اٹلی سے فرانس تک تیز رفتار ریل رابطے، لاگت چھبیس ارب یورو

دنیا میں ایسا شاید ہی کبھی ہوا ہو کہ بہت تیز رفتار بین الاقوامی ریل رابطوں کا کوئی منصوبہ حکومت کے لیے خطرہ بن گیا ہو۔ ایسا اٹلی میں ہوا لیکن اب روم حکومت کے لیے پیدا ہونے والا خطرہ ٹل گیا ہے۔

اٹلی سے فرانس تک تیز رفتار ریل رابطے، لاگت چھبیس ارب یورو
اٹلی سے فرانس تک تیز رفتار ریل رابطے، لاگت چھبیس ارب یورو

ڈی. ڈبلیو

اٹلی میں کافی عرصے سے ایک منصوبہ زیر غور تھا کہ اطالوی شہر ٹیورین سے فرانس کے شہر لیوں تک ایک ایسا نیا لیکن بہت تیز رفتار ریل رابطہ قائم کیا جانا چاہیے، جو یورپی یونین کے رکن متعدد ممالک میں زمینی سفر کے لیے دستیاب موجودہ سہولیات کو مزید بہتر اور ماحول دوست بنا سکے۔

لیکن اٹلی میں یہ منصوبہ روم میں حکمران مخلوط حکومت میں شامل جماعتوں کے مابین اس بارے میں اختلافات کے باعث بہت متنازعہ ہو گیا تھا۔ اطالوی وزیر اعظم کونٹے اس منصوبے کے حق میں تھے۔ دوسری طرف مخلوط حکومت میں شامل بڑی جماعت اگر اس کی مخالف تھی تو دائیں باز وکے عوامیت پسند ملکی وزیر داخلہ ماتیو سالوینی کی پارٹی اس کی حامی تھی۔ اب سالوینی کی پارٹی سیاسی دباؤ ڈال کر بڑی حکومتی پارٹی کو اس امر کا قائل کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے کہ یہ متنازعہ ریلوے ٹریک اب تعمیر ہو ہی جانا چاہیے۔

اس بارے میں اطالوی وزیر اعظم کونٹے نے فیس بک پر پوسٹ کی گئی اپنی ایک ویڈیو میں کہا ہے کہ اس منصوبے پر اب تک بہت زیادہ رقوم خرچ کی جا چکی ہیں اور اب اس کی تکمیل کے برعکس یہ بات روم حکومت کے لیے انتہائی مہنگی اور مالی وسائل کا ضیاع ثابت ہو گی کہ یہ ٹریک تعمیر ہی نہ کیا جائے۔ اس نئے ہائی اسپیڈ ریل رابطے کا نام ٹرینو آلٹا ویلوسیٹا (TAV) ہو گا اور کئی سالہ تعطل کے بعد اب یہ منصوبہ مستقبل میں مکمل کر لیا جائے گا۔

اس منصوبے پر مجموعی طور پر کم از کم بھی 26 ارب یورو کی لاگت آئے گی اور ان رقوم کا تقریباﹰ 40 فیصد حصہ یورپی یونین کی طرف سے مہیا کیا جائے گا۔ یورپی کمیشن کے مطابق یونین اس منصوبے کے لیے تقریباﹰ 11 ارب یورو کی رقوم اس لیے فراہم کرے گی کہ یہ یورپی یونین کے لیے انفراسٹرکچر کے لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل منصوبہ ہے، جس میں پہلے ہی کافی تاخیر ہو چکی ہے۔ ساتھ ہی یورپی کمیشن نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر اس منصوبے کی تکمیل میں مزید تاخیر کی گئی، تو یونین اس کے لیے وعدہ کردہ اربوں یورو کی رقوم کی فراہمی سے انکار بھی کر سکتی ہے۔

یہ نیا بین الاقوامی یورپی ریل رابطہ مجموعی طور پر 270 کلومیٹر طویل ہو گا اور اس کے کچھ حصوں پر پہلے ہی سے کام جاری ہے۔ اس منصوبے کی ایک انتہائی اہم بات اس کا تقریباﹰ 58 کلومیٹر طویل وہ حصہ ہو گا، جس کی بہت سے شہری اور ماحول دوست حلقوں کی طرف سے مخالفت کی جا رہی تھی۔ اس ٹریک کا یہ حصہ ایلپس کے پہاڑی سلسلے میں مَوں سینِس (Mont-Cenis) نامی سرنگ میں سے ہو کر گزرے گا۔

اسی منصوبے کا ایک اور اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اس نئے ٹریک کی وجہ سے براہ راست یا بالواسطہ طور پر کئی یورپی ممالک کے مابین مسافر ٹرینوں اور مال بردار گاڑیوں کی صورت میں ریل رابطے اب تک کے مقابلے میں کہیں بہتر اور تیز رفتار ہو جائیں گے، مثال کے طور پر اٹلی میں میلان اور وینس، اسپین میں بارسلونا، پرتگال میں لزبن اور فرانس میں پیرس تک کے درمیان ریل رابطے۔