فرانس: کو ڈی زور میں یوکرینی ارب پتیوں کی مہاجر کالونی

یوکرین پر روس کے حملے سے پہلے روس نواز ارب پتی، اقتدار پر حاوی امرا طبقے کے افراد اور یوکرین کے اراکین پارلیمان فرار ہو کر فرانس کے سیاحتی مقام کو ڈی زور پہنچ چُکے تھے۔

فرانس: کو ڈے زور میں یوکرینی ارب پتیوں کی مہاجر کالونی
فرانس: کو ڈے زور میں یوکرینی ارب پتیوں کی مہاجر کالونی
user

Dw

یوکرین پر روس کے حملے سے پہلے ہی یوکرینی پارلیمان کے اراکین، روس نواز کروڑ پتی شخصیات یوکرین سے فرار ہو کر فرانس میں از سر نو اپنا نیٹ ورک قائم کرنے لگے تھے۔

کییف پر روسی راکٹ حملوں کی وجہ سے ٹیٹژانا سپیان کو بار بار انٹرویو ملتوی کرنا پڑا۔ تاہم یوکرین اسٹیٹ بیورو آف انویسٹی گیشن کی ترجمان بار بار اس بات پر زور دیتی ہیں کہ وہ مکمل طور پر وسیع معلومات فراہم کرنا چاہتی ہیں۔ یوکرین کے اس تفتیشی دفتر کا موازنہ امریکی ایف بی آئی یا جرمن فیڈرل کریمنل پولیس آفس سے کیا جا سکتا ہے۔


اور یہ تحقیقات یوکرین کے لیے کسی دھماکے سےکم نہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب یوکرین میں روسی حملے کی وجہ سے بڑے پیمانے پر جانی نقصان کے ساتھ ساتھ دس ملین لوگ لوگ ملک کے اندر اور باہر نقل مکانی کر نے پر مجبور ہیں، میڈیا کی یہ رپورٹیں غیر معمولی اہمیت کی حامل ہیں کہ چند یوکرینی ارب پتی افراد اپنے خاندانوں کے ساتھ ملک سے باہر ہیں۔ ان میں سے کچھ تو 24 فروری کو روسی حملے کے آغاز سے عین پہلے ملک سے فرار ہو کر فرانس پہنچ گئے تھے۔

فرانس کی خوبصورت وادیاں اور یوکرینی ارب پتی

فرانس کے انتہائی پُر فضا اور مشہور سیاحتی علاقے کو ڈے زور سے کوئی 18 سوُ کلومیٹر کے فاصلے پر نگاہوں کو حیران کردینے والے مناظر دکھائی دے رہے ہیں۔ یہاں یوکرینی نمبر پلیٹس والی لگژری لیموزین گاڑیوں کی تعداد مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔ یہ منظر یوکرین پر روس کے حملے سے پیدا ہونے والے مصائب سے بھرپور حالات کی خبروں اور رپورٹوں میں نظر آنے والی ناگفتہ بہ صورتحال سے کسی طور مطابقت نہیں رکھتی بلکہ اُس کے بالکل اُلٹ ہے۔


نقدی سے بھرے سوٹ کیس

یوکرین کے ایک بلاگر کی طرف سے نقدی سے بھرے کئی سوٹ کیسوں کی ایک تصویر وسیع پیمانے پر شیئر کی گئی ہے۔ ان میں 17 ملین امریکی ڈالر اور ایک ملین یورو سے زیادہ اضافی نقدی موجود ہے جو ہنگری کے کسٹم حکام کو یوکرین سے آنے والی لگژری لیموزین گاڑیوں میں ملی۔ یوکرین سے روانگی کے وقت انہیں یوکرینی کسٹم حکام کے سامنے پیش نہیں کیا گیا تھا۔ یاد رہے کہ پورپی سرحد پار کرتے وقت 10 ہزار یورو سے زائد نقد رقم لے جانے کی اجازت نہیں ہے۔

تفتیش کارٹیٹژانا سپیان نے تصدیق کی کہ ان کا محکمہ کئ مہینوں سے اس بارے میں تفتیش کر رہا ہے۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''جن لوگوں کو ریاستی تفتیشی ایجنسی نے چیک کیا، ان میں ریاستی و کاروباری نمائندے، سابق عدالتی ملازمین اور یہاں تک کہ پارلیمانی اراکین بھی شامل تھے۔ اس بات کی چھان بین کی جا رہی ہے کہ آیا ان افراد نے ''قانونی طور پر سرحد پار کی تھی اور کیا وہ منی لانڈرنگ میں ملوث تھے۔‘‘


ستمبر کے وسط سے اب تک 80 سے زیادہ لوگوں کے خلاف تفتیش کی جا چکی ہے اور اب بھی چند درجن کی چھان بین باقی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب یوکرینی جنگ ایک اہم مرحلے پر ہے، تفتیش کار اپنے آپ کو ایک ایسے موضوع کے لیے وقف کر رہے ہیں جو یوکرین کے لیے بہت تکلیف دہ ہے۔ یہ ملک میں کرپشن کا موضوع ہے۔ یہ وہ بدعنوانی ہے جو اس ملک میں مختلف گروپوں، نیٹ ورکس کے اہم کرداروں اور دیگر عناصر میں سرایت کی ہوئی ہے اور کرپشن میں ملوث ان تمام افراد کے روس کے ساتھ گہرے رابطے ہیں۔

بین الاقوامی وارنٹ گرفتاری

یوکرین سے تعلق رکھنے والے دو انتہائی امیر 'جنگی پناہ گزینوں‘ کے لیے بین الاقوامی گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے گئے ہیں۔ لیکن تفتیش کارٹیٹژانا سپیان کو اس بارے میں کوئی امید نہیں کہ انہیں کبھی یوکرین کے حوالے کیا جائے گا۔ وہ کہتی ہیں،''ہم جانتے ہیں کہ اگر کسی شخص کے پاس بہت زیادہ پیسہ ہے تو وہ کسی کارروائی پر اثرانداز ہونے کے لیے اپنے پیسوں کا کچھ حصہ اس پر صرف کر دیتا ہے۔ نہ صرف یوکرین میں بلکہ بیرون ملک بھی۔‘‘


فرانس کے متعدد لگژری سیاحتی مقامات پر بڑے بڑے ولاز میں یوکرینی جلا وطن سابق پارلیمانی اراکین رہتے ہیں۔ یوکرین میں بدعنوانی کے امور پر گہری نظر رکھنے والے ایک ماہر سالیشنکو کے مطابق فرانس میں رہنے والے جلاوطن یوکرینی سابق اراکین پارلیمان میں سے کچھ وطن سے دور بیٹھ کر بھی قانون سازی اور ملک کی سیاست میں بہت زیادہ اثر انداز ہونے کے حامل ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔