انتہائی منظم انداز سے نایاب کتب چوری کرنے والا گروہ

دنیا کی ’نایاب ترین کتب‘ کی چوری میں ملوث اس گروہ کا تعلق رومانیہ سے ہے۔ انتہائی نایاب کتابوں کے ساتھ ساتھ ان چوروں نے آرٹ کے بھی قیمتی شاہکار چرانے سے گریز نہیں کیا۔

انتہائی منظم انداز سے نایاب کتب چوری کرنے والا گروہ
انتہائی منظم انداز سے نایاب کتب چوری کرنے والا گروہ
user

ڈی. ڈبلیو

برطانوی دارالحکومت لندن کی ایک عدالت نے دو اکتوبر کو ایک درجن چوروں کو جیل منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ تمام چور کسی بھی رعایت کے مستحق نہیں ہیں اور انہیں تین سے پانچ برس قید تک کی سزائیں دی جا سکتی ہیں۔

انتہائی نایاب کتابوں کے ساتھ ساتھ ان چوروں نے آرٹ کے بھی بیش قیمت شاہکار چرانے سے گریز نہیں کیا۔ پولیس کے مطابق سینکڑوں کتابوں کو منظم ڈکیتیوں میں چرایا گیا۔ یہ بھی بتایا گیا کہ ایسی وارداتوں میں ملوث جرائم پیشہ گروہ رومانیہ میں مقیم ہے اور اپنے پیشہ ور چوروں کو وقتاً فوقتاً کسی ایک پرواز کے ذریعے لندن روانہ کرتا رہتا تھا۔

یہ سلسلہ دو برس تک جاری رکھا گیا۔ جرائم پیشہ افراد جب واردات مکمل کر لیتے تو انہیں واپس بلا لیا جاتا تاکہ وہ پولیس کے شکنجے میں آنے سے بچے رہیں۔ لندن پولیس کے مطابق چوری شدہ اشیاء کو محفوظ انداز میں برطانیہ سے باہر منتقل کیا جاتا تھا۔ پولیس کا خیال ہے کے واردات کے وقت یہ چھت میں سوراخ کر کے مقررہ مقام تک پہنچتے تھے تا کہ سکیورٹی الارم سے بچا جا سکے۔

نایاب کتب

سینکڑوں نایاب کتب اور مصورانہ شاہکار سن 2017 میں کی جانے والی ایک ڈکیتی میں بھی چرائے گئے۔ ان میں کئی قلمی نسخے بھی تھے۔ چرائی گئی کتابوں میں ایک مشہور سائنسدان آئزک نیوٹن کی تحریر کردہ کتاب کا پہلا ایڈیشن تھا۔

اسی طرح چرائی گئی کتابوں میں اطالوی سائنسدان گیلیلیو کے علاوہ چودہویں صدی کے اطالوی شاعر و عالم پیٹر ارک اور ڈانٹے کی کتابوں کے انتہائی نایاب نمونے بھی شامل ہے۔ اس چوری کی واردات میں چور ہسپانوی مصور (پینٹر) فرانسسکو ڈی گویا کے بنائے ہوئے خاکے بھی لے اُڑے تھے۔

یہ تمام چوری شدہ سامان لندن میں واقع گودام میں رکھا گیا تھا اور اسے بیرون ملک منتقل کیا جانا تھا۔ رومانیہ کے چوروں کا گروہ اس ذخیرے کو کسی امریکی شہر منتقل کر کے نیلامی میں رکھنے کا متمنی تھا۔ ان نایاب کتابوں اور آرٹ نمونوں کی کم از کم مالیت بیس لاکھ یورو (بیس لاکھ چالیس ہزار ڈالر) ہے۔

رومانیہ کے تفتیش کاروں نے رواں برس سولہ ستمبر کو منتقل کی گئی چوری شدہ نایاب کتابیں اپنے ایک چھاپے میں قبضے میں لی تھیں۔ لندن میٹروپولیٹن پولیس نے ان چوری کی گئی کتابوں کو حاصل کرنے کی تفتیش تین برس قبل شروع کی تھی۔ پولیس چوروں کو بھی اپنی گرفت میں لینا چاہتی تھی۔

اس منظم جرائم پیشہ گروہ کے تمام وارداتیوں کو جون سن 2019 سے جنوری سن 2020 تک مختلف اوقات میں گرفتار کیا گیا۔ کتابیں چوری کرنے والے گروپ کا تعلق مشرقی رومانیہ کے قیمتی نوادرات کی چوریاں کرنے والےایک بڑے منظم جرائم پیشہ گروہ سے ہے۔ یہ گروہ انصاف کے کٹہرے میں اس لیے نہیں لایا جا سکا کیونکہ ان کی وارداتیں کسی اور ملک میں کی جاتی تھیں۔

next