مسئلہ یہ ہے کہ جو نامی کبوتر امريکی ہے يا آسٹريلوی، بايو سکيورٹی خطرہ ہے کہ نہيں؟

آسٹريليا ميں ملنے والا جو نامی کبوتر حکام کے ليے مسئلہ بن گيا ہے۔ ابتداء ميں اسے بايو سکيورٹی خطرہ قرار ديتے ہوئے مار ڈالنے کا حکم ديا گيا تھا مگر نئے شواہد کی بنياد پر اب نيا موڑ آ گیا ہے۔

جو نامی کبوتر امريکی ہے يا آسٹريلوی، بايو سکيورٹی خطرہ ہے کہ نہيں؟
جو نامی کبوتر امريکی ہے يا آسٹريلوی، بايو سکيورٹی خطرہ ہے کہ نہيں؟
user

ڈی. ڈبلیو

آسٹريلوی شہر ميلبورن کے ايک مکان کے باغيچے ميں چھبيس دسمبر کو ايک کبوتر ملا، جس کے پير پر ايک پرچی لگی ہوئی تھی۔ اس پرچی پر درج معلومات سے يہ تاثر ملا کہ دراصل اس کبوتر کا تعلق تيرہ ہزار کلوميٹر دور امريکی رياست اوريگون سے ہے اور يہ دو ماہ کا سفر کے کر کے وہاں پہنچا تھا۔ اس بنياد پر آسٹريلوی حکام نے اسے ايک 'بايو سکيورٹی خطرہ‘ قرار ديتے ہوئے اسے مار ڈالنے کا فيصلہ کر ليا۔ تاہم اب ايک امريکی تنظيم نے واضح کيا ہے کہ کبوتر کے پير سے بندھی پرچی جعلی ہے، جس سے اس کبوتر کی جان بخش ديے جانے کی اميد پيدا ہو گئی ہے۔

امريکن ريسنگ پجن يونين نے پندرہ جنوری کو تصديق کی کہ کبوتر کی پانگ سے بندھا بينڈ جعلی ہے کيونکہ جس کبوتر کی ٹانگ پر اس نمبر کا بينڈ باندھا گيا تھا، وہ کسی اور نسل کا کبوتر تھا۔يونين کی جانب سے کہا گيا ہے کہ آسٹريليا ميں دريافت ہونے والا کبوتر، جس کا نام جو رکھ ديا گيا ہے، کا تعلق آسٹريليا ہی سے ہے۔

قائم مقام آسٹريلوی وزير اعظم مائيکل کورميک نے قبل ازيں يہ کہا تھا کہ اگر يہ کبوتر امريکی نکلا، تو اسے مار ڈالا جائے گا۔ در اصل ان کے اس اقدام کی وجہ کورونا وائرس کی عالمی وبا ہے جس کی وجہ سے سفری پابندياں نافذ ہيں۔

دوسری جانب آسٹريلوی رياست وکٹوريہ کے وزير صحت مارٹن فولی نے اس پرندے کی جان بخش ديے جانے کی اپيل کی ہے۔ اسی رياست کے ايک اور قانون ساز اينڈی ميڈک نے بھی کبوتر کو نہ مارنے کی ہی تاکيد کی ہے۔ ميلبورن کے شہری کيون کيلیبرڈ، جن کے مکان کے باغيچے ميں جو ملا تھا، بھی خوش دکھائی ديتے ہيں کہ جو کو بخش ديا جائے گا۔

کيا کوئی کبوتر امريکا سے آسٹريليا اڑ کر جا سکتا ہے؟

کبوتروں کی ريس کرانے والے لوکاس کريمر کا کہنا ہے کہ ايسا ممکن ہے کہ جو امريکا سے اڑ کر آسٹريليا پہنچا ہو مگر اس کے امکانات کم ہيں۔ ان کے بقول امريکا ميں جاپانی پرندے ملتے ہيں۔ ليکن جو کے بارے ميں ان کا خيال ہے کہ وہ آسٹريلوی ہی ہے اور يہ بھی کہ وہ ريس کرنے والا کبوتر نہيں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next