کورونا وائرس: مساجد میں نمازوں کے اوقات محدود کر دیے گئے

ہزاروں انسانوں کی موت کا باعث بننے والے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کی خاطر مصر کی وزارت اوقاف نے ملک بھر کی مساجد میں نماز کے اوقات محدود کر دیے ہیں۔

کورونا وائرس: مساجد میں نمازوں کے اوقات محدود کر دیے گئے
کورونا وائرس: مساجد میں نمازوں کے اوقات محدود کر دیے گئے
user

ڈی. ڈبلیو

قاہرہ سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق مصر میں، جو شمالی افریقہ کی ایک عرب مسلم اکثریتی ریاست ہے، اس اقدام کی وجہ حکومت کا یہ عزم بنا کہ اس ملک میں کورونا وائرس کے پھیلنے کو ہر ممکنہ حد تک روکا جائے۔ اسی لیے عرب دنیا کے اس سب سے زیادہ آبادی والے ملک میں مذہبی تنظیموں اور اوقاف کی نگران وزارت نے تمام مساجد میں نمازوں کے اوقات محدود کر دیے ہیں۔

مصری اخبار 'الاہرام‘ نے اپنی اشاعت میں ملکی وزارت اوقاف کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ملک کی تمام مساجد کے انتظامی اداروں کو ہدایت کر دی گئی ہے کہ اب کسی بھی نماز کے لیے مؤذن کی پہلی اذان اور اقامت کے وقت دی جانے والی اذان کے مابین زیادہ سے زیادہ صرف دس منٹ کا فرق ہو سکتا ہے۔

'الاہرام‘ کے مطابق اس فیصلے کا اطلاق مصری مساجد میں فجر، ظہر، عصر اور عشاء کی باجماعت پڑھی جانے والی نمازوں پر ہو گا اور غروب آفتاب کے فوراﹰ بعد پڑھی جانے والی مغرب کی نماز کے لیے ان دونوں اذانوں کا درمیانی وقفہ زیادہ سے زیادہ صرف پانچ منٹ کر دیا گیا ہے۔

جمعے کے خطبے کا دورانیہ صرف 15 منٹ

نیوز ایجنسی کے این اے نے لکھا ہے کہ ان اقدامات کے علاوہ قاہرہ میں وزارت اوقاف نے یہ ہدایت بھی جاری کر دی ہے کہ اب جمعے کی نماز سے قبل کسی بھی مصری مسجد میں دیا جانے والا خطبہ زیادہ سے زیادہ صرف 15 منٹ دورانیے کا ہو گا۔ مزید یہ کہ تمام مساجد کو یہ سرکاری ہدایت بھی جاری کر دی گئی ہے کہ اگر ممکن ہو، تو وہاں جمعے کی باجماعت نماز کسی بھی بند عمارت کے اندر کے بجائے کھلی جگہ پر پڑھائی جائے۔

کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں اب تک ایک لاکھ پندرہ ہزار کے قریب افراد بیمار پڑ چکے ہیں جبکہ ہلاکتیں بھی چار ہزار سے زیادہ ہو چکی ہیں۔ مصر میں کل منگل دس مارچ کو حکومت نے عوامی سطح پر منعقد کیے جانے والے تمام بڑے اجتماعات پر بھی پابندی لگا دی تھی۔ اس اقدام کا مقصد کورونا وائرس اور اس کی وجہ سے لگنے والی بیماری کووِڈ انیس کے پھیلاؤ کو روکنا ہے۔

مصری وزارت صحت نے اب تک 59 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص کی تصدیق کی ہے اور اطلاعات کے مطابق اب تک وہاں اس مہلک وائرس کی وجہ سے کوئی شہری ہلاک نہیں ہوا۔