دائیں بازو کے شدت پسندوں کی ’ورچوئل دنیا‘

جرمن شہر ہالے میں سامیت دشمن حملہ مبینہ طور پر ایک انفرادی کارروائی تھا مگر حملہ آور ایک ڈیجیٹل کمیونٹی کا حصہ تھا۔ دائیں بازو کے شدت پسندوں کی ڈیجیٹل دنیا کیسی ہے؟

دائیں بازو کے شدت پسندوں کی ورچوئل دنیا
دائیں بازو کے شدت پسندوں کی ورچوئل دنیا

ڈی. ڈبلیو

جمعرات دس اکتوبر کو جرمن ہالے شہر کی ایک یہودی عبادت گاہ پر حملے کو ابھی چوبیس گھنٹے بھی نہیں گزرے تھے، ایک لڑکا اپنے کمپیوٹر کے سامنے بیٹھا چیٹنگ کر رہا تھا۔ وہ کمپیوٹر گیمر ہے اور اس کا 'ٹویچ‘ (Twitch) پر اپنا ایک چینل بھی ہے۔ یہ وہی پلیٹ فارم ہے، جسے یہودی معبد پر حملہ کرنے والے ملزم اسٹیفن بی نے اپنی اس خونریزی کارروائی کو براہ راست نشر کرنے کے لیے ایک روز قبل استعمال کیا تھا۔

عام طور پر یہ گیمر ٹویچ کو اپنی ہی طرح کے دوسرے لوگوں سے جان پہچان کے لیے استعمال کرتا ہے۔ اس کے مطابق، ''میں نے کبھی یہ سوچا ہی نہیں تھا کہ یہاں ایسا کوئی واقعہ پیش آئے گا۔ کوئی اس طرح کا پاگل پن کرے گا۔ میں نے سوچا کہ آج ہم کھیلیں گے نہیں بلکہ باتیں کریں گے۔‘‘

اس کمپیوٹر گیمر کا تعلق بھی ہالے شہر سے ہی ہے۔ اس نے حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا،'' وہ میرے جیسا ہی تھا۔ وہ ٹویچ پر لائیو اسٹریمنگ کر رہا تھا۔ اس کا اپنا ایک اکاؤنٹ بھی تھا۔‘‘

اس حملہ آور کے ٹویچ پر بیس ہزار سے زائد فالوورز تھے۔ اس نے اس ویب سائٹ پر دو ماہ قبل ہی اپنا اکاؤنٹ بنایا تھا۔ اس نے یہ اکاؤنٹ اپنی اس مجرمانہ کارروائی کو لائیو دکھانے کے لیے ہی بنایا تھا۔ اس حملے سے قبل اسٹیفن نے اپنے اس اکاؤنٹ کو صرف ایک مرتبہ ہی استعمال کیا تھا۔

ٹویچ کا تعلق ایمیزون سے ہے اور ایمیزون نے تیس منٹ بعد ہی اس ویڈیو کو ہٹا دیا تھا۔ تاہم اس سے قبل تقریباً بائیس سو افراد اس ویڈیو کو دیکھ چکے تھے جبکہ پانچ نے اسے براہ راست دیکھا تھا۔

ورچوئل حمایت

حملہ آور اسٹیفن بی نے اپنی اس کارروائی سے قبل انٹرنیٹ پر ایک دستاویز بھی جاری کی تھی کہ وہ اس واقعے کو زیادہ سے زیادہ پھیلانا چاہتا تھا تاکہ جبر و تشدد کے شکار دیگر سفید فام افراد کے حوصلے بلند کیے جا سکیں۔ یہ دستاویز انگریزی میں تحریر کی گئی تھی اور اس پر انگلش میں ہی چند کومنٹ بھی لکھے گئے تھے۔

دائیں بازو کی شدت پسندی سے متعلقہ امور کے تحقیقی ماہر ماتھیاس کوئنٹ کے خیال میں انٹرنیٹ کے ذریعے ہالے کے حملہ آور نے دنیا بھر کے دائیں بازو کے شدت پسندوں کو مخاطب کیا، ''اس کی کوشش تھی کہ وہ بین الاقوامی سطح پر نفرت پھیلانے والوں، سامیت دشمنوں اور ان نسل پرستوں تک پہنچے، جو انٹرنیٹ اور سماجی رابطوں کی دیگر ویب سائٹس کے ذریعے یہی کام کر رہے ہیں۔ وہ انہیں متاثر کرنا چاہتا تھا اور انہیں اسی طرح کی کارروائی پر اکسانا بھی چاہتا تھا، خاص طور پر یہودیوں کو قتل کرنے کے لیے۔‘‘

اسٹیفن بی نے مبینہ طور پر یہ کارروائی تنہا ہی کی لیکن اس کے باوجود کوئنٹ کا دعویٰ ہے کہ یہ لوگ تنہا نہیں ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ ایک نظریاتی تحریک کا حصہ ہیں اور یہ سماجی تبدیلی کے عمل کا بھی حصہ ہیں، ''یہ لوگ زمین پر نہیں بلکہ ورچوئل دنیا میں سرگرم ہیں۔‘‘

سیاسی امور کے ماہر ژینس راتھیے کے مطابق دائیں بازو کے شدت پسندوں نے انٹرنیٹ کو بالکل اس طرح سے سمجھا ہے کہ یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے، جہاں بین الاقوامی نیٹ ورکنگ اور کمیونیکیشن کی دنیا میں سرحدوں کی بندش بہت کم ہے۔

ع ا / م م (ماتھیاس فان ہائن )

Published: 13 Oct 2019, 8:02 AM