سورج، سمندر اور جنس مخالف: سعودی معاشرہ بتدریج کھلتا ہوا، کہیں زیادہ تو نہیں کھل رہا؟

عاصمہ کے لیے بہت قدامت پسند سعودی عرب میں کسی ساحل پر اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ پورا دن گزارنا کچھ عرصہ قبل ناقابل تصور تھا۔ اب یہ بتیس سالہ خاتون اپنے دوست کے ہمراہ ساحل پر رقص بھی کر سکتی ہے۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

Dw

عاصمہ اس بات پر بھی خوش ہے کہ وہ ساحل سمندر پر اپنے پارٹنر کے ساتھ رقص کرتے ہوئے قریب ہی لاؤڈ اسپیکروں پر بجنے والی بلند آواز موسیقی سے بھی لطف اندوز ہو سکتی ہے۔ یہ معاشرتی تبدیلی اس کھلے پن کی محض ایک مثال ہے، جس کا خلیج کی اس اسلامی بادشاہت میں آغاز ہو چکا ہے۔

سعودی عرب میں گزشتہ کچھ عرصے سے نظر آنے والی بہت سی سماجی تبدیلیوں کی دو بڑی وجوہات ہیں۔ ان تبدیلیوں کے ساتھ ایک طرف اگر جدیدیت کی سوچ کے تحت بہت سخت گیر سماجی ڈھانچے میں نرمی لائی جا رہی ہے تو دوسری طرف انہی تبدیلیوں کو داخلی سطح پر نظر آنے والی انحراف کی نمائندہ ذہنیت کے تدارک کے لیے بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔


عوامی مقامات پر موسیقی پر پابندی کا خاتمہ

سعودی عرب میں 2017ء تک عوامی مقامات پر موسیقی پر پابندی تھی۔ اس پابندی کے احترام کو ملک کی مذہبی پولیس یقینی بناتی تھی۔ چار سال قبل یہ پابندی ختم کر دی گئی، تو اس کے صرف ایک سال بعد خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت بھی مل گئی۔ اس عرب ریاست کے اکثر ساحلی علاقوں میں مردوں اور عورتوں کے لیے مخصوص حصے اب بھی الگ الگ ہیں جبکہ شراب پر بھی ملک گیر پابندی عائد ہے۔

ملک میں سیاحت اور عوامی تفریح کو فروغ دینے کے لیے اب تک جو اقدامات کیے جا چکے ہیں، یہ انہی میں سے ایک کا نتیجہ ہے کہ اب 32 سالہ مقامی خاتون عاصمہ اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ 300 ریال یا تقریباﹰ 80 امریکی ڈالر کے برابر رقم ادا کر کے جدہ کے نزدیک پیور بیچ نامی ساحلی تفریحی علاقے میں جا سکتی ہے۔ وہاں میوزک اور رقص پر کوئی پابندی نہیں اور سفید ساحلی ریت کی خوبصورتی سے لطف اندوز تو ہوا ہی جا سکتا ہے۔


'ایک خواب جو پورا ہو گیا‘

عاصمہ نے، جو اپنے سوئمنگ سوٹ کے اوپر نیلے رنگ کا لباس پہنے ہوئے تھی، فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا، ''میں اس لیے بہت خوش ہوں کہ اب میں اپنے گھر کے قریب ہی اس بیچ پر آ کر اچھی طرح لطف اندوز ہو سکتی ہوں۔ ہمارا خواب تھا کہ ہم یہاں آئیں اور ایک خوبصورت ویک اینڈ گزاریں۔ اب یہ خواب پورا ہو گیا ہے۔‘‘

سعودی عرب میں Pure Beach کا رخ کرنے والے سمندر میں نہا بھی سکتے ہیں۔ خواتین نے بکنیاں پہنی ہوتی ہیں اور ان میں سے کچھ شیشہ پی رہی ہوتی ہیں۔ غروب آفتاب کے وقت اس بیچ پر بنائے گئے ایک بڑے اسٹیج پر مغربی موسیقی کی دھنوں پر رقص شرع ہو جاتا ہے اور گلے ملتے جوڑے بھی اسی منظر کا حصہ ہوتے ہیں۔


کئی ممالک میں عام بات، سعودی عرب میں غیر معمولی

سعودی عرب میں دور رس سماجی اور معاشرتی تبدیلیوں کے نتیجے میں اب جو مناظر دیکھنے میں آتے ہیں، وہ کئی ممالک میں تو بالکل معمول کی بات ہیں مگر اس عرب بادشاہت میں ایسے مناظر اس لیے بہت مختلف اور غیر معمولی محسوس ہوتے ہیں کہ سعودی عرب شروع سے ہی سخت گیر وہابی مسلم نظریات والی ایک قدامت پسند ریاست رہا ہے۔ اس کے علاوہ مکہ میں خانہ کعبہ اور مدینہ میں مسجد نبوی کی صورت میں دنیا بھر میں مسلمانوں کے لیے دو مقدس ترین مقامات بھی اسی ملک میں ہیں۔

پیور بیچ جیسے مناظر اس ملک میں اب تک جدہ اور اس کے ارد گرد کے خطے سے باہر کسی دوسرے علاقے میں نظر نہیں آتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جدہ ملک کا وہ علاقہ ہے، جہاں کھلے پن کی سوچ سب سے زیادہ پائی جاتی ہے۔


کنگ عبداللہ اکنامک سٹی

سعودی عرب کی پیور بیچ جدہ شہر کے مرکز سے شمال کی طرف تقریباﹰ 125 کلو میٹر کے فاصلے پر کنگ عبداللہ اکنامک سٹی میں واقع ہے۔ وہاں جانے والے ایک مصری نژاد باشندے حادیل عمر نے بتایا، ''میں یہیں پلا بڑھا ہوں۔ چند سال پہلے تک تو ہمیں میوزک سننے تک کی اجازت نہیں تھی۔ اس لیے ہمارے لیے تو یہ جنت ہی کی طرح ہے۔‘‘

سعودی عرب کے آنجہانی بادشاہ عبداللہ سے موسوم اس اقتصادی شہر کے تقریبات کے شعبے کے سربراہ بلال سعودی نے اے ایف پی کو بتایا، ''پیور بیچ کے قیام کا مقصد مقامی مہمانوں اور غیر ملکی سیاحوں کو یہاں آنے کی ترغیب دینا ہے۔‘‘


اپنا بزنس کرنے والی دیما نامی ایک نوجوان سعودی خاتون نے اسی ساحل پر موسیقی کی دھن پر رقص کرتے ہوئے اے ایف پی کے ساتھ گفتگو میں کہا، ''مجھے لگتا ہے کہ اچھا وقت گزارنے کے لیے اب میرا بیرون ملک جانا ضروری نہیں۔ یہاں سب کچھ تو ہے۔‘‘

سماجی کھلے پن کی وجہ بننے والے ولی عہد

سعودی عرب میں سماجی کھلے پن کی وجہ بننے والی ان تبدیلیوں کا آغاز اس وقت ہوا تھا، جب 2017ء میں موجودہ ولی عہد محمد بن سلمان اقتدار میں آئے تھے۔ انہیں ان کے والد اور موجودہ بادشاہ سلمان نے اپنا ولی عہد مقرر کیا تھا اور اس ملک میں ولی عہد ہی عملاﹰ تقریباﹰ حکمران ہوتا ہے۔


کئی سیاسی اور اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق اس خلیجی ریاست میں یہ اصلاحات حکمرانوں کی ان کوششوں کا حصہ ہیں، جن کے تحت ملک میں کاروباری سرگرمیوں اور داخلی اور بین الاقوامی سیاحت کو فروغ دینے کی کاوشیں جاری ہیں۔

سعودی عرب تیل برآمد کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے، جس کی معیشت کا انحصار عشروں سے تقریباﹰ صرف تیل کی برآمد پر ہی رہا ہے۔ اب لیکن چند برسوں سے زیادہ تر خام تیل کی برآمد پر انحصار کے بجائے ملکی معیشت کو زیادہ متنوع، کثیر الجہتی اور پائیدار بنایا جا رہا ہے۔


پیور بیچ پر سورج، ساحل سمندر اور اپنے بوائے فرینڈ کی موجودگی پر خوش ہوتے ہوئے عاصمہ نامی خاتون نے کہا، ''سعودی عرب میں زندگی اب نارمل ہے، پہلے یہ نارمل نہیں تھی۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔