اسقاط حمل کرانے پر خاتون کو تیس برس قید کی سزا

ایل سلواڈور کی ایک عدالت نے ایک خاتون کو محض اس لیے 30 برس قید کی سزا سنائی ہے کیونکہ زچگی میں پیچیدگی کی وجہ سے ان کا حمل ساقط ہو گیا تھا۔ اس وسطی امریکی ملک میں اسقاط حمل پر پابندی عائد ہے۔

ایل سلواڈور: اسقاط حمل کرانے پر خاتون کو تیس برس قید کی سزا
ایل سلواڈور: اسقاط حمل کرانے پر خاتون کو تیس برس قید کی سزا
user

Dw

ایل سلواڈور کی ایک غیر سرکاری تنظیم کا کہنا ہے کہ ملکی عدالت نے ایک خاتون کو محض اس لیے 30 برس قید کی سزا سنائی کیونکہ انہیں زچگی میں ایمرجنسی کا سامنا کرنا پڑا تھا اور اس کے نتیجے میں ان کا حمل ضائع ہو گیا۔ یہ تنظیم خاتون کے دفاع میں ان کی مدد کر رہی تھی۔

اسقاط حمل پر کام کرنے والی تنظیم 'سٹیزن گروپ فار ڈی کریمنلائزیشن آف ابارشن' نے عدالت کے اس فیصلے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کرے گی۔ پیر کو سنائی جانے والی اس سزا کی فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی تھی کیونکہ منگل کو 'مدرز ڈے' کے موقع پر ملک کی تمام عدالتیں بند تھیں۔


اس تنظیم نے فیصلے کے رد عمل میں کہا، ''جج نے جانبداری کے ساتھ کام لیا اور اٹارنی جنرل کے دفتر کی طرف سے پیش کردہ اس موقف کو زیادہ اہمیت دی، جو بدنما دقیانوسی اور صنفی عدم مساوات کے تصورات سے بھرا ہوا تھا۔'' ادارے کا کہنا تھا کہ گزشتہ سات برسوں میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا کیس تھا۔

تنظیم نے مذکورخاتون کی شناخت محض ایسما کے نام سے کی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ مقدمہ شروع کرنے سے پہلے سے وہ گرفتاری کی بعد دو برس تک حراست میں تھیں۔ انہوں نے ایمرجنسی کی وجہ سے علاج کے سلسلے میں ایک سرکاری ہسپتال سے رابطہ کیا تھا اور اسی کے بعد انہیں گرفتار کر لیا گیا تھا۔ ان کے پاس پہلے سے ایک سات برس کی بیٹی بھی ہے۔


ایل سلواڈور میں اسقاط حمل غیر قانونی

ایل سلواڈور میں اسقاط حمل پر مکمل طور پر پابندی عائد ہے۔ یہاں تک کہ اگر کسی خاتون کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی ہو اور اس سے حمل ٹھہر جائے یا پھر خاتون کی صحت خطرے میں ہو، تب بھی اسقاط حمل کی اجازت نہیں ہے۔ ایسی خواتین جنہیں مجبوری میں اسقاط حمل کرنا پڑا اور اس کی خبر حکام تک پہنچ گئی، تو ایسی بہت سی عورتوں کو گرفتار کر کے جیل بھیجا جا چکا ہے۔

گزشتہ دو دہائیوں کے دوران ایسی تقریباً 180 خواتین کے خلاف مقدمہ چلایا گیا ہے۔ سن 2009 سے اب تک حکومت نے ان میں سے محض 64 کو رہا کیا ہے۔ دسمبر 2021 سے، آٹھ خواتین جو طویل قید کی سزا کاٹ رہی ہیں، ان کی سزاؤں میں کچھ کمی بھی کی گئی ہے۔


انسانی حقوق کی ایک بین امریکی عدالت نے نومبر میں یہ فیصلہ بھی سنایا تھا کہ ایل سلواڈور نے اس خاتون کے حقوق کی خلاف ورزی کی، جس کی شناخت مانویلا کے نام سے کی گئی تھی۔ انہیں اسقاط حمل کے قوانین کی خلاف ورزی کے الزام میں جیل بھیج دیا گیا تھا اور وہ اپنی 30 برس کی سزا کاٹتے ہوئے جیل میں ہی انتقال کر گئی تھیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔