مدفون اطالوی شہر پومپئی میں غلاموں کے کمرے کی دریافت

ماہرین آثار قدیمہ تباہ شدہ اور مدفون اطالوی شہر پومپئی میں کھدائی کا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے اس کھدائی کے دوران اس قدیمی شہر میں غلاموں کو رکھنے والے ایک کمرے کو دریافت کر لیا ہے۔

مدفون اطالوی شہر پومپئی میں غلاموں کے کمرے کی دریافت
مدفون اطالوی شہر پومپئی میں غلاموں کے کمرے کی دریافت
user

Dw

جنوبی اٹلی کے کمپانیا علاقے میں پومپئی شہر کے وسیع کھنڈرات پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ شہر سن 79 عیسوی میں آتش فشاں پہاڑ ویسوویئس کے پھٹنے سے تباہ ہو گیا تھا اور اس کو جہاں بہتے لاوے نے تباہ کیا وہاں اس شہر پر راکھ کی گھنی چادر پھیل گئی تھی۔

اس راکھ کے نیچے یہ شہر اس وقت بھی محفوظ خیال کیا جاتا ہے اور ماہرین آثارِ قدیمہ انتہائی محتاط انداز میں کھدائی کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان ماہرین کے مطابق آتش فشاں کی راکھ گرنے سے اس شہر کی معاشرت اور روزمرہ کی زندگی کے شواہد دفن ہو کر رہ گئے ہیں۔


یونیسکو کے عالمی ورثے کا حصہ

پومپئی کی گم شدہ معاشرت کی کڑیاں جوڑنے کے لیے دفن شدہ باقیات اس وقت بھی تلاش کی جا رہی ہیں۔ اس قدیمی شہر کو یونیسکو کے عالمی ورثے میں سن 1997 میں شامل کیا گیا تھا۔ اس شہر کے دریافت شدہ علاقوں کو دیکھنے سالانہ قریب پچیس لاکھ افراد جاتے ہیں۔

اس وقت بھی اس شہر کے مدفون اور تباہ شدہ حصوں کو بازیاب کیے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔ حالیہ ایام میں اس شہر کے ایک کمرے کو راکھ میں سے ڈھونڈ لیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ غلاموں کو رکھنے کا ایک بڑا کمرہ دکھائی دیتا ہے۔


ایک اہم دریافت

اطالوی وزیر ثقافت داریو فرانچسکینی نے اس دریافت کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے معلوم ہو سکے گا کہ پومپئی کے شہری تباہی سے قبل کسی انداز کی زندگی گزارتے تھے۔ فرانچسکینی کے مطابق یہ اس لیے بھی اہم کہ ابھی تک قدیمی شہر کے معاشرتی رویوں کی کھوج کا عمل جاری ہے اور یہ اس کھوج میں آگے بڑھنے کا ایک دروازہ ہو سکتا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس کمرے کی دریافت سے پومپئی میں غلاموں کی روزانہ کی زندگی بارے معلومات بھی میسر ہوں گی۔

ماہرین نے جو کمرہ دریافت کیا ہے، وہ تباہ شدہ شہر کے نواحی علاقے چیویٹا جیولانا کے اُس مقام کے قریب ہے، جہاں رواں برس جنوری میں ایک پہلے سے دریافت شدہ وِلا سے یادگاری اور آرائشی بگھی کی باقیات ملی تھیں۔ یہ ایک بڑا کمرہ ہے، جو کمرے کے علاوہ سامان ذخیرہ کرنے کا گودام بھی دکھائی دیتا ہے۔


غلاموں کا کمرہ

دریافت ہونے والے کمرے کی ایک دیوار پر اونچی کھڑکی نصب ہے۔ یہ اس کمرے میں واحد کھڑکی ہے اور اس کی اندرونی دیواریں بھی نقش و نگار کے بغیر ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا گیا ہے کہ یہ غلاموں کا کمرہ ہے۔

پومپئی کے مکین کمروں کی سجاوٹ اور زیبائش کا خاص ذوق اور شوق رکھتے تھے۔ دریافت شدہ کمرہ ایسی زیبائش کے بغیر ہے۔ اس کمرے میں تین بیڈز کی باقیات بھی ملی ہیں، جو لکڑی کے بنے ہوئے ہیں۔ دو بیڈز قریب پانچ فٹ لمبے ہیں۔ ایک اور بیڈ چار فٹ لمبائی کا ہے۔


ماہرین کا خیال ہے کہ اس کمرے میں جو غلام خاندان رہتا تھا، ان کا امکانی طور پر ایک بچہ بھی ہو سکتا ہے۔ اسی کمرے میں رکھی الماری میں سے جو دھاتی اشیاء ملی ہیں، وہ گھوڑوں کو پہنانے والی ہیں اور بگھی کے پہیوں کو کنٹرول کرنے والا ایک ہینڈل بھی ملا ہے۔ اسی کمرے میں ایک بڑا سا کنٹینر بھی پڑا ملا، جو یقینی طور پر سامان ذخیرہ کرنے کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔

غلام رکھنے والا کمرہ ایک بڑے گھر یا وِلا کے احاطے کے پہلو میں ہے۔ یہ وِلا بحیرہ روم کے نواح میں ہے اور اسے سن 2017 میں دریافت کیا گیا تھا۔ اس ولا کو پومپئی کے مدفون شہر کی ایک اہم دریافت قرار دیا گیا تھا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔