پاکستانی تارک وطن علی حسن فرانس میں مسلح حملہ آور کیسے بنا؟

کئی دیگر پاکستانیوں کی طرح بہتر مستقبل کے خواب لیے علی حسن جب اسمگل ہو کر یورپ پہنچا تھا تو اس کی عمر صرف پندرہ برس تھی۔ آج قریب تین سال بعد وہ شدت پسندی کے شبے میں پیرس کی ایک جیل میں قید ہے۔

فائل تصویرسوشل میڈیا بشکریہ ایل اے ٹائمس
فائل تصویرسوشل میڈیا بشکریہ ایل اے ٹائمس
user

ڈی. ڈبلیو

علی حسن نے جب پاکستان چھوڑ کر پناہ کے متلاشی ایک نوجوان کے طور پر یورپ میں آباد ہونے کا سوچا تھا، تو وہ اپنے بھائی کے نقش قدم پر چل رہا تھا۔ ہر سال ہزاروں پاکستانی ایسا ہی کرتے ہیں۔ لیکن اس وقت یہ نوجوان فرانسیسی دارالحکومت کی ایک جیل میں ہے، اس لیے کہ اس نے 25 ستمبر کو پیرس میں گوشت کاٹنے والے ایک چاپڑ کے ساتھ حملہ کر کے دو افراد کو شدید زخمی کر دیا تھا۔

اس حملے سے قبل اس نے ایک ویڈیو پیغام میں یہ بھی کہا تھا کہ وہ فرانسیسی طنزیہ جریدے شارلی ایبدو میں شائع ہونے والے پیغمبر اسلام کے خاکوں پر رنجیدہ تھا اور بدلہ لینا چاہتا تھا۔

فرانس میں قیام کی زیادہ تفصیلات کی عدم دستیابی

علی حسن نے اس حملے سے پہلے تک فرانس میں جو وقت گزارا تھا، اس کی بہت کم تفصیلات دستیاب ہیں۔ اس کی عمر کے بارے میں بھی کافی ابہام پایا جاتا ہے۔ لیکن خبر رساں ادارے اے پی کی طرف سے کی گئی چھان بین اور پاکستان میں اس کی ذات سے متعلق سرکاری دستاویزات دیکھنے کے بعد اس نیوز ایجنسی نے لکھا ہے کہ علی حسن کی عمر اس وقت 18 برس ہے۔

فرانسیسی تفتیشی ماہرین گزشتہ ماہ کے اواخر میں کیے جانے والے اس حملے کی ایک 'مسلم شدت پسندانہ کارروائی‘ کے طور پر چھان بین کر رہے ہیں۔ اس حملے نے جنوری 2015ء میں کیے جانے والے اس حملے کی یاد تازہ کر دی تھی، جب اسی فرانسیسی جریدے کے دفاتر پر کیے جانے والے حملے میں عسکریت پسندوں نے شارلی ایبدو کے 12 کارکنوں کو ہلاک کر دیا تھا۔ ان عسکریت پسندوں نے کہا تھا کہ وہ یہ خونریز کارروائی دہشت گرد نیٹ ورک القاعدہ کے ایما پر کر رہے تھے۔

کسی دہشت گرد گروپ سے کوئی تعلق نہیں

اب تک یہ ثابت نہیں ہوا کہ علی حسن کا کسی دہشت گرد گروپ کے ساتھ کوئی تعلق ہے۔ اس کے برعکس تفتیشی ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ غصے سے بھرا ہوا ایک ایسا نوجوان ہے، جس نے اپنے وطن سے دور فرانس میں یہ حملہ دراصل ایک ایسی دنیا میں کیا، جس سے وہ واقف ہی نہیں تھا، اور اس کے محرکات میں بظاہر پاکستان کا توہین مذہب سے متعلق بہت سخت قانون بھی ہے۔

علی حسن کا تعلق پاکستانی صوبہ پنجاب کے دیہی علاقے میں کوٹلی قاضی نامی ایک گاؤں سے ہے۔ اس گاؤں کے کئی نوجوانوں نے، جن میں اس کے بچپن کے دوست بھی شامل ہیں، بتایا کہ علی حسن کو بچپن ہی سے یورپ جانے کا شوق تھا کیونکہ وہ اپنے اور اپنے خاندان کے لیے بہتر مستقبل اور مالی خوشحالی کا خواہش مند تھا۔ کوٹلی قاضی سے گزشتہ چند برسوں کے دوران کم از کم بھی 18 نوجوان بہتر مستقبل کی خاطر پناہ کی تلاش میں بیرون ملک جا چکے ہیں۔

قابل غور بات یہ بھی ہے کہ اس گاؤں کے بہت سے نوجوان علی حسن کو اس لیے ہیرو سمجھتے ہیں کہ اس نے پیرس میں حملہ کر کے دو افراد کو شدید زخمی کر دیا۔

تحریک لبیک کا گہرا اثر

کوٹلی قاضی پاکستانی صوبہ پنجاب کے جس ضلع کا گاؤں ہے، وہاں سخت گیر مذہبی سیاسی جماعت تحریک لبیک کو گہرا اثر و رسوخ حاصل ہے۔ اس تحریک کا تقریباﹰ واحد مقصد یہ ہے کہ پاکستان میں توہین مذہب اور توہین رسالت کی روک تھام کے لیے بنایا گیا وہ متنازعہ قانون موجودہ حالت میں ہی نافذ رہنا چاہیے، جس کے تحت ایک مذہب کے طور پر اسلام اور پیغمبر اسلام کی توہین کے جرم میں کسی بھی ملزم کو سزائے موت سنا دی جاتی ہے۔

علی حسن کے بچپن کے ایک دوست محمد اکرام نے نیوز ایجنسی اے پی کو بتایا، ''یورپ جانا، جیسا کہ علی حسن فرانس چلا گیا تھا، سعودی عرب جیسے ممالک میں جانے سے بہتر ہے، کیونکہ یورپ میں آپ زیادہ رقم کما سکتے ہیں۔ لیکن میرے اور علی حسن کے کئی دوست یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر وہ علی حسن کی جگہ ہوتے، تو پیغمبر اسلام کے خاکے چھاپنے جیسی کوئی بھی حرکت دیکھ کر وہ بھی اسی طرح کے حملے ہی کرتے۔‘‘

باپ کی طرف سے بھی بیٹے کے جرم کی تعریف

کوٹلی قاضی نامی گاؤں میں علی حسن کے خاندان کی ایک بزرگ ہمسایہ خاتون، 80 سالہ آمنہ نے بتایا، ''علی حسن بچپن میں اپنی عمر کے دوسرے لڑکوں کی طرح نہیں تھا، وہ صرف تعلیم حاصل کرنا چاہتا تھا۔ لیکن مذہبی طور پر دیکھا جائے تو اس نے فرانس میں جو کچھ بھی کیا، شاید آپ میری رائے سے متفق نہ ہوں، لیکن میرے نزدیک تو اس نے درست کام کیا۔‘‘

علی حسن کے والد ارشد محمود سے جب ان کی رائے دریافت کی گئی، تو انہوں نے اپنے گھر کے دروازے میں کھڑے کھڑے ہی کچھ بھی کہنے سے انکار کر دیا۔ ارشد محمود کے چند ہمسایوں کے مطابق اس پاکستانی باشندے نے صحافیوں سے کوئی بھی بات کرنے سے انکار اس لیے کیا کہ مقامی پولیس اور پاکستانی خفیہ ادارے پہلے ہی اسے خبردار کر چکے تھے کہ وہ عوامی سطح پر مزید کچھ بھی کہنے سے احتراز کرے۔ اس سے قبل پیرس میں اپنے بیٹے کی طرف سے کیے جانے والے حملے کے بعد ارشد محمود نے مبینہ طور پر اپنے بیٹے کے اس مجرمانہ اقدام کو درست قرار دیتے ہوئے کئی مرتبہ کھلم کھلا اس کی تعریف بھی کی تھی۔

نوجوان پاکستانی تارکین وطن اور ذہنی تصادم

امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں قائم اٹلانٹک کونسل کے ایک فیلو، مصنف اور سیاسی اور سکیورٹی تجزیہ نگار شجاع نواز کے بقول پاکستان جیسے ممالک سے یورپ آنے والے نوجوان تارکین وطن کو ذہنی طور پر دو طرح کے عوامل کے باعث فکری تصادم کی صورت حال کا سامنا رہتا ہے۔

شجاع نواز نے کہا، ''ایسے نوجوانوں کے آبائی ممالک، جیسے کہ پاکستان، زیادہ سے زیادہ مغرب بیزار ہوتے ہوئے اسلامیائے جانے کے عمل سے گزر رہے ہیں۔ اس عمل کے اسباب میں عوامیت پسند حکومتیں، سخت گیر مذہبی شخصیات کا گہرا اثر و رسوخ اور تیزی سے ناکام ہوتے ہوئے تعلیمی نظام بھی شامل ہیں۔ دوسرا نقصان دہ عمل یہ ہے کہ جب ایسے نوجوان قانونی یا غیر قانونی طریقے سے مغربی ممالک میں پہنچ جاتے ہیں، تو وہ دیگر مسلمان یا ہم وطن تارکین وطن کے ساتھ مل کر ایسے بند سماجی گروپوں کے رکن بن جاتے ہیں، جہاں کسی بھی موضوع پر اتفاق رائے یا کسی بھی طرح کے حالات کے دفاع کے لیے مذہب کی آڑ لی جاتی ہے۔‘‘

اس وقت صورت حال یہ ہے کہ پاکستان سے ایران، ترکی اور پھر اٹلی کے راستے اگست 2018ء میں فرانس پہنچنے والا علی حسن پیرس کی ایک جیل میں بند ہے۔ اس سال 11 ستمبر کے روز شارلی ایبدو کی طرف سے پیغمبر اسلام کے خاکوں کی دوبارہ اشاعت کے بعد سے وہ غصے میں تھا اور اس غصے کا نتیجہ 25 ستمبر کو اس کی طرف سے کیے جانے والے حملے کی صورت میں نکلا تھا۔

فرانسیسی پراسیکیوٹرز کی طرف سے علی حسن کے ساتھ رہنے والے افراد اور اس کے قریبی حلقوں سے کی جانے والی تفتیش کے بعد یہ بات سامنے آ چکی ہے کہ وہ تحریک لبیک پاکستان کے سخت گیر رہنما خادم حسین رضوی کی ایسی ویڈیوز دیکھتا رہتا تھا، جس میں خادم رضوی کی طرف سے پیغمبر اسلام کے خاکوں کی اشاعت کی مذمت کی جاتی تھی۔

اسی لیے علی حسن نے اپنی طرف سے کیے گئے حملے سے قبل سوشل میڈیا پر جو ویڈیو پوسٹ کی تھی، اس میں اس نے کہا تھا، ''اگر میں آپ کو جذباتی لگوں، تو اس کی ایک وجہ ہے، جو میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں۔ یہاں فرانس میں پیغمبر اسلام کے خاکے چھاپے گئے ہیں، اور میں آج ان کے خلاف مزاحمت کروں گا۔‘‘

next