کیچڑ ڈال کر رپورٹنگ کرنے والی جرمن خاتون رپورٹر کی معذرت

جرمنی کے سیلاب زدہ علاقے سے ایک خاتون صحافی کو اپنی رپورٹ میں خود پر کیچڑ ڈال کر صورت حال کی سنگینی بیان کرنے کی کوشش مہنگی پڑ گئی۔ رپورٹر نے ناظرین سے معذرت کرتے ہوئے اس فعل کو ایک غلطی قرار دیا ہے۔

کیچڑ ڈال کر رپورٹنگ کرنے والی جرمن خاتون رپورٹر کی معذرت
کیچڑ ڈال کر رپورٹنگ کرنے والی جرمن خاتون رپورٹر کی معذرت
user

Dw

خود پر کیچڑ ڈال کر رپورٹنگ کرنے والی خاتون کمپیئر کا نام سُوزانا اوہلین ہے۔ ان کا تعلق جرمنی کے پرائیوٹ ٹیلی وژن نیٹ ورک آر ٹی ایل گروپ سے ہے۔ اوہلین اپنے کپڑوں پر کیچڑ ڈال کر سیلاب سے شدید متاثرہ علاقے سے رپورٹ کر رہی تھیں تاکہ زمینی حقیقت کی سنگینی کو بیان کیا جا سکے۔

سوزانا اوہلین کی معذرت

اپنی معذرت پیش کرتے ہوئے اوہلین نے اسے ایک سنگین غلطی قرار دیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک صحافی کے طور پر ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔ اوہلین نے انسٹاگرام پر اپنی معذرت جاری کی۔


ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ علاقے میں وہ بطور رضاکار امدادی سرگرمیوں میں شریک رہی تھیں اور یہ رپورٹ پیش کرتے وقت بقیہ امدادی کارکنوں کے سامنے صاف کپڑے پہننے پر انہیں احساسِ ندامت لاحق ہو گیا تھا۔ اوہلین کا مزید کہنا تھا کہ یہ سب کچھ اسی احساسِ ندامت کے تحت ہوا اور انہوں نے اپنے کپڑوں پر کیچڑ ڈال کر رپورٹ پیش کی۔ ویڈیو فوٹیج میں ان کے چہرے پر بھی مٹی لگی دیکھی جا سکتی ہے۔

مبصرین کے مطابق خاتون رپورٹر نے شدید سیلابی کیفیت اور تباہی کا احوال بیان کرنے کے لیے اپنے کپڑوں پر کیچڑ ضرور ڈالا لیکن یہ حقیقت یا سچ کو تبدیل کرنے کی کوشش نہیں تھی بلکہ اصل شدت بیان کرنا مقصود تھا۔


جرمنی کی معروف کمپیئر

انتالیس سالہ اوہلین جرمن ٹیلی وژن پر 'گُڈ مارننگ جرمنی‘ کا مقبول پروگرام بھی پیش کرتی ہیں۔ وہ جرمن صوبے نارتھ رائن ویسٹ فالیا کے اُس شہر میں امدادی کاموں میں مصروف رہی تھیں جو سب سے زیادہ سیلاب سے تباہ و برباد ہوا ہے۔ اس شہر کا نام باد مؤنسٹرآئیفل ہے۔

ایک نامعلوم شخص کی طرف سے اپ لوڈ کی گئی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ کچرے اور ملبے میں کھڑی ہیں اور پھر چلتے ہوئے کیچڑ کے پاس پہنچ کر جھکتی ہیں اور گیلی مٹی اپنے کپڑوں پر ڈالتی ہیں۔ سوزانا اوہلین ایسا کرنے کی بظاہر کوئی مناسب وجہ بیان کرنے سے بھی قاصر رہی ہیں۔


ادارے کا ردعمل

جرمنی کے سب سے بڑے پرائیویٹ ٹیلی وژن چینل آر ٹی ایل نے خاتون رپورٹر کے اس اقدام پر باقاعدہ ایکشن لے لیا ہے۔ آر ٹی ایل کی انتظامیہ نے رپورٹر کا اقدام صحافیانہ اصولوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ آر ٹی ایل کے ادارے نے رپورٹر کے اس فعل کو مقرر کردہ قواعد اور معیارات کے منافی بھی کہا ہے۔

ادارے نے انہیں پیر سے فرائض سرانجام دینے سے روک دیا ہے۔ آرٹی ایل کی خاتون ترجمان کے مطابق اس صورت حال کے تناظر میں رپورٹر اور کمپیئر سوزانا اوہلین کو فی الوقت معطل کر دیا گیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔