دنیا کی تاریخ میں سب سے طویل سزائیں پانے والے مجرم

ترکی کے مبلغ عدنان اوکتار (قلمی نام ہاروں یحییٰ) کو جنسی جرائم کی پاداش میں ایک ہزار پچھہتر برس قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ دنیا میں طویل ترین سزائیں پانے والے افراد کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے۔

دنیا کی تاریخ میں سب سے طویل سزائیں پانے والے مجرم
دنیا کی تاریخ میں سب سے طویل سزائیں پانے والے مجرم
user

ڈی. ڈبلیو

عدنان اوکتار ترک شہری ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اسلامی فرقے کے رہنما بھی ہیں۔ وہ ٹیلی وژن پر تبلیغ کرنے اور اپنے ہمراہ خواتین رکھنے کی وجہ سے بھی مشہور ہیں۔ گیارہ جنوری کو ایک ترک عدالت نے انہیں جنسی جرائم اور ایک گینگ کی تشکیل سمیت دس مختلف الزامات میں 1075 برس قید کی سزا سنائی ہے۔

اوکتار کی ویب سائٹ سمیت تین سو سے زائد کتابوں کے مصنف ہیں اور ان کے تراجم دنیا کی تہتر زبانوں میں ہو چکے ہیں۔ ان میں ایک کتاب وہ بھی ہے، جو ان کے قلمی نام ہارون یحییٰ کے ساتھ شائع ہوئی اور جس میں انہوں نے عالمی دہشت گردی کی وجہ ڈارون کے نظریہ ارتقاء کو قرار دیا ہے۔ وہ اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہیں۔

طویل ترین سزائیں پانے والے افراد

عدنان اوکتار اتنی طویل سزا پانے والے پہلے مجرم نہیں ہیں۔ امریکا، اسپین اور کئی دیگر ممالک میں بھی ایسے سزائیں سنائی جا چکی ہیں۔

ٹیری نکولس

انتہائی دائیں بازو کے دہشت گرد ٹیری نکولس کو اپنے ساتھی اور سابق فوجی ٹموتھی میک وے کی مدد کرنے کی جرم میں 161 مرتبہ عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ علاوہ ازیں اس مجرم کو 9330 برس بغیر پیرول کے سزائے قید دی گئی تھی۔ ٹموتھی میک وے نے سن 1995ء میں اوکلا ہوما میں بم دھماکے کیے تھے، جن میں 19 بچوں سمیت 168 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ٹموتھی میک وے کو سزائے موت دے دی گئی تھی۔

چارلس سکاٹ رابنسن

اسی طرح اوکلاہوما میں ہی ایک عدالت نے 1994ء میں چارلس سکاٹ رابنسن کو 30 ہزار برس قید کی سزا سنائی تھی۔ اس مجرم نے ایک چھوٹے بچے کو بے دردی سے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔

چاموئے تھیپاسو

گنیز بک آف ریکارڈز کے مطابق دنیا کی سب سے طویل عمر قید کی سزا تھائی لینڈ میں پیرامیڈ اسکیم چلانے والے دھوکے باز چاموئے تھیپاسو کو سنائی گئی تھی۔انہیں 1989ء میں ایک لاکھ اکتالیس ہزار سے زائد برس قید کی سزا ملی تھی۔ تھائی شاہی خاندان کے چند ممبران کو دھوکا دینے کے باوجود اس مجرم نے آٹھ برس جیل میں رہنے کے بعد رہائی حاصل کر لی تھی۔

بیس ہزار سال

یورپی یونین میں سب سے زیادہ طویل سزائیں سنانے کا ریکارڈ اسپین کی عدالتوں کے پاس ہے۔ سن دو ہزار چار میں ٹرین بم دھماکوں کے جرم میں القاعدہ کے تین اراکین کو مجموعی طور پر ایک لاکھ بیس ہزار برس قید کی سزائیں سنائی گئی تھیں۔ ان حملوں میں ایک سو تریانوے افراد ہلاک ہو ئے تھے۔

اسی طرح اسپین کی علیحدگی پسند تنظیم ایٹا (ای ٹی اے) کے اراکین کو بھی ہزاروں سال قید کی سزائیں سنائی گئیں۔ ان میں خاتون انیس ڈیل ریو پراڈا بھی شامل ہیں، جنہیں چوبیس ہلاکتوں اور دہشت گردی کی دیگر کارروائیوں میں شامل ہونے کی بنیاد پر تین ہزار آٹھ سو اٹھائیس سال سزائے قید سنائی گئی تھی۔ یورپیئن کورٹ آف ہیومن رائٹس کے حکم پر اس خاتون مجرم کو چھبیس سال قید کے بعد 2013ء میں رہا کر دیا گیا تھا۔

عدنان اوکتار اور عبدالقدیر

استنبول میں عدنان اوکتار کو سنائی جانے والی سزا حالیہ چند مہینوں کے دوران دوسری طویل ترین قید کی سزا تھی۔ اس سے قبل استنبول کی ہی ایک عدالت نے ازبک دہشت گرد عبدالقدیر کو 40 مرتبہ عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ عبدالقدیر نے سن 2017ء میں رانیا نائٹ کلب میں نیو ایئر تقریب کے دوران حملہ کرتے ہوئے چالیس افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔ داعش کے اس مبینہ رکن کو اقدام قتل کے تحت 1368 برس کی اضافی قید بھی سنائی گئی تھی۔

بیرنارڈ میکگن

برطانیہ میں اب تک طویل ترین سزا آئرش ریپبلک آرمی کے رکن اور سنائپر بیرنارڈ میکگن کو سنائی گئی ہے۔ بیرنارڈ کو کئی دیگر کے علاوہ لندن میں ڈوکلینڈز اینڈ بالٹک ایکسچینج پر حملے کے جرم میں 490 برس قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ اس مجرم کو 'گڈ فرائیڈے ایگریمنٹ‘ کے تحت سولہ ماہ قید کاٹنے کے بعد سن دو ہزار میں رہا کر دیا گیا تھا۔

اینڈریو آسٹن

برطانوی شہری اینڈریو آسٹن کو سن 2002ء کے دوران برمنگھم میں بوڑھے اور اپاہج افراد پر حملہ کرنے کے جرم میں 26 مرتبہ عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

سن 1974ء کے آئرش ریپبلک آرمی بم دھماکوں کے نتیجے میں چھ آئرش باشندوں کو غلطی سے اکیس مرتبہ عمر قید کی سزائیں سنائی گئی تھیں۔ لیکن سولہ برس بعد ان کی سزاؤں کو ختم کرتے ہوئے انہیں رہا کر دیا گیا تھا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next