امریکی فوجیوں میں خودکشی کے رجحان میں ریکارڈ اضافہ

امریکی فوج کے حاضر سروس اہلکاروں میں خودکشی کے رجحان میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ پینٹاگون کے حکام کے مطابق یہ صورتحال پریشان کن ہے اور وہ اس رجحان کا مقابلہ کرنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔

امریکی فوجیوں میں خودکشی کے رجحان میں ریکارڈ اضافہ
امریکی فوجیوں میں خودکشی کے رجحان میں ریکارڈ اضافہ

ڈی. ڈبلیو

نیوز ایجنسی اے پی کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی بحریہ اور میرین کور میں خودکشی کرنے والے اہلکاروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور اس طرح مجموعی طور پر ایسے حاضر سروس اہلکاروں کی تعداد بڑھ گئی ہے، جو ذہنی دباؤ کی وجہ سے خودکشی کر لیتے ہیں۔ پینٹاگون کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق صرف امریکی ایئر فورس کے اہلکاروں میں خودکشی کے رجحان میں کمی ہوئی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق ریزرو اور نیشنل گارڈز میں بھی خودکشی کے رجحان میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

پینٹاگون کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی فوج میں اہلکاروں کو درپیش مسائل کی نشاندہی اور ان کی روک تھام کے حوالے سے بھی مسائل کا سامنا ہے۔ مثال کے طور پر بحریہ میں یو ایس ایس ایچ ڈبلیو بُش پر تعینات تین اہلکاروں نے ایک ہی ہفتے کے دوران خودکشی کر لی۔ جب ان خودکشیوں کے حوالے سے سوال کیا گیا، تو وزیر دفاع مارک ایسپر کا کہنا تھا، ''کاش میرے پاس اس سوال کا جواب ہوتا کہ ان اہلکاروں نے خودکشی کیوں کی اور ہم مسلح افواج میں مزید خود کشیوں کو روک سکتے۔ لیکن ہمارے پاس اس کا جواب نہیں ہے۔ ہم شاید اس میں پھنس چکے ہیں، جسے کچھ لوگ نوجوانوں میں خودکشی کو قومی وبا کہتے ہیں۔‘‘

سن دو ہزار سترہ میں خودکشی کرنے والے امریکی اہلکاروں کی تعداد پانچ سو گیارہ رہی تھی لیکن تمام تر پروگرواموں کے باوجود سن دو ہزار اٹھارہ میں یہ تعداد بڑھ کر پانچ سو اکتالیس ہو گئی۔ پینٹاگون کے مطابق خودکشی کا زیادہ رجحان نوجوان اہلکاروں میں پایا جاتا ہے اور ان میں سے ساٹھ فیصد اس مقصد کے لیے اپنی ہی بندوقیں استعمال کرتے ہیں۔ پینٹاگون کی ایک افسر، الزبتھ فان وینکل کا کہنا تھا، ''اگر تعداد کو دیکھا جائے، تو ہم درست سمت میں نہیں جا رہے۔‘‘

رپورٹ کے مطابق بہت سے فوجی ذہنی دباؤ کا شکار رہتے ہیں لیکن وہ کسی کو بتاتے نہیں اور نہ ہی اس حوالے سے اپنے لیے مدد حاصل کرتے ہیں۔ انہیں خوف ہوتا ہے کہ اس طرح ان کی ترقی رک جائے گی۔

اس رپورٹ کے مطابق خودکشی کرنے والے ایک سو چھیاسی امریکی اہلکار ایسے تھے، جو شادی شدہ تھے جبکہ ایک سو تیئیس اہکاروں کی منگنی ہو چکی تھی۔