’لڑکوں کا نفسیاتی اور جسمانی استحصال لڑکیوں سے زیادہ‘

چھ یورپی ممالک میں کرائی گئی ایک مطالعاتی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ کھیلوں کے شعبے میں لڑکوں کو لڑکیوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ جسمانی اور ذہنی استحصال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

’لڑکوں کا نفسیاتی اور جسمانی استحصال لڑکیوں سے زیادہ‘
’لڑکوں کا نفسیاتی اور جسمانی استحصال لڑکیوں سے زیادہ‘
user

Dw

ہفتے کے روز جاری کردہ رپورٹ میں چھ یورپی ممالک میں کھیلوں کے شعبے میں لڑکوں اور لڑکیوں کو مختلف انداز کے استحصالی اور متشدد رویوں سے متعلق تفصیل سے بتایا گیا ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق لڑکوں کو لڑکیوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ذہنی اور جسمانی تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یورپی یونین کے مالی تعاون سے تیار کی گئی اس مطالعاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لڑکوں کو اسکول سے باہر سب سے زیادہ جس رویے کا سامنا ہوتا ہے، وہ ذہنی تشدد ہے، جہاں تعریف نہ ہونے سے لے کر بے عزتی اور تضحیک جیسے معاملات پیش آتے ہیں۔


یورپی شماریاتی مطالعے کے مطابق قریب دو تہائی بچے کھیلوں کے شعبے میں مختلف انداز کے نامناسب رویوں کا سامنا کرتے ہیں جب کہ 44 فیصد کو جسمانی تشدد تک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

رپورٹ کے رہنما اور انگلیڈ کی ایچ ہِل یونیورسٹی سے وابستہ پروفیسر مائیک ہارٹِل کے مطابق اس مطالعاتی رپورٹ کے نتائج بتاتے ہیں کہ یورپ میں کھیلوں کے شعبے کے نگران بچوں کے تحفظ کے لیے کتنے کم اقدامات کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان اداروں اور محکموں کو پالیسی بنانے کی بجائے عملی اقدامات کے ذریعے بچوں کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے۔


ان کا مزید کہنا تھا، ''رپورٹ کے نتائج یقیناﹰ تشویش کا باعث ہیں۔ ہم نے دیکھا کہ کھیلوں کے شعبے میں تشدد اور استحصال کے کچھ واقعات عوامی سطح پر سامنے آتے ہیں، تاہم یہ ریسرچ بتا رہی ہے کہ اس مسئلے کا حیطہ کہیں بڑا ہے۔‘‘

ایج یونیورسٹی انگلینڈ اور یونیورسٹی آف ووپرٹال جرمنی کی اس مشترکہ تحقیق میں آسٹریا، بیلجیم، جرمنی، رومانیہ، اسپین اور برطانیہ میں اٹھارہ سے تیس برس کی عمروں کے دس ہزار سے زائد افراد سے معلومات جمع کی گئی۔


یہ تمام افراد وہ تھے، جو اٹھارہ برس سے کم کی عمر میں کھیلوں کے شعبے سے جڑے رہے تھے۔ اس بابت شکایت کرنے والوں میں لڑکیوں کے مقابلے میں لڑکوں کی تعداد زیادہ دیکھی گئی ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ تشدد ان بچوں کے ساتھ دیکھا گیا جو بین الاقوامی مقابلوں میں شریک تھے۔ ایسے 84 فیصد افراد نے مختلف انداز کے پرتشدد اور نامناسب رویوں کے تجربات شیئر کیے۔


تاہم اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تشدد اور نامناسب رویوں کے یہ واقعات کھیل کے شعبے میں معاشرے کے دیگر شعبوں کے مقابلے میں کم ہیں۔ ماضی میں کھیل کے شعبے سے جڑے قریب 85 فیصد افراد نے کھیلوں میں بتائی گئی زندگی کو مثبت تجربہ قرار دیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔