بوس و کنار پر پابندی، روسی پريشان

روس ميں صارفين کے معاملات پر نگاہ رکھنے والے ايک واچ ڈاگ نے اپنے شہريوں کو ہدايت دی ہے کہ کورونا وائرس کی تيزی سے پھيلتی ہوئی نئی قسم کے تناظر ميں بوس و کنار سے پرہيز کيا جائے۔

بوس و کنار پر پابندی، روسی پريشان
بوس و کنار پر پابندی، روسی پريشان
user

ڈی. ڈبلیو

صارفين کے حقوق کے تحفظ کی نگرانی کرنے والے ايک روسی واچ ڈاگ Rospotrebnadzor نے روسی شہريوں کو ہدايت دی ہے کہ وہ ہاتھ ملانے، بوسہ دينے یا چوم کر خوش آمديد کہنے وغيرہ سے پرہيز کريں اور چہروں پر ماسک پہن کر رکھيں۔ شہريوں سے کہا گيا ہے کہ وہ بالخصوص بھيڑ والے مقامات پر ايسے عوامل سے بچيں۔ يہ ہدايات کورونا وائرس کی نئی قسم کے پھيلاؤ کو روکنے کے ليے دی گئی ہيں۔

اگرچہ روس ميں اب تک کورونا وائرس کا کوئی بھی کيس سامنے نہيں آيا ہے ليکن پڑوسی ملک چين کے ساتھ روابط اس احتياطی تدبير کی وجہ بنے۔ روس نے سرحدی پابنديوں بھی عائد کر رکھی ہيں جن کا مقصد وائرس کا روس ميں ممکنہ پھيلاؤ روکنا ہے۔

روس کے سرکاری واچ ڈاگ نے ان روسی کمپنيوں کو بھی خصوصی ہدايات دی ہيں، جن ميں چينی ملازمين کام کرتے ہيں اور نئے قمری سال کی چھٹيوں کے سلسلے چين گئے ہوئے ہيں۔ ايسی کمپنيوں سے کہا گيا ہے کہ وہ چين گئے ہوئے ملازمين کی چھٹياں غير معينہ مدت تک کے ليے بڑھا ديں۔

واچ ڈاگ نے حفظان صحت کے حوالے سے بھی تازہ ہدايات جاری کيں۔ لمبے بالوں والوں سے کہا گيا ہے کہ وہ بال باندھ کر رکھيں۔ لوگوں کو تجويز کيا گيا ہے کہ وہ دروازوں کے ہينڈل نہ پکڑيں اور عوامی مقامات پر فلو کی علامات والے افراد سے دور رہيں۔

روس نے چين کے ساتھ اپنی سرحد پيدل سفر کرنے والوں اور ديگر ذاتی گاڑيوں کے ليے بند کر رکھی ہے۔ سامان بردار ٹرينوں کی آمد و رفت البتہ فی الحال جاری ہے۔ علاوہ ازيں ماسکو اور بيجنگ کے درميان چلنے والے مسسافر ٹرين فی الحال معمول کے مطابق چل رہی ہے۔