جرمنی: اشتعال انگیزی کے الزام میں ریاستی قانون ساز کی گرفتاری

جرمن ریاست باویریا کے رکن اسمبلی ڈینیئل ہیلمبا کے خلاف نازیوں جیسی علامت کا اظہار کرنے کی تفتیش کی جا رہی ہے۔ ان کا تعلق انتہائی دائیں بازو کی جماعت اے ایف ڈی سے ہے۔

جرمنی: اشتعال انگیزی کے الزام میں ریاستی قانون ساز کی گرفتاری
جرمنی: اشتعال انگیزی کے الزام میں ریاستی قانون ساز کی گرفتاری
user

Dw

جرمنی میں استغاثہ کا کہنا ہے کہ پولیس نے پیر کے روز انتہائی دائیں بازو کی جماعت 'الٹرنیٹیو فار جرمنی (اے ایف ڈی) سے تعلق رکھنے والے قانون ساز ڈینیئل ہیلمبا کو گرفتار کر لیا۔

22 سالہ نوجوان سیاستدان حال ہی میں باویریا کی ریاستی مقننہ کے لیے ہونے والے الیکشن میں منتخب ہوئے تھے۔ ان پر اشتعال انگیزی کے ساتھ ہی ممنوعہ تنظیموں کی علامتوں کے اظہار کا بھی الزام ہے، جس کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ استغاثہ نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے ان کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے گئے تھے اور پیر کی صبح اسٹٹ گارٹ کے علاقے سے انہیں حراست میں لیا گیا۔


ہلیمبا نے ایک تنظیم ''برشین شافٹ ٹیوٹونیا پراگ زو ورزبرگ'' کا رکن ہونے کا اعتراف کیا ہے۔ گزشتہ ماہ حکام نے اسی تنظیم کے خلاف چھاپے کی کارروائی کی تھی۔ استغاثہ نے بتایا کہ انہیں اس بات کا شبہ ہے کہ اس گروپ کے احاطے میں نازی پارٹی سے وابستہ علامتیں اور دیگر اشیاء ہو سکتی ہیں۔ اس تنظیم کے چار دیگر ارکان سے بھی تفتیش کی جا رہی ہے۔ جرمن قانون کے تحت غیر آئینی تنظیموں کی، نازی سواستیکا جیسی علامتوں کا اظہار غیر قانونی ہے۔

ہیلمبا نے الزامات کو مسترد کر دیا

ڈینیئل ہیلمبا کے وکیل ڈوبراوکو مینڈک نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں کوئی سچائی نہیں ہے۔ باویریا کی ریاستی مقننہ میں اے ایف ڈی گروپ کی چیئرپرسن کیٹرین ایبنر اسٹینر نے بھی ان کی گرفتاری پر تنقید کی اور استغاثہ کے اقدامات کو جمہوریت کے لیے ''فرد جرم'' قرار دیا۔


جرمن پارلیمان کے ارکان کو اس طرح کے معاملات میں عام طور گرفتاری کا استثنیٰ حاصل ہوتا ہے۔ تاہم قانون سازوں کو قانون سازی کی مدت کے آغاز سے یہ سہولت میسر ہے جبکہ باویریا کی نئی ریاستی مقننہ اپنا پہلا اجلاس منعقد کر رہی ہے۔ واضح رہے کہ ہیلمبا باویریا کی مقننہ کے لیے منتخب ہونے والے سب سے کم عمر سیاستدان ہیں۔

جرمنی میں تارکین وطن کے مسائل اور معیشت سے متعلق خدشات کے ماحول میں انتہائی دائیں بازو کی جماعت اے ایف ڈی کی مقبولیت میں کافی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ آٹھ اکتوبر کو ریاست باویریا کے انتخابات میں اس جماعت کو 14.6 فیصد ووٹ حاصل ہوئے اور اس طرح یہ تیسرے نمبر پر رہی۔ قومی سطح پر اسے تقریباً 20 فیصد ووٹر کی حمایت حاصل ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔