سردیوں کی سوغات ’بلوچی بسری‘ ہے کیا؟

بلوچستان میں موسم سرما کا آغاز ہوتے ہی گرم اور قوت بخش اشیاء کے استعمال میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ انہی میں سے ایک غذا بلوچی بسری بھی ہے۔ مقامی افراد کا خیال ہے کہ بلوچی بسری سے جسم سارا دن گرم رہتا ہے۔

’بلوچی بسری‘ سردیوں کی سوغات
’بلوچی بسری‘ سردیوں کی سوغات
user

Dw

بلوچستان کے بیشتر دیہی علاقوں جیسے نصیر آباد، جعفر آباد، سبی اور اطراف کے علاقوں میں گڑ اور دیسی گھی سے تیار کردہ روٹی یا پراٹھا روزانہ ناشتے میں استعمال کیا جاتا ہے، جسے'بلوچی بسری‘ کہا جاتا ہے۔ سندھ کے بہت سے علاقوں میں بھی بسری شوق سے کھائی جاتی ہے۔

جسم کو گرم رکھنے کا ایک ذریعہ

نصیر آباد کی رہائشی آسیہ بی بی نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ سردیوں کی خنک اور سرد صبح میں بسری کو کھانے کا اپنا ہی مزا ہے،''ان کا پورا خاندان مزدور پیشہ افراد پر مشتمل ہے اور گھر روزانہ کی دہاڑی سے چلتا ہے۔ شدید سردی ہو یا بارش ان کے شوہر اور بیٹوں کو ہر حال میں کام پر جانا ہوتا ہے ۔ ان کی آمدنی اتنی نہیں ہے کہ گوشت یا دیگر مغوی غذائیں کھا سکیں لہذا ساری دن خود کو گرم اور متحرک رکھنے کے لیے ناشتے میں بسری تیار کی جاتی ہے۔‘‘


بلوچی بسری کو کیسے تیار کیا جاتا ہے؟

آسیہ بتاتی ہیں کہ اس کی تیاری بہت سادہ ہے۔ گندم کے آٹے کو گوندھ کر پہلے بڑے یا درمیانے سائز کے دو پیڑے بنائے جاتے ہیں، جن کو الگ الگ بیل کر پھر ایک حصے پر چورا کیا ہوا گڑ ڈالا جاتا ہے۔ دوسرے حصے سے ڈھک کر ایک موٹا پراٹھا تیار کیا جاتا ہے جسے بعد ازاں دیسی گھی میں تلا جاتا ہے۔ اصلی گھی اور تازہ گڑ کا امتزاج اس سادہ سی غذا کو انتہائی مزیدار اور طاقتور بنا دیتا ہے، جسے ناشتے میں کھانے سے شام تک جسم گرم رہتا ہے ۔

آسیہ بی بی کے بقول ان کے علاقے میں اسے میٹھی روٹی بھی کہا جاتا ہے اور شادی بیاہ کے موقع پر اسے خصوصی طور پر تیار کر کے دولہا دلہن اور مہمانوں کو کھلایا جاتا ہے۔ بہت سے گھرانوں میں زچگی کے بعد خواتین کو کئی ہفتوں تک بسری کھلائی جاتی ہے تاکہ کمزوری دور ہو سکے۔ ان کے مطابق بسری کے استعمال سے سردیوں میں کثرت سے ہونے والے جوڑوں کے درد میں بھی افاقہ ہوتا ہے۔


گڑ کے فوائد کیا ہیں؟

اس حوالے سے ڈوئچے ویلے نے ماہر غذائیات ڈاکٹر شگفتہ فیروز سے بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ بسری گڑ کا پراٹھا ہے، جو سندھ اور بلوچستان کے دیہی علاقوں میں کثرت سے کھایا جاتا ہے۔ غذائیت سے بھرپور ہونے کے باعث شہری علاقوں میں بھی اب بسری کا استعمال دیکھنے میں آیا ہے۔ اس کی تیاری میں تازہ گڑ استعمال کیا جاتا ہے، جس میں کیلشیئم اور فاسفورس پائے جاتے ہیں، جو ہڈیوں کو مضبوط بنانے کے علاوہ سردیوں میں جلد تھکاوٹ اور سستی سے محفوظ رکھتے ہیں۔

سردیوں میں زیادہ کیلوریز والی غذائیں استعمال کر نے سے عموما وزن بڑھ جاتا ہے اور ہائی بلڈ پریشر والے مریضوں کو مشکلات کا سامنا رہتا ہے کیونکہ شدید سردی، بارش یا برفباری میں لوگ گھروں تک محدود ہو جاتے ہیں اور روزانہ چہل قدمی کرنے کا رجحان کم ہو جاتا ہے۔ڈاکٹر شگفتہ فیروز کے مطابق ایسے افراد کو بسری ضرور کھانی چاہیے کیونکہ گڑ نا صرف وزن کم کرتا ہے بلکہ یہ بلڈ پریشر کو نارمل رکھنے میں بھی معاون ہے۔ ان کے مطابق تاہم اصلی گھی کے استعمال سے پرہیز کرنا بہتر ہے۔ ان کا مشورہ ہے کہ بسری کی تیاری میں اپنے ڈاکٹر یا نیوٹریشن کی ہدایت کے مطابق آئل استعمال کریں۔


بلوچستان میں دسمبر اور جنوری سردی کے عروج کے مہینے ہوتے ہیں۔ اس دوران یہاں گرم اور مقوی غذاؤں کا استعمال معمول سے زیادہ ہو نے لگتا ہے۔ خشک میوہ جات جسم کو حرارت پہنچانے کا قدرتی اور سادہ ذریعہ ہیں مگر ان کی بڑھتی ہوئی قیمتیں متوسط طبقے کی پہنچ سے با ہر ہو چکی ہیں۔ دسمبر کا آغاز ہوتے ہی درجۂ حرارت نقطۂ انجماد سے کئی درجے گر جاتا ہے ایسے میں خصوصاﹰ غریب طبقے کے پاس ایک ہی آپشن رہ جاتا ہے کہ وہ سستی مگر طاقتور خوراک سے جسم کو گرم اور متحرک رکھیں اور ایسے میں بلوچی بسری جیسی سادہ غزا ان کی اس ضرورت کو پورا کرتی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔