ٹویٹر کے مالک ایلون مسک کا ٹرانس جینڈر 'بیٹا' اب 'لڑکی' بننا چاہتا ہے

ایلون مسک کے ٹرانس جینڈر 'بیٹے' زیویئر الیکزنڈر مسک نے اپنا نام اور صنف تبدیل کرنے کی درخواست دی ہے۔ وہ مرد کی جگہ اب نیا نام خاتون کے طور پر رجسٹرڈ کروانا چاہتے ہیں۔

ایلون مسک کا ٹرانس جینڈر 'بیٹا' اب 'لڑکی' بننا چاہتا ہے
ایلون مسک کا ٹرانس جینڈر 'بیٹا' اب 'لڑکی' بننا چاہتا ہے
user

Dw

ایلون مسک کے ٹرانس جینڈر 'بیٹے' نے اپنی نئی صنفی شناخت کے سلسلے میں اپنا نام تبدیل کرنے کی عدالت میں درخواست دائر کی ہے۔ انہوں نے نام تبدیل کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ "وہ اپنے فطری (بائیولوجیکل) والد کے ساتھ اب نہ تو رہنا چاہتی ہیں اور نہ ہی ان کے ساتھ کوئی رشتہ یا کسی طرح کا تعلق رکھنا چاہتی ہیں۔"

اٹھارہ سالہ الیکزنڈر مسک جسٹن ولسن کی بیٹی ہیں جنہوں نے سن 2008میں ایلون مسک سے طلاق لے لی تھی۔


الیکزنڈر مسک نے اپنی نئی صنفی شناخت کے لیے نام تبدیل کرنے اور نئے برتھ سرٹیفکیٹ کے اجراء دونوں کے لیے سانتا مونیکا کے اینجیلس کاونٹی عدالت میں یہ درخواست اپریل میں ہی دائر کی تھی۔ تاہم بعض آن لائن میڈیا رپورٹوں میں اب اس بات کا پتہ چلا ہے۔

آن لائن ویب سائٹ پلین سائٹ ڈاٹ او آر جی پر دستیاب عدالتی دستاویزات کے مطابق سابق زیویئر الیکزینڈر مسک نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ ان کی صنف اب مرد سے خاتون کے طور پر تسلیم کی جائے اور ان کا نیا نام رجسٹرکیا جائے۔


آن لائن دستیاب دستاویز میں ان کا نیا نام حذف کر دیا گیا ہے۔ ان کی والدہ جسٹس ولسن کا سن 2008میں ایلون مسک سے طلاق ہوگیا تھا۔

ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے سربراہ، ایلون مسک اور ان کی بیٹی کے درمیان اختلافات کے بارے میں مزید کوئی تفصیل سامنے نہیں آئی ہے۔ ایلون مسک ان دنوں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹوئٹر کو 44 ارب ڈالر میں خریدنے کی کوشش کررہے ہیں۔


روئٹرز کی جانب سے اس حوالے سے تبصرہ کے لیے بھیجی گئی درخواستوں کا ایلن مسک کے وکیل یا ٹیسلا کے میڈیا دفتر نے فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔

خیال رہے کہ نام اور صنف تبدیل کرنے کے لیے درخواست دیے جانے کے ایک ماہ بعد مئی میں مسک نے ری پبلیکن پارٹی کی حمایت کا اعلان کیا تھا، جس کے منتخب نمائندے ملک کی تمام ریاستوں میں ٹرانس جینڈروں کے حقوق کو محدود کرنے کے ایک مجوزہ مسودہ قانون کی حمایت کررہے ہیں۔


ٹرانس جینڈر افراد کی جانب سے اپنی صنف کو منتخب کرنے کے مسئلے پر ایلون مسک نے سن 2020میں ایک ٹوئٹ کیا تھا۔ انہوں نے لکھا تھا، "میں یقیناً ٹرانس جینڈروں کی حمایت کرتا ہوں لیکن یہ ضمائر جمالیاتی لحاظ سے ڈراونے خواب کے مانند ہیں۔"

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔