بچوں کے ساتھ زیادتیوں کے معاملہ میں اسرائیل اور سعودی عرب کو بلیک لسٹ میں کیوں شامل نہیں کیا گیا؟

اقوام متحدہ کی ایک نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سن 2020 میں مختلف متنازعہ خطوں میں بچوں کے اغوا، ریپ، اور دیگر جنسی تشدد کے واقعات میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔

فائل تصویر آئی اے این ایس
فائل تصویر آئی اے این ایس
user

Dw

اقوام متحدہ نے پیر 21 جون کے روز جو رپورٹ جاری کی ہے اس کے مطابق گزشتہ برس دنیا کے مختلف متنازعہ علاقوں میں بچوں کے اغوا اور ان کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات میں زبردست اضافہ درج کیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انٹونیو گوٹیرس نے دنیا کے جن متنازعہ خطوں میں مسلح جد و جہد چل رہی ہے وہاں کے بچوں سے متعلق ایک رپورٹ سلامتی کونسل میں پیش کی ہے۔ اس میں بچوں کے قتل، اعضا کاٹنے، ان کے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتیاں، جبراً بھرتی یا اغوا کرنے، نیز اسکولوں اور ہسپتالوں پر ہونے والے حملوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔


اقوام متحدہ میں مسلح تنازعات اور بچوں کی امور کی خصوصی نمائندہ ورجینیا گامبا نے اس حوالے سے ایک بیان میں کہا، ''سن 2020 میں حیرت انگیز طور پر اغوا جیسی خلاف ورزیوں میں 90 فیصد کا اضافہ ہوا جبکہ ریپ اور جنسی تشدد کی دیگر اقسام میں 70 فیصد کا اضافہ درج کیا گیا ہے۔''

اس رپورٹ میں 21 علاقوں کے تقریباً سوا 19 ہزار بچوں کے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتیوں کے واقعات کی تفصیلات جمع کی گئی ہیں۔ اس کے مطابق گزشتہ برس ایسے متنازعہ علاقوں میں تقریباً ساڑھے آٹھ ہزار بچوں کو بطور فوجی استعمال کیا گیا جن میں سے دو ہزار 674 ہلاک ہوگئے جبکہ پانچ ہزار 784 لڑائی میں زخمی ہوئے۔


جنوری 2020 سے دسمبر تک صومالیہ، ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو، افغانستان، شام اور یمن جیسے ملکوں میں سب سے زیادہ بچوں کے ساتھ زیادتیاں ہوئیں۔ اس رپورٹ میں ایک بلیک لسٹ کو بھی شامل کیا گیا تاکہ ایسے متنازعہ علاقوں کے گروپوں کو اس کے لیے شرمندہ کیا جا سکے جس سے کہ وہ اپنے علاقوں میں بچوں کے تحفظ سے متعلق اقدام کرنے پر مجبور ہوں۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے بچوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے لیے اسرائیل اور سعودی عرب کو بلیک لسٹ میں شامل نہ کرنے کے لیے اقوام متحدہ پر نکتہ چینی کی ہے۔ حالانکہ رپورٹ میں بچوں سے متعلق جرائم کے لیے ان ملکوں کی تفصیلات بھی شامل کی گئی ہیں تاہم اس کی بلیک لسٹ میں ان کا نام نہیں ہے۔


اسرائیل تو پہلے بھی اس فہرست میں شامل نہیں تھا۔ سعودی عرب کی قیادت میں فوجی اتحاد کو یمن میں بچوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے لیے اس لسٹ میں شامل کر کے اسے شرم سار کیا جا چکا ہے تاہم اس بار کی فہرست سے اسے نکال دیا گیا ہے۔

سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ اس فہرست میں شامل ہونے سے بچنے کے لیے اسرائیل اور سعودی عرب دونوں نے ہی اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کر کے دباؤ ڈالا تاکہ اقوام متحدہ کی بلیک لسٹ میں ان کا نام نہ آنے پائے۔ اس حوالے سے نئی فہرست میں میانمار کی فوج اور شامی حکومت کے فورسز کا نام شامل کیا گیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔