گوگل پر سُپر سائیکل کو کیوں تلاش کیا جا رہا ہے؟

حالیہ برسوں میں ایک غیر معروف اصطلاح ’سُپر سائیکل‘ بہت زیادہ مقبول ہوتی جا رہی ہے۔ امریکی شہری مسلسل گوگل پر اس سُپر سائیکل کی کھوج میں مصروف ہیں۔

گوگل پر سُپر سائیکل کو کیوں تلاش کیا جا رہا ہے؟
گوگل پر سُپر سائیکل کو کیوں تلاش کیا جا رہا ہے؟
user

Dw

عالمی کاروباری دنیا میں دھات اور تیل کی قیمتوں میں بتدریج اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اس تناظر میں تاجر برادری اور بینکنگ کا شعبہ جلد ہی ایک نئی تجارتی کموڈٹی کے معروف ہونے کا اندازہ لگائے بیٹھے ہے۔ تجارتی حلقوں میں اس نئی کموڈتی یا شے کے مقبول ہونے کو سُپر سائیکل کا نام دیا گیا ہے۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ اس کاروباری شے کی مارکیٹ ابھرنے کے بعد اس کے دور رس اثرات برسوں قائم رہ سکتے ہیں۔

عالمی تجارتی منڈیوں میں مختلف اشیاء کی قیمتیں توقع کے مطابق بڑھ رہی ہیں اور اس کی ایک وجہ کورونا وبا کی ویکسین کے متعارف کرانے کے بعد مالی منڈیوں میں پائی جانے والی تیزی اور حکومتوں کی جانب سے اخراجات میں اضافہ کے لیے مالی امدادی پیکیجز کا متعارف کرانا ہے۔

کورونا سرنگ کے اختتام پر روشنی

کورونا وبا کے ابتدائی دنوں میں کہا جاتا تھا کہ کورونا کی مہلک وبا کے اختتام پر امید کی کرن موجود ہے، جسے ویکسین سے تعبیر کیا گیا تھا۔ اب جب کہ اس متعدی و مہلک مرض کیور ویکسین سامنے لائی جا چکی ہے اور ویکسینیشن بھی جاری ہے۔ ایسے حالات میں کورونا کے دور میں امیدکی کرن سے مراد اقتصادی سرگرمیوں کی بحالی اور معاشی ہلچل کو سمجھا جا رہا ہے۔

ایک تجارتی تجزیاتی گروپ اوناڈا (ONADA) کے تجزیہ کار ایڈورڈ مویا کا کہنا ہے کہ عالمی اقتصادی ریکوری کی قیادت چین کر رہا ہے اور اس باعث لوہے، تانبے اور خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کا رجحان پیدا ہے اور رواں برس یہ صورت حال ایسی ہی رہنے کا قوی امکان ہے۔ مویا کا خیال ہے کہ چین اقتصادی ریکوری میں پہلے امریکا اور پھر یورپ کو پچھاڑ دے گا۔

تانبے کی اہمیت

تجارتی منڈیوں میں تانبے کی غیر معمولی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کرتا۔ اس کی اہمیت کی وجہ سے ماہرین اسے 'ڈاکٹر کاپر‘ کہتے ہیں اور اس کی ڈاکٹریٹ اکنامکس میں ہے۔ ان ماہرین کا خیال ہے کہ کاپر دھات کی یہ خاصیت ہے کہ یہ کسی بھی وقت مالی و تجارتی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ پیدا کر سکتی ہے۔ گزشتہ برس مارچ سے عالمی اقتصاد کا اسی فیصد سے زائد انحصار تانبے یا کاپر پر ہے۔

تانبے کے ایک ٹن کی کم سے کم قیمت بھی ساڑھے آٹھ ہزار ڈالر کے لگ بھگ رہی ہے۔ سن 2012 کے بعد تانبے کی قیمت میں اضافے کی صورت حال دیکھی گئی ہے۔ تانبے کی ضرورت گھریلو سامان سے لیکر کارخانوں میں کھپت اور موبایل فونز سے بجلی کی سپلائی لائنوں تک میں پائی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ لوہے اور نکل جیسی دھاتوں کی قیمتوں میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

سُپر سائیکل کیا ہے؟

سُپر سائیکل سے مراد ایسی تجارتی شے جس کی طلب کا دائرہ دیگر اشیا کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوتا ہے اور اس باعث اس کی قیمت بھی بلند رہتی ہے۔ ایسی کموڈٹٰی یا شے کی طلب میں کمی بھی ممکن ہے اور پھر یہ اس کی انتہائی زیادہ قیمت میں زوال کا سبب بھی ہوتا ہے۔ دھاتوں کی طلب کی یہ صورت حال انیسویں سے بیسویں صدی کے عرصے میں امریکا اور پھر عالمی جنگوں کے بعد یورپی اقوام بشمول جاپان میں دہائیوں تک دیکھی گئی۔

سن 1997 کے قریب چار اقوام میں دھاتوں کی مانگ واضح انداز بڑھی ہے۔ سپر سائیکل کی یہ صورت حال ابھرتی اقتصادیات کے حامل ممالک میں دیکھی گئی۔ ان میں چین کے علاوہ بھارت، برازیل اور روس شامل ہیں۔ یہ واضح ہوا کہ سپر سائیکل سے مراد ایسی صورت حال جس میں صنعتی عمل کی بے پناہ افزائش اور شہروں کا پھیلاؤ ہوتا ہے۔ اس وقت چین کو دنیا بھر کی فیکٹری قرار دیا جاتا ہے۔ سن 2015-16 میں تجارتی اشیاء کی قیمتوں میں کمی کے دوران بھی چین نے اپنا معاشی توازن خراب نہیں ہونے دیا تھا۔

سبز صنعتی انقلاب

تجزیہ کار منتظر ہیں کہ مجوزہ سبز صنعتی انقلاب کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ اس انقلاب کے سرخیل امریکا اور برطانیہ خیال کیے جاتے ہیں۔ ان کے ساتھ کئی اور ملک بھی شامل ہیں۔ یورپی یونین بھی اس صف میں موجود ہے۔ یہ انقلابی صورت حال کووڈ انیس کی وبا کے بعد دیے جانے والے مالی امدادی پیکجز کا نتیجہ ہے تا کہ ان سے ایسی کموڈٹیز (اہم تجارتی) اشیا کی طلب میں اضافہ ہو سکے، جو ماحول کے بہتر بنانے کے لیے اہم ہیں۔

اس میں خاص اہمیت توانائی کے شعبے کو حاصل ہے۔ ایک انرجی کمپنی ووڈ میکنزی کے سینیئر تجزیہ کار سائمن فلاور کا کہنا ہے کہ اگلے بیس برسوں میں توانائی سیکٹر میں کئی اقوام چالیس ٹرلین ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کی خواہش رکھتی ہیں۔ اس تناظر میں سبز اقتصاد کے حصول میں کاپر اور فولاد کی طلب بہت بڑھ جائے گی۔

فلاور کا کہنا ہے کہ اس تناظر میں الیکٹرک کاروں کی مانگ کی وجہ سے نِکل، کوبالٹ اور لیتھیم جیسی دھاتوں کو بھی عالمی تجارتی منڈیوں میں غیر معمولی اہمیت حاصل ہو جائے گی۔ فلاور کا یہ بھی کہنا ہے کہ تیل و گیس کی قیمتوں میں اضافہ حیران کن ضرور ہے لیکن ابھی سپر سائیکل کا تعین کرنا قدرے مشکل ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next