’اتنا مت گرنا کہ پھر اٹھ نہ سکو‘

پی ٹی آئی کے کارکن اور گلوکار سلمان احمد کی جانب سے ٹوئٹر پر بلاول بھٹو زرداری کی تضحیک کرنے پر انہیں کڑی تنقید کا سامنا ہے۔

’اتنا مت گرنا کہ پھر اٹھ نہ سکو‘
’اتنا مت گرنا کہ پھر اٹھ نہ سکو‘
user

ڈی. ڈبلیو

سلمان احمد نے ٹوئٹر پر بلاول بھٹو کی خاتون کے روپ میں فوٹو شاپ تصویر پوسٹ کی اور ساتھ ہی یوٹیوب کا ایک لنک شیئر کیا جس میں بے نظیر بھٹو کا دبئی کی رہائش گاہ سے ایک پرانا انٹرویو شامل ہے۔

ڈی ڈبلیو نے سلمان احمد سے رابطہ کیا اور ان سے پوچھا کہ ایک تضحیک آمیز فوٹوشاپ تصویر پوسٹ کرکے وہ کیا ثابت کرنا چاہ رہے تھے؟ انہوں نے اس کا کوئی براہ راست جواب نہیں دیا اور اپنے پیغام میں کہا،'' جرمنی میں رہتے ہوئے آپ کارل ینگ کی انیما اور انیمس کو تو جانتی ہوں گی اور اگر آپ پنجاب مزاح کو سمجھتی ہیں تو بھی آپ میری ٹوئیٹ کو سمجھ جائیں گی۔''

تاہم سوشل میڈیا پر بہت ساری نمایاں شخصیات نے سلمان احمد کو اس حرکت پرسخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ صحافی نسیم زہرہ کا کہنا تھا،'' اپنی خاطر اور آپ جو بننا چاہتے ہیں اس کی خاطر، معافی مانگیے۔''

امریکا میں مقیم صحافی ماروی سرمد نے کہا،'' آپ اس تصویر سے کیا ثابت کرنا چاہ رہے ہیں؟ بلاول کا موازنہ ایک خاتون سے کر رہے ہیں یا یہ بتانا چاہ رہے ہیں کہ بلاول ایک خاتون کی طرح ہے۔ دونوں صورتوں میں کیا آپ یہ بتانا چاہ رہے ہیں کہ ایک خاتون ہونا توہین کی بات ہے۔ میں جاننا چاہتی ہوں کہ اس بارے میں ایک "صوفی" کیا کہتے ہیں۔''

صحافی حسنین جمال کا کہنا تھا،''مجھے افسوس ہے کہ میں نے بچپن میں آپ کے گانوں کو پسند کیا۔ شرمندہ ہوں کہ جذبہ جنون میرا پسندیدہ گانا تھا۔ پچھتاوا ہے کہ میری نسل نے ذہنی مفلسوں کو سٹار بنائے رکھا۔''

سندھ سے تعلق رکھنے والے عبداللہ دایو کا کہنا تھا،'' آپ ہمارے لیے شرمندگی ہیں۔ ٹوئٹر آپ جیسے لوگوں کے خیالات کو عیاں کر رہا ہے۔ میں بلاول کی اس سیاست کا حمایتی ہوں جہاں خواتین کو کم تر نہیں دکھایا جاتا۔''

پی ٹی ایم کے رہنما علی وزیر کا کہنا تھا،''اتنا مت گرنا کہ پھر اٹھ نہ سکو۔''

صحافی سید یحیٰ حسین کا کہنا تھا،''سلمان احمد کا یہ فعل واقعی قابل مذمت ہے، بلاول بھٹو زرداری کی اس طرح تذلیل کر کے انھوں نے انتہائی غیر اخلاقی حرکت کی ہے۔''

تاہم چند لوگوں نے سلمان احمد پر تنقید کرنے والوں پر بھی انگلیاں اٹھائیں۔ ٹوئٹر پر یاسر عمیر کا کہنا تھا،''بلکل صحیح ، مذمت بنتی ہے۔ بہرحال لبرلز کی طرف سے بلاول کی عمران خان کے والد کی تذلیل، صحافیوں کو کہنا کہ آپ انسان بنیں ۔ اور سعید غنی کے اے آر وائی پر لعنت کے ٹرینڈز پڑ سناٹا ہی چھایا رہا ۔ سب اصولوں کو اپنی وابستگی اور پسند کے مطابق ہی استعمال کرتے ہیں۔''

ایک اور صارف ملیحہ ہاشمی کا کہنا تھا،''سلمان احمد کو یہ تصویر شیئر نہیں کرنی چاہیے تھی۔ لیکن کیا کبھی کسی نے ان سے معافی کا مطالبہ کیا جنہوں نے عمران خان کی اہلیہ کو جادوگرنی کہا تھا؟'' ’آپ پاکستان کی خواتین سے معافی مانگیں‘

next