تقریبا دس فیصد خواتین کم از کم ایک بچہ کھو دیتی ہیں

دنیا بھر میں تقریباﹰ دس فیصد خواتین حادثاتی اسقاط حمل کے سبب اپنا کم از کم ایک بچہ کھو دیتی ہیں۔ دوران حمل اس طرح کے اسقاط کے خطرات کا سب سے زیادہ سامنا سیاہ فام خواتین کو کرنا پڑتا ہے۔

حادثاتی اسقاط حمل: تقریباﹰ دس فیصد خواتین کم از کم ایک بچہ کھو دیتی ہیں
حادثاتی اسقاط حمل: تقریباﹰ دس فیصد خواتین کم از کم ایک بچہ کھو دیتی ہیں
user

Dw

اس بارے میں دو برطانوی محققین اور ان کی تحقیقی ٹیم کی طرف سے کی گئی ریسرچ کے نتائج معروف طبی جریدے 'دی لینسیٹ‘ کے تازہ ترین شمارے میں شائع ہوئے۔ کوروناوائرس کی موجودہ وبا اور اس وائرس سے لگنے والی مہلک بیماری کووڈ انیس کی وجہ سے صحت سے متعلق بہت سے دیگر اہم موضوعات نظر انداز ہو رہے ہیں۔ انہی میں سے ایک موضوع عورتوں میں حادثاتی اسقاط حمل بھی ہے۔ اس تناظر میں نئی برطانوی ریسرچ نے اب اس اہم موضوع کی طرف توجہ مبذول کرائی ہے۔

'حادثاتی اسقاط حمل اہم مسئلہ‘ کے عنوان سے واروک یونیورسٹی کی پروفیسر سیوبھن کوئنبی اور برمنگھم یونیورسٹی کے پروفیسر آری کوماراسامی کی طرف سے مکمل کیے گئے اس مطالعاتی جائزے میں کہا گیا ہے کہ دنیا بھر میں ایسی بہت سی خواتین پائی جاتی ہیں جو دوران حمل اپنا کم از کم ایک بچہ کھو بیٹھتی ہیں۔ اس تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال حادثاتی اسقاط حمل کے 23 ملین واقعات رونما ہوتے ہیں۔


عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او کے مطابق دنیا بھر میں جتنی بھی مائیں اپنے بچے کھو دیتی ہیں، ان میں سے سب سے بڑی اور عام وجہ حادثاتی اسقاط حمل ہے۔ قریب 10 فیصد خواتین کو ان کی زندگی میں حادثاتی اسقاط حمل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مجموعی طور پر تقریباﹰ 15 فیصد حمل ایسے ہوتے ہیں، جن کا خاتمہ حادثاتی اسقاط کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اس کے باوجود اس مسئلے کی طرف طبی برادری نے آج تک اتنی توجہ نہیں دی جتنی دینا چاہیے تھی۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ رجحان کورونا وائرس کی وبا سے پہلے سے موجود ہے۔

پروفیسر سیوبھن کوئنبی وضع عمل اور زچگی سے متعلقہ طبی امور کی ماہر ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ حادثاتی اسقاط حمل کے موضوع پر ابھی مزید کافی تحقیق کی ضرورت ہے اور ڈاکٹروں کو اس عمل سے گزرنے والی خواتین کی مدد کے لیے مختلف طریقہ ہائے کار تلاش کرنا چاہییں۔ وہ کہتی ہیں، ''ہم ایسا صرف اسی صورت میں کر سکیں گے، جب ہمیں اس کے لیے فنڈنگ بھی ملے۔‘‘ پروفیسر کوئنبی کے مطابق اسقاط حمل سے گزرنے والی خواتین کی دیکھ بھال سے جڑے امور کے لیے مالی اعانت کی بہت کمی ہے۔


پروفیسر سیوبھن کوئنبی اور ان کے ساتھی پروفیسر آری کوماراسامی نے حادثاتی اسقاط حمل سے متعلق اپنے طبی مطالعے کے دوران فن لینڈ، ناروے، سویڈن اور ڈنمارک میں مطالعاتی جائزوں کے ساتھ ساتھ امریکا، برطانیہ اور کینیڈا سے بھی کافی اعداد و شمار شامل کیے۔ مجموعی طور پر اس اسٹڈی میں انہوں نے پانچ لاکھ خواتین کے کیسز کا از سر نو جائزہ لیا اور نتائج کو اپنی رپورٹ میں شامل کیا۔

ٹامیز نیشنل سینٹر فار مِسکیرِج ریسرچ کی ڈپٹی ڈائریکٹر سیوبھن کوئنبی کا کہنا ہے، ''حمل کے ضیاع کے خواتین پر گہرے نفسیاتی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور صحت پر طویل المدتی نتائج سامنے آتے ہیں۔‘‘ متعدد مرتبہ حمل ضائع ہو جانے کے نقصانات کے بارے میں وہ کہتی ہیں، ''اگر ایسا بار بار ہو، تو مستقبل میں حاملہ ہونا بہت سی پیچیدگیوں کو جنم دیتا ہے اور ایسی خواتین کو آگے چل کر امراض قلب کا سامنا بھی ہو سکتا ہے اور اس سے فالج یا انجماد خون جیسے مسائل بھی جنم لے سکتے ہیں۔‘‘


تاریک مستقبل

ماہرین کا کہنا ہے کہ جن خواتین کا حمل ضائع ہو جاتا ہے، وہ مستقبل کے تمام خواب اور امیدیں کھو دیتی ہیں۔ ایسی خواتین کی نفسیاتی امداد اشد ضروری ہوتی ہے۔ پروفیسر کوئنبی کے بقول ان کے کلینک پر آنے والی حادثاتی اسقاط حمل سے متاثرہ مریض خواتین میں سب سے زیادہ ذہنی دباؤ، احساس محرومی اور افسردگی دیکھنے میں آتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں، ''ایک یا دو ماہ کے حمل کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ اس مدت کے دوران متعلقہ خواتین مستقبل کے اپنے بچے سے متعلق خواب دیکھنا شروع نہیں کرتیں۔ اگر یہ حمل ضائع ہو جائے، تو ان عورتوں کے مستقبل کے سبھی منصوبے اور خواب چکنا چور ہو جاتے ہیں۔‘‘ پروفیسر کوئنبی کا کہنا ہے کہ ایسے بہت سے کیسز انہوں نے خود دیکھے، جن میں حمل گر جانے کے بعد دونوں پارٹنرز کا باہمی رشتہ ہی ٹوٹ گیا، اس لیے کہ اس مشکل وقت میں دونوں ایک دوسرے سے کھل کر بات بھی نا کر پائے تھے۔


سیاہ فام خواتین کے لیے زیادہ خطرہ

اس مطالعاتی جائزے کے نتائج سے یہ انکشاف بھی ہوا کہ سفید فام عورتوں کے مقابلے میں سیاہ فام خواتین میں حمل کے حادثاتی ضیاع کے خطرات 43 فیصد زیادہ ہوتے ہیں۔ اس کی اصل وجہ کیا ہے، اس بارے میں کوئی حتمی بات نہیں کہی گئی ہے۔ تاہم پروفیسر کوئنبی کہتی ہیں، ''ہمیں پتا چلا ہے کہ سیاہ فام انسانوں کی برادری میں چند مخصوص بیماریاں زیادہ پائی جاتی ہیں، جیسے ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر۔ یہی وہ عوامل ہیں جو سیاہ فام حاملہ خواتین میں اکثر حمل کے ضیاع کی وجہ بنتے ہیں۔‘‘


صحت عامہ کے برطانوی نظام کا ذکر کرتے ہوئے پروفیسر کوئنبی کا کہنا تھا کہ اصولاﹰ تو اس ملک میں صحت کی کافی سہولیات ہر کسی کو میسر ہیں تاہم درحقیقت سیاہ فام باشندوں کومقابلتاﹰ کم ہیلتھ سروسز دستیاب ہوتی ہیں۔ ان نے بقول، ''سیاہ فام خواتین میں حمل ضائع ہو جانے کی شرح کہیں زیادہ ہونے کے اسباب بڑے پیچیدہ ہیں۔ ان کا تعلق جسمانی، نفسیاتی، معاشرتی اور جینیاتی ہر قسم کے معاملات سے ہے۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 10 May 2021, 4:26 AM