ڈیجیٹل اسپیس اور ضابطہ اخلاق، معلومات کی ترسیل مگر ۔۔۔

ڈیجیٹل میڈیا نئے دور کا اہم ذریعہ ابلاغ ہے، جس میں پیغامات میں الفاظ کے علاوہ مختلف اشکال کی تصاویر، ویڈیوز اور آواز کے ذریعے احساسات کو بھی منتقل کیا جاتا ہے۔ یہ پوسٹس ذہنوں پر گہرے اثرات چھوڑتی ہیں۔

فائل تصویر آئی اے این ایس
فائل تصویر آئی اے این ایس
user

Dw

حالیہ عرصے میں دیکھا گیا ہے کہ ڈیجیٹل اسپیس پر ٹرولنگ ایک نیا مشغلہ بن کر سامنے آیا ہے۔ کوئی پوسٹ پبلش کرتے وقت اخلاقی طور پر مختلف ممکنہ طریقوں کو ذہن میں نہیں رکھا جاتا۔ سوشل میڈیا کا سہارا لے کر دوسروں کا تمسخر اڑانا، طنز کرنا اور غیر اخلاقی زبان کے استعمال کا رجحان تیزی سے بڑھ رہے ہیں جو اخلاقی پسماندگی اور غیر مہذب رویوں کو جنم دے رہے ہیں۔

معلومات ضرور پہنچائیں لیکن ذمہ داری کے ساتھ

وقت کے ساتھ ساتھ لوگوں میں سب سے پہلے خبر دینے یا معلومات شیئر کرنے کا رجحان بڑھنے کے باعث عام صارفین ایسا مواد بھی سوشل میڈیا پر پوسٹ کر دیتے ہیں، جس سے کسی کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ مثال کے طور پر پہلے اخباروں میں کسی مجرمانہ اقدام کی خبر شائع کرتے وقت متاثرہ شخص کے نام کا صرف پہلا حرف لکھا جاتا تھا اور اس کی تصویر نہیں چھاپی جاتی تھی۔ اب لیکن بریکنگ نیوز کی دوڑ میں سوشل میڈیا پر نام کے ساتھ ساتھ پورا بائیو ڈیٹا اور بہت سی غیر مصدقہ معلومات بھی شائع کر دی جاتی ہیں۔


سینئر صحافی اور اینکرز بھی کئی بار جلدی میں کسی خبر پر تبصرہ کر دیتے ہیں، کوئی تصویر یا ویڈیو شیئر کر دیتے ہیں اور بعد میں پتا چلتا ہے کہ وہ تصویر، ویڈیو یا خبر جعلی تھی۔ اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ رویوں سے وہ عوامی اعتماد سے محروم ہو جاتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر معلومات شیئر کرنے کے حوالے سے سینئر صحافی اور اینکر پرسن عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کہ ہر صحافی کو سوشل میڈیا پر کوئی خبر شیئر کرتے ہوئے چند باتوں کا لازمی خیال رکھنا چاہیے تاکہ وہ جو کچھ پوسٹ کریں، اس کی تردید سامنے نہ آئے۔


عاصمہ شیرازی نے ڈی ڈبلیو اردو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا، ’’خبر کی تصدیق کے لیے دستاویزات ساتھ ہوں تاکہ ساکھ بھی قائم رہے اور اس پر اگر ٹرول بریگیڈ سامنے آئے، تو آپ کم از کم اسے جواب دے سکیں۔ صحافیوں کو تو ویسے بھی بہت ذمہ دار ہونا چاہیے اور سوشل میڈیا پر خاص طور پر زیادہ ذمہ داری کا مظاہر کرنا چاہیے کیونکہ یہ میڈیا اتنا قابل اعتبار نہیں ہے۔‘‘

پرائیویسی کا احترام

پوچھے بنا کسی کی چیز استعمال کرنے کو ہر معاشرے میں غیر اخلاقی سمجھا جاتا ہے۔ بہت سے افراد سوشل میڈیا پر دوسروں کی شائع کردہ ویڈیوز اور تصاویر کو استعمال کرتے وقت پوچھنا بھی گوارا نہیں کرتے۔ خواتین اور بچوں پر تشدد اور انہیں ہراساں کرنے جیسے واقعات کی بھی ویڈیوز پوسٹ کر دی جاتی ہیں جبکہ عام سوشل میڈیا صارفین، یہ سوچے سمجھے بنا کہ کسی مظلوم اور اس کے خاندان پر اس بات کا کیا اثر پڑے گا، ایسی تصاویر اور ویڈیوز کو وائرل کر دیتے ہیں۔ نور مقدم قتل کیس اور زینب زیادتی کیس سوشل میڈیا پر ایسے ہی سماجی رویوں کی دو بڑی مثالیں ہیں۔


بائٹس فار آل کے ڈیجیٹل رائٹس ایکٹیوسٹ ہارون بلوچ نے اس بارے میں ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ سوشل میڈیا نے عوام کو جہاں کئی معاملات میں بااختیار بنایا ہے، وہیں پر عام لوگوں کی طرف سے سوشل میڈیا کا غلط استعمال بھی ایک بہت بڑا چیلنج بن کر سامنے آیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’اس غلط استعمال میں ایک دوسرے کو گالی دینا، مذہبی یا نسلی بنیادوں پر عوام کو تشدد پر اکسانا، خواتین، صحافیوں اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والوں کا آن لائن تعاقب کرنا اور انہیں ہراساں کرنا بھی شامل ہیں۔ پاکستان میں ان سب جرائم کے حوالے سے مؤثر قانونی سازی 2016ء میں کی گئی تھی۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ مقصد جن جرائم کا تدارک تھا، وہ آج بھی معاشرے میں ویسے کے ویسے ہی موجود ہیں۔ اس قانون کے ذریعے اب زیادہ تر صرف جائز تنقید کرنے والوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔‘‘

حکومتی اداروں کا کردار

ہارون بلوچ کہتے ہیں، ’’میری رائے میں قوانین کی افادیت اپنی جگہ ہو گی، مگر زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ عوام کو سوشل میڈیا کے درست استعمال کے بارے میں آگاہ کرنے میں ہماری حکومتوں کا کردار کتنا مؤثر ہے؟ اس سوال کا جواب ہے، بالکل بھی نہیں۔ عوام بالخصوص نوجوان طبقہ جو انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا سے زیادہ جڑا ہوا ہے، اسے آگہی کی ضرورت ہے۔ اس لیے کہ پاکستان میں پندرہ سے پینتیس سال تک کی عمر کے لوگ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کا استعمال زیادہ کرتے ہیں۔ انہیں باشعور بنانے میں حکومت اور حکومتی اداروں کا کردار کلیدی اہمیت کا حامل ہے، تاکہ ان پر واضح کیا جا سکے کہ معاشرہ ان سے کس قسم کے تعمیری رویوں کی توقع کرتا ہے۔‘‘


ڈیجیٹل میڈیا پر غیر اخلاقی رویوں اور فیک نیوز کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے معاشرے میں سماجی مکالمہ اور تبادلہ خیال بنیادی باتیں ہیں۔ لیکن پاکستان میں عملاﹰ صورت حال کیا ہے، اس بارے میں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری کہتے ہیں، ’’ہمارے ہاں شدت پسند طبقے کا نقطہ نظر یہ ہے کہ اس نے بات چیت ہونے ہی نہیں دینا۔ یہ طبقہ سمجھتا ہے کہ جو اس کی اپنی رائے ہے، بس وہی حتمی ہے۔ پھر جو کوئی بحث کرے، اس پر فتویٰ لگا دیں۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔