جرمنی: آدم خوری اور قتل کا الزام، مشتبہ شخص گرفتار

جرمن دارالحکومت برلن میں ایک 41 سالہ شخص پولیس کی حراست میں ہے۔ پولیس کے مطابق اس نے ایک 44 سالہ شخص کو قتل کر کے اس کا گوشت کھایا۔

جرمنی: آدم خوری اور قتل کا الزام، مشتبہ شخص گرفتار
جرمنی: آدم خوری اور قتل کا الزام، مشتبہ شخص گرفتار
user

ڈی. ڈبلیو

برلن میں آٹھ نومبر کو چند راہگیروں کو جھاڑیوں سے انسانی ہڈیاں ملی تھیں۔ تفتیش کاروں نے تین ماہ سے ایک لاپتہ شخص اور ان ہڈیوں کے ڈی این اے ٹیسٹ کے نتائج ملنے کے بعد ایک مشتبہ شخص کو قتل اور آدم خوری کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔

جرمن پولیس کو اس مشتبہ شخص کے اپارٹمنٹ سے کٹائی کے چند اوزار اور خون کے نشانات ملے۔ اس شخص کی انٹرنیٹ پر سرچ ہسٹری چیک کرنے سے پتہ چلا کہ وہ انسانوں کا گوشت کھانے میں دلچسپی رکھتا تھا۔


برلن کے دفتر استغاثہ کے مطابق یہ مشتبہ شخص مبینہ طور پر ایک ہائی اسکول ٹیچر ہے۔ استغاثہ کے ترجمان مارٹن اشٹیلٹنر نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ مشتبہ شخص کو آدم خوری میں دلچسپی تھی۔ ان کے بقول، ’’اس نے اس عنوان کو انٹرنیٹ پر تلاش کیا تھا۔‘‘

پولیس نے مزید بتایا کہ مشتبہ شخص کے اپارٹمنٹ کی تلاشی لیتے ہوئے انہیں چھریوں اور آریوں کے علاوہ ہڈیوں کے ٹکڑے اور خون کے نشانات سمیت دیگر کٹائی کے اوزار بھی ملے تھے۔


سنسنی خیز تحقیقات

مبینہ آدم خور انسان کا شکار چوالیس سالہ اشٹیفان ٹی تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ اشٹیفان ستمبر کے آغاز سے لاپتہ ہوگیا تھا۔ اس کی تلاش میں پولیس کی جانب سے تصویر جاری کی گئی اور عوام سے مدد کی اپیل کی گئی تھی۔ لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا۔


پولیس نے تفتیش جاری رکھتے ہوئے اشٹیفان سے آن لائن رابطہ کرنے والے افراد سے چھان بین شروع کر دی۔ پولیس کو شبہ ہے کہ مشتبہ شخص نے اشٹیفان سے آن لائن ڈیٹنگ کی ویب سائٹ پر رابطہ کیا تھا۔

ہڈیوں کا ڈی این اے


تقریباﹰ تین ماہ بعد برلن کے پانکو ضلع میں چند راہگیروں نے جھاڑیوں سے کچھ انسانی ہڈیاں ملنے کی اطلاع دی تھی۔ اس کے بعد فرانزک معائنہ سے انکشاف ہوا کہ یہ ہڈیاں گمشدہ شخص اشٹیفان کی تھیں۔

ان تحقیقات کے دوران جرائم کا سراغ لگانے والے کتے بھی استعمال کیے گئے تھے۔ اس کے نتیجے میں 41 سالہ مشتبہ شخص کو بدھ 18 نومبر کو گرفتار کیا گیا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔