زبان کا ارتقا

ہماری نئی سیریز ارتقا میں آپ جان پاتے ہیں، زندگی سے جڑی اہم چیزوں کی ارتقائی تاریخ کے بارے میں۔ اس سیریز میں ہمارا موضوع ہے، زبان کا ارتقا۔

زبان کا ارتقا
زبان کا ارتقا
user

Dw

زبان انسانوں کے درمیان اہم ترین معاہدوں میں سے ایک ہے۔ پیدائش سے لے کر مرنے تک ابلاغ کے اس اہم ترین آلے سے سبھی کا تعلق ہوتا ہے۔ کوئی بول نہیں سکتا یا سن نہیں سکتا، تو بھی وہ اشاروں کی زبان استعمال کرتا ہے لیکن زبان کے اس معاہدے کو شاید ہم غیراہم سمجھ کر صرف نظر کر دیتے ہیں یا جسے کہتے ہیں 'فار گرانٹڈ‘ لیتے ہیں۔ آئیے آج زبان کی ابتدا سے اب تک کے ارتقاء کو ذرا غور سے دیکھتے ہیں۔

انتہائی پیچیدہ میکنزم


آپ جو زبان آج بول رہے ہیں یہ زبان ہمیشہ سے ایسی نہیں تھی۔ انسان کو حیوانِ ناطق یا بولنے والا جاندار کہا جاتا ہے۔ ہمارے روزمرہ، صبح و شام، عشق و ضروریات، محبت و نفرت کے جذبات حتیٰ کہ سائنسی ایجادات تک زبان ہی کے تانوں بانوں سے جڑی ہیں۔ کسی نہ کسی سطح پر جا کر یہ سب زبان کے اظہاریوں پر تکیہ کرنے لگتی ہیں۔

زبان کی ابتدا کیسی ہوئی؟ اس بارے میں بہت سے محققین کی رائے مختلف ہے۔ وجہ یہ ہے کہ قریب سبھی جانور کسی نے کسی طرز کی زبان کے ذریعے اپنے اپنے ضروری اظہاریوں کا ابلاغ کرتے ہیں۔ کہیں اشاروں کی زبان ہے، تو کہیں مختلف آوازیں۔ بعض محققین سمجھتے ہیں کہ زبان انسانی جینیاتی کوڈنگ کا حصہ ہے، جب کہ بہت سے ماہرین زبان کو سماجی نظام سے ارتقا پا کر ترقی کرنے والا آلہ قرار دیتے ہیں۔ چوں کہ زبان کے ارتقا سے متعلق براہ راست 'امپیریکل ڈیٹا‘ یا واضح شواہد کا ملنا ایک ناممکن عمل ہے، اس لیے اس بارے میں آرا بھی مختلف ہیں۔


ماہرین کیا کہتے ہیں؟

امریکی ماہر لسانیات نوم چومسکی دلیل دیتے ہیں کہ قریب ایک لاکھ سال پہلے ایک فرد میں ایک واحد امکانی میوٹیشن نے دماغ میں لسانی صلاحیت کی بہترین یا بہت اچھی بنیاد رکھی۔ جب کہ آواز پیدا کرنے کے عضو کے بارے میں اندازے یہ ہیں کہ یہ لاکھوں برس قبل انسانوں بلکہ انسان نماؤں میں پیدا ہوا۔ یعنی ہومو سیپینز سے بہت پہلے اسی جینس کی مختلف اسپیشیز میں۔ بہت سے سائنس دانوں کا خیال ہے کہ سماجی ارتقاء اصل میں زبانوں کی پیدائش کا باعث بنا۔ بعض سائنس دان تو یہ تک کہتے ہیں کہ اگر حیاتیاتی طور پر انسانی جسم میں آواز پیدا کرنے کا عضو ارتقائی صورت میں پیدا ہو بھی گیا تھا، تو بھی سماجی حالات کی عدم موجودگی میں یہ عضو بے کار ہو جاتا۔


جدید زبانوں کے بارے میں تاہم کہا جاتا ہے کہ یہ سب سے پہلے پچاس ہزار سال سے ڈیڑھ لاکھ سال پہلے وجود میں آنا شروع ہوئیں۔ یہ وہی وقت ہے، جب جدید انسان یا ہومو سیپینز کا ارتقا ہوا۔ ان اعداد و شمار کو تمام سائنس دان حتمی طور پر قبول نہیں کرتے، مگر اس بارے میں قریب قریب اتفاق ضرور ہے کہ جدید زبان سب صحارا افریقہ کے خطے میں کسی جگہ پیدا ہوئی اور یہ پتھر کے دور کا قریب وسط تھا۔ یوں سمجھیے کہ اس بارے میں بہت سی مختلف آراء اور نظریات موجود ہیں، کوئی سمجھتا ہے کہ اشاروں سے اس کا آغاز ہوا، کسی کے نزدیک جینیاتی طور پر زبان ہمارا حصہ ہے، کوئی سمجھتا ہے کہ مختلف آوازوں سے اس کی ابتدا ہوئی اور دھیرے دھیرے یہ اظہاریے بڑھتے گئے۔

ماہر حیاتیات چارلس ڈارون نے سن 1871 میں اپنی کتاب The Descent of Man and selection in relation to Sex میں لکھا تھا کہ مجھے کوئی شک نہیں کہ زبان کا منبع وہ نقالی اور تبدیلی ہے جسے اشاروں، اظہاریوں، جانوروں اور دیگر قدرتی آوازوں اور انسان کی اپنی چیخوں نے جنم دیا۔


مادری زبان کا نظریہ

سن 2004 میں امریکی محقق ڈبلیو ٹیسومسیہ فِچ نے 'مادری زبان‘ کا ایک نظریہ دیا تھا، جس کے تحت ڈاروینین اصول کے تحت کہا گیا تھا کہ زبان اصل میں ماں اور بچوں کے درمیان ابلاغ سے پیدا ہوئی اور یوں خاندان کے دیگر افراد میں پہنچی اور پھر یہیں اسے ارتقا آگے لے گیا۔ پھر یہ بھی اہم ہے کہ ہو سکتا ہے زبان ابتدا میں بولی نہ جاتی ہو بلکہ لکھی جاتی ہو یا اشاروں کی صورت میں ہو۔


کہا یہ بھی جاتا ہے کہ انسانوں نے اپنی بقا کے لیے ضروری اظہاریوں کا آغاز اشاروں کی صورت میں کیا پھر پیچیدہ معاملات کے لیے پیچیدہ اظہاریے بنتے چلے گئے اور یوں زبان جیسا پیچیدہ آلہ تخلیق ہو گیا۔ دوسری جانب یہ بھی کہا جاتا ہے کہ زبان ارتقاء کا ایک ضمنی شاخسانہ ہے۔ یعنی انسان ارتقا پا رہا تھا، تو اس کا نتیجہ انسانوں کے درمیان اظہاریوں کے ارتقا کی صورت میں بھی برآمد ہوا۔

ڈی ڈبلیو اردو سروس کی نئی سیرز ارتقا، جس میں مختلف اور عام اصطلاحات کا ارتقائی سفر تاریخ اور تحقیق کی روشنی میں صارفین کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔