اسلام آباد میں پاکستان کے خلاف ایشیا اوسنیا زون گروپ اے کا مقابلہ کھیلنا ہے۔لیکن کشمیرسے آئیں کے آرٹیکل 370ہٹائے جانے کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات میں پھر سے تلخی آگئی ہے جس کے بعد 55سال بعد ہندوستان کا پاکستان دورہ بھی اٹک گیا ہے۔

اے آئی ٹی اے نے آئی ٹی ایف کو خط لکھ کر کہا ہے کہ ڈیوس کپ کے اس مقابلے کے مقام کو پاکستان سے منتقل کیا جائے یا پھر دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں بہتری ہونے تک کچھ وقت کےلئے ٹورنامنٹ کو ہی ملتوی کردیا جائے۔اے ائی ٹی اے کا کہنا ہے کہ کھلاڑیوں کی سیکورٹی اولین ترجیح ہے اور موجودہ حالات میں کھلاڑیوں کےلئے پاکستان جاکر کھیلنا بہت مشکل ہے۔

اس سے پہلے اے آئی ٹی اے کے جنرل سکریٹری ہرمنیے چیٹرجی نے آئی تی ایف کے ایگزیکیوٹو ڈائریکٹر جسٹن ایلبرٹ کو اس مقابلے کے سلسلے میں خط لکھا تھا اور ان سے پاکستان میں سیکورٹی حالات کا دوبارہ جائزہ لینے کی اپیل کی تھی۔چیٹرجی کی اس اپیل کے 24گھنٹے بعد ہی انڈین ڈیوس کپ ٹیم نے اے آئی ٹی اے سے کہا تھا کہ وہ آئی ٹی ایف سے اس مقابلے کے لئے غیر جانبدار مقام کے سلسلے میں کہے۔کھلاڑیوں کو اے آئی ٹی اے کے تازہ رخ سے مایوسی ہوئی تھی کیونکہ تب اے آئی ٹی اے نے آئی ٹی ایف سے غیر جانبدار مقام کا مطالبہ نہیں کیاتھا بلکہ سیکورٹی حالات کا دوبارہ جائزہ لینے کےلئے کہا تھا۔

اس دوران مرکزی وزیر کھیل کرن ریجیجو کا کہنا ہے کہ یہ مقابلہ دوطرفہ سیریز نہیں ہے اور ڈیوس کپ کی میزبانی کرنے والی عالمی تنظیم اس میں شامل ہے اس لئے وہ ٹینس کھلاڑیوں کو پاکستان کا سفر کرنے سے نہیں روک سکتے۔

انڈین ڈیوس کپ ٹیم نے آخری بار پاکستان کا 1964میں دورہ کیا تھا۔پاکستان پچھلے کچھ برسوں میں پنے ڈیوس کپ مقابلے غیر جانبدار مقامات پر کھیلتا رہا ہے۔ہانگ کانگ نے تو 2017میں پاکستان کا دورہ کرنےسے ہی انکار کردیا تھا۔پاکستان نے آخری بار غیر جانبدار مقام پر 2016میں چین کے کولمبو میں میزبانی کی تھی۔

Published: 14 Aug 2019, 6:10 PM