کاوان کے بھی اچھے دن آئیں گے

اسلام آباد کے اداس ہاتھی کاوان کو خوش کیسے کیا جائے؟ بیرون ملک سے آئے ماہرین نے کاوان کی ’گیت تھیراپی‘ شروع کر دی ہے، جس کے بعد اس اداس ہاتھی کو کمبوڈیا منتقل کر دیا جائے گا۔

کاوان کے بھی اچھے دن آئیں گے
کاوان کے بھی اچھے دن آئیں گے
user

ڈی. ڈبلیو

اسلام آباد کے چڑیا گھر کے ہاتھی کا نام کاوان ہے۔ جن خراب حالات میں اسے رکھا گیا تھا، اس پر اسے عالمی توجہ حاصل ہو چکی ہے۔ رواں برس مئی میں ایک اعلیٰ پاکستانی عدالت کے جج نے کاوان نامی ہاتھی کو کسی ایسے مقام پر منتقل کرنے کے احکامات جاری کیے تھے، جو اس کے لیے موافق اور مناسب ہو۔ عدالتی حکم کے بعد اسے کمبوڈیا کے اُس علاقے میں منتقل کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی، جو خاص طور پر صرف ہاتھیوں کے لیے مخصوص ہے۔ اس ہاتھی کی صحت بحال کرنے کے لیے ماہرینِ حیوانات پر مشتمل ایک چار رکنی بین الاقوامی ٹیم تقریباً دس روز قبل پاکستان پہنچ چکی ہے۔ اس میں شامل ماہرین نے اسلام آباد پہنچنے کے فوری بعد سے کاوان کی صحت پر خصوصی توجہ مرکوز کر رکھی ہے۔

کاوان کو ابتدا میں مسکن امیز ادویات بھی دی گئیں تا کہ اس کی مکمل بیرونی اور اندرونی جسمانی صحت کا جائزہ لیا جا سکے۔ اُس کے بدن سے خون کے نمونے بھی لیے گئے ہیں تا کہ اس کی اندرونی جسمانی کمزوری باری بنیادی معلومات حاصل ہو سکیں۔

اس ٹیم میں عامر خلیل بھی ہیں، جو بین الاقوامی شہرت کے ماہر حیوانات ہیں۔ انہیں جنگ زدہ علاقوں میں سے واقع چڑیا گھروں سے حیوانات کو بچانے کی وجہ سے شہرت حاصل ہو چکی ہے۔ وہ حیوانات کی ایک فلاحی تنظیم 'فور پاز‘ یا 'چار پنجے‘ کے ساتھ وابستہ ہیں۔ وہ اس وقت کاوان کی جسمانی تربیت میں مصروف ہیں۔ اس عمل میں ہاتھی کے لیے انہوں نے فرینک سناٹرا کا گیت 'مائی وے‘ منتخب کر رکھا ہے، تا کہ کاوان بھی جھوم سکے۔

کاوان کی عمر چھتیس برس ہے اور اس کو انجام کار کمبوڈیا میں قائم جانوروں کے مخصوص علاقے تک پہنچایا جانا ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ جانوروں کے حقوق کے سرگرم کارکن کئی برسوں سے اسلام آباد کے چڑیا گھر میں رکھے گئے جانوروں کی حالتِ زار پر تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ کاوان کی کمبوڈیا منتقلی بھی چار برس کی بین الاقوامی مہم کا نتیجہ ہے۔ اس مہم میں مشہور امریکی گلوکارہ شار بھی شامل تھیں۔

عامر خلیل کے مطابق وہ کاوان کے ساتھ دوستی کرنے کے لیے گیت بھی گاتے ہیں۔ کاوان کے لیے فور پاز انٹرنیشنل تنظیم میں شامل ہاتھیوں کے ایکسپرٹ فرانک گوئرٹز بھی پاکستانی دارالحکومت پہنچے ہوئے ہیں۔ ابھی انٹرنیشنل ماہرین نے کاوان کی صحت کے بارے مکمل رپورٹ مرتب نہیں کی ہے لیکن اس کی امید کی جا رہی ہے کہ آئندہ دن کاوان کے لیے بہتر ہوں گے۔

next