واہ رے سماج: کردار تو صرف عورت کا ہی کمزور ہو سکتا ہے

ہمارے معاشرے میں بہت سے مرد حضرات کا مذہب سے مزاح، بس چار شادیوں کی اجازت کے اردگرد ہی گھومتا نظر آتا ہے۔ اس کا مقصد عام طور پر سنت کو یاد رکھنا نہیں بلکہ عورت کو کمتر ظاہر کرنا ہوتا ہے۔

چار کی اجازت ہے!
چار کی اجازت ہے!
user

Dw

فجر کی نماز کی دو سنتیں یاد رہیں نہ رہیں، چار شادیوں کی اجازت ہر عمر میں یاد رہتی ہے، جسے وہ ہر گفتگو میں شامل کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ جنسی تعصب پر مبنی مزاح ہمارے معاشرے کا اتنا ہی لازمی جزو ہے، جتنا شاید کرکٹ۔

اگر بات صرف مذہبی اجازت کی ہے تو بیک وقت نہ سہی مگر دوسری، تیسری یا چوتھی شادی کی اجازت تو طلاق یافتہ يا بیوه خواتین کو بھی ہے۔ اگر خواتین یہی اصطلاحات مذاق میں استعمال کرتی نظر آئیں تو معاشرے کے زیادہ تر حصے کو یہ قطعاً ہضم نہ ہو سکے۔ جس طرح ایک سے زیادہ شادی کرنے والے مرد حضرات کو خوش نصیب اور عورت کو بیچاری قرار دیا جاتا ہے، یہ اس پہلو کی ایک واضح دلیل ہے۔


کسی کا اپنی بیوی پر کتنا رعب ہے اور کون کتنا ڈرتا ہے؟ ہمارے مزاح کا خلاصہ بن کے رہ گیا ہے۔ انتہائی نازک انا کے حامل مرد حضرات ساری عمر طلاق کی دھمکی دے کر اپنی غیرت کو تھپکتے رہتے ہیں اور خواتین کو نیچا دکھا کر کوئی مخصوص اطمینان حاصل کرتے ہیں۔

مجھے یاد ہے کہ میرے بچپن سے ایک صاحب اکثر لوگوں کو بتاتے تھے کہ انہوں نے اپنی پہلی بیوی کو کس کس وجہ سے گھر سے نکالا تھا۔ ان کی شادی تو درحقیقت تو ایک ہی دفعہ ہوئی تھی مگر اس فرضی بیوی کو گھر سے نکالنے کی مختلف وجوہات انہیں شاید مردانگی کے اونچے مقام پر لے جاتی تھیں، جیسے وہ بیوی ، خاتون یا کسی انسان کی نہیں بلکہ کسی استعمال شدہ پرانی اور بے جان چیز کی بات کر رہے ہوں۔ بچپن سے سنی ہوئی ان کہانیوں کی منطق میں آج تک سمجھ نہیں پائی۔


خاتون کو انسان نہیں بلکہ کسی بے جان شے کے مترداف جان کر کسی بھی مزاح کا حصہ بنانا ایک عام فعل ہے اور میڈیا میں تو عام پایا جاتا ہے، جہاں ہر اشتہار سے ہر پروگرام تک اس کے گرد گھومتا نظر آتا ہے۔ اشتہار چاہے موٹر سائیکل کا ہو یا شیونگ کریم کا، کچھ ایسا ہی منظر دیکھنے کو ملتا ہے۔ ہمارے افسانوں اور فلموں کے مطابق بھی ہیرو وہی ہے، جو لڑکی کے انکار کے باوجود اس کے پیچھے ہی رہتا ہے۔

ہم ویسے تو خواتین کو حراساں کرنے کی مذمت کرتے ہیں مگر اتنی ہی آسانی سے روزمرہ کی گفتگو میں نشانہ بھی بنا لیتے ہیں۔ چھیڑ چھاڑ اور بھونڈی آوازیں کسنا انتہائی معیوب تو سمجھتے ہیں مگر عام لطائف انہی کے اردگرد گردش کرتے ہیں اور فلم و ڈرامہ بھی اس کی بڑھاوا دیتا ہے۔


ڈرامے سے لے کر نجی محافل تک وہ مرد ہیرو سمجھا جاتا ہے، جو یہ کہہ سکے کہ دفتر اور حلقہ احباب میں وہ خواتین میں کس قدر مقبول ہے یا اس کی کتنی گرل فرینڈز ہیں؟ چاہے ان تمام دعوؤں کا حقیقت سے دور دور تک کوئی تعلق نہ ہو مگر کہنے میں کیا حرج ہے؟

اگر آپ بھی پڑھ کر یہ سوچ رہے ہیں کہ اس میں کیا برائی ہے تو ذرا کچھ لمحوں کے لیے یہی صورتحال کسی خاتون پر لاگو کر کے سوچیے! اگر کوئی خاتون مرد حضرات میں اپنی مقبولیت یا بوائے فرینڈز کا ذکر کرے تو اس کے کردارکی دھجیاں اڑانے کے لیے شاید کچھ لمحے بھی درکار نہیں ہوں گے۔ ظاہر ہے کہ قصوروار تو خاتون ہی ہو گی اور ارد گرد کے مرد حضرات کردار کے کسی بلند درجے پر ہی فائز رہیں گے۔ کردار تو عورت کا ہی کمزور ہو سکتا ہے چاہے وجہ مرد کی مقبولیت ہو یا مرد کی دلچسپی۔ یہ وہ جنسی تعصب ہے، جو ہم آج تک ماننے کو تیار ہی نہیں ہوئے۔


کسی حد تک یہ تعصب مردوں کو کمتر ثابت کرنے کے لیے بھی پایا جاتا ہے۔ کوئی بیچاره مرد اپنے ہی گھر کے کسی کام میں مدد کر دے تو وہ زن مرید قرار دے دیا جاتا ہے کیونکہ آخر ساری مردانگی عورت سے کام کروانے کے پیچھے ہی تو چھپی ہے۔

بات کھیل کے میدان کی ہو تو لڑکیوں کی طرح کھیلنا، لڑکیوں کی طرح بھاگنا عام اصطلاحات ہیں۔ بات روز مرہ گفتگو کی ہو تو لڑکیوں کی طرح رونا شاید ہر گھر میں ہی استعمال ہونے والی اصطلاح ہے۔ ایسی باتوں میں تعصب مرد وعورت دونوں کے لیے پایا جاتا ہے۔ ہم مردوں کو جذبات کے اظہار کی اجازت نہیں دے رہے اور ساتھ ہی خواتین کو بھی کمتر ثابت کر رہے ہیں کہ ان کی طرح کچھ بھی کرنا بہرحال کمتری کی ہی نشانی ہے۔


کچھ عرصہ پہلے تک ایسا مزاح شاید پھر بھی کچھ محدود تھا مگر سوشل میڈیا کی مہربانی سے یہ اب ہر جگہ نظر آتا ہے اور قابل قبول بھی سمجھا جاتا ہے۔ واٹس ایپ کے سٹیٹس سے انسٹاگرام تک کچھ بھی معیوب نہیں سمجھا جاتا۔ ابھی حال ہی میں جب نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم نے سکیورٹی خدشات کے پیش نظر دورہ پاکستان ملتوی کیا تو ایسے لطائف عام پائے گئے، جہاں خواتین کو ورزش کرتا دیکھنے کے لیے پولیس اہلکار جمع تھے اور سکیورٹی کی گہری نظر پر مزاح بالکل معیوب نہیں تھا۔ دھچکا تو تب لگتا ہے، جب یہ لطائف پڑھے لکھے، باشعور لوگ بھی شیئر کرتے نظر آتے ہیں۔

جنسی تعصب کا شکار تو سب سے زیادہ خواجہ سرا ہیں مگر اس موضوع پر بات کرنے کے لیے تو شاید ابھی میرے الفاظ بھی اتنے شرمنده ہیں کہ کچھ کہہ نہیں پائیں گے۔ الله کی اس مخلوق کو تو ہم نے کبھی انسان کا درجہ ہی نہیں د يا، عزت دینا تو بہت دور کی بات ہے۔


ابھی بس اتنا ہی کہ سن 2021 میں اگر ہم کچھ باشعور ہونے کا دعوی کرتے ہیں اور پڑھی لکھی اقوام میں شمار ہونا چاہتے ہیں تو پہلے قدم کے طور پر اس تعصب کے خاتمے کے لیے ہمیں کم از کم ایسے مزاح اور جملوں پر تالی بجانے اور انہیں مزید بڑھاوا دینے سے پر ہیز کرنا ہو گا۔ دوسرے بہت سے ممالک میں بھی عام گفتگو سے لے کر فلموں اور مختلف پروگراموں تک یہ مزاح پایا جاتا تھا مگر وقت کے ساتھ ساتھ اب اس کا سوال بھی پیدا نہیں ہوتا۔ ہمیں بھی اس راہ پر چلنے کی ضرورت ہے، جو معاشرے میں اور نئی نسل میں سلجھاؤ کے لیے ایک اہم کاوش ثابت ہو سکتی ہے۔

نوٹ: ڈی ڈبلیو اُردو کے کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں ظاہر کی گئی رائے مصنف یا مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے متفق ہونا ڈی ڈبلیو کے لیے قطعاﹰ ضروری نہیں ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 30 Dec 2021, 7:11 AM