’خواتین چست لباس نہ پہنیں‘: متنازعہ بینرز ہٹائے جائیں، عدالتی حکم

اسرائیلی شہر بیت شیمش میں خواتین کو چست لباس پہننے کے خلاف تنبیہ کرنے والے بینرز سے متعلق طویل تنازعے میں ملکی سپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔

فائل تصویر آئی اے این ایس
فائل تصویر آئی اے این ایس
user

Dw

یروشلم سے پانچ جولائی کو ملنے والی رپورٹوں کے مطابق اسرائیلی شہر بیت شیمش (Beit Schemesch) میں یہ موضوع گزشتہ کئی برسوں سے متنازعہ بنا ہوا تھا کہ خواتین کو کس طرح کا لباس پہن کر اس شہر کی سڑکوں پر آنا چاہیے۔ اس تنازعے کا سبب اس شہر کی سڑکوں اور عوامی جگہوں پر کئی برسوں سے لگائے گئے ایسے بینرز اور پلے کارڈز بنے، جن پر اب تک لکھا ہوا ہے کہ خواتین کو ایسا 'مہذب‘ لباس پہننا چاہیے، جو چست نہ ہو۔

'عورتیں مذہبی مقامات سے بھی دور رہیں‘

ان بینرز اور پلے کارڈز کے ذریعے مقامی خواتین سے کئی برسوں سے یہ مطالبہ کیا جاتا رہا ہے کہ وہ فٹ پاتھوں، یہودی عبادت گاہوں اور یہودی مذہبی اسکولوں سے دور رہیں اور مختصر یا چست لباس پہننے کے بجائے لمبے اور ڈھیلے ڈھالے ملبوسات پہنیں۔


ایسے بینرز کے خلاف 2013ء میں اسرائیل کے مذہبی ایکشن سینٹر نے ایک مقدمہ بھی دائر کر دیا تھا۔ اس مقدمے میں عدالت نے اپنا فیصلہ 2017ء میں سنایا تھا، جس میں ایسے بینرز اور پلے کارڈز کو ناقابل قبول اور خلاف قانون قرار دے دیا گیا تھا۔

کٹر قدامت پسند یہودیوں کے ساتھ تصادم

2017ء میں عدالتی فیصلے کے بعد بیت شیمش کی بلدیاتی انتظامیہ نے جب ایسے بینرز اور بڑے بڑے سائن بورڈز ہٹانے کی کوشش کی تھی، تو انتہائی حد تک قدامت پسند مقامی یہودی آبادی سے تعلق رکھنے والے مظاہرین کا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے ساتھ تصادم شروع ہو گیا تھا۔


اس تصادم کے بعد شہر میں امن عامہ کی صورت حال کو مزید بگڑنے سے روکنے کے لیے بلدیاتی انتظامیہ نے ان بینرز کو ہٹانے کا فیصلہ معطل کر دیا تھا۔

نوے دن کی مہلت

اب لیکن اسرائیل کی اعلیٰ ترین عدالت نے اس دیرینہ تنازعے میں اپنا فیصلہ سناتے ہوئے حکم دیا ہے کہ بیت شیمش سے خواتین کے لباس سے متعلق خود ساختہ کوڈ کا تعین کرنے والے ایسے تمام غیر قانونی بینرز ہٹا دیے جائیں۔ اسرائیلی اخبار 'ہاریٹس‘ کے مطابق ملکی سپریم کورٹ کے ججوں نے شہر کی انتظامیہ کو ایسے تمام بینرز اور سائن بورڈز مکمل طور پر ہٹا دینے کے لیے 90 دن کی مہلت دی ہے۔


بیت شیمش کا موجودہ شہر یروشلم سے بذریعہ ریل تل ابیب جاتے ہوئے یروشلم سے کچھ ہی دور واقع ہے، جسے اسی نام کے قدیمی شہر کے قریب 1950ء میں نئے سرے سے بسایا گیا تھا۔ اس شہر کی موجودہ آبادی ایک لاکھ بیس ہزار کے قریب ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔