پارسی: صدیوں کے سفر میں فراموش کر دی گئی مذہبی برادری

ماضی میں پارسی برادری کراچی کی رونق ہوا کرتی تھی۔ پھر مذہبی عدم برداشت نے کراچی سے اس کی یہ رونق چھین لی۔ پارسی آبادی کی خدمات و کارنامے کراچی کے ماضی اور حال کی زینت میں ہمیشہ اضافے کا باعث بنے۔

پارسی: صدیوں کے سفر میں فراموش کر دی گئی مذہبی برادری
پارسی: صدیوں کے سفر میں فراموش کر دی گئی مذہبی برادری
user

ڈی. ڈبلیو

پچھلی کچھ دہائیوں سے پاکستان میں آباد پارسیوں کی تعداد میں تیزی سے کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ اس کے محرکات میں بنیادی طور پر ملک میں امن و امان کی صورتحال کے ساتھ ساتھ اعلیٰ تعلیمی اداروں اور نوکری کے بہتر مواقع کا فقدان بھی شامل ہے۔ پارسی برادری میں شرح تعلیم سو فیصد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پارسیوں کی کارکردگی پاکستان کی دوسری اقلیتوں کے مقابلے میں ہر شعبے میں نمایاں ہے۔

پارسیوں کا زرتشتی عقیدہ عالمی تاریخ کے قدیم ترین مذاہب میں سے ایک ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ مذہب بدھ مت، یہودیت، مسیحیت اور اسلام سے کہیں زیادہ پرانا ہے۔ کراچی شہر میں واقع بہت سی تعمیرات اب بھی پارسیوں کی خدمات کا پتا دیتی ہیں۔ اس شہر میں زرتشتیوں کی عبادت گاہ دارمیر 1848ء میں تعمیر کی گئی تھی۔ اس عمارت کا فن تعمیر آج بھی اس کے تابناک ماضی کی یاد دلاتا ہے۔ اس میں اب پارسیوں کا ہجوم دیکھنے میں نہیں آتا۔ اس لیے کہ مقامی زرتشتیوں کی ایک بڑی تعداد بیرون ملک منتقل ہو چکی ہے۔ تاہم یہ برادری آج بھی پہلے کی طرح متحد ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ معاشرے میں پارسیوں سے متعلق غلط فہمیوں نے انہیں سماجی طور پر تنہا کر دیا ہے۔ معاشرے نے پارسی برادری کی خدمات کو تو فراموش کر دیا لیکن پارسیوں کے قائم کردہ فلاحی اور تعلیمی ادارے آج بھی بلا تفریق سب کو یکساں امداد اور تعلیم دے رہے ہیں۔

تقسیم ہند اور قیام پاکستان کے وقت کراچی میں غیر مسلم آبادی کا تناسب بھی بہت زیادہ تھا۔ اس میں پارسی برادری بھی ایک بڑا نام تھا۔ تعلیم، کاروبار، سیاست یا سماجی خدمت، پارسی برادری کسی سے پیچھے نہیں تھی۔ اگرچہ قدیم زرتشتی ایران سے تعلق رکھتے تھے تاہم وہ برصغیر کی ثقافت میں اس طرح گھل مل گئے کہ پھر یہیں کے ہو کر رہ گئے۔

اب لیکن پورے پاکستان میں ان کی تعداد تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ روشن خورشید برہوچہ نیشنل کمیشن فار مائنوریٹی رائٹس کی رکن ہونے کے ساتھ ساتھ وفاقی وزیر بھی رہ چکی ہیں۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''کراچی میں پارسیوں کی تعداد تقریباً 1100 ہے۔ کوئٹہ، راولپنڈی اور ملتان میں نو خاندان اور لاہور میں دس خاندان آباد ہیں۔‘‘

پارسی برادری کی خدمات

تعداد میں کم لیکن تعلیم اور کاروبار میں کامیاب اس برادری نے پاکستان کی ترقی میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ بیرام دنشا آواری پاکستان کی ایک مایہ ناز کاروباری شخصیت ہیں۔ وہ آواری بیچ لگژری ہوٹل اور آواری ہوٹل کے مالک ہیں۔ آواری گروپ پاکستان کی تاریخ کا پہلا گروپ تھا جس نے بیرون ملک بھی ہوٹل بزنس کامیابی سے چلایا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بیرام دنشا آواری نے صرف کاروباری دنیا میں ہی کامیابی حاصل نہیں کی بلکہ وہ دو بار سن 1978 اور سن 1982 کے ایشین گیمز میں کشتی رانی کے مقابلوں میں سونے کا تمغہ بھی جیت چکے ہیں۔ ان کی اہلیہ گوشپی آواری نے 1982ء میں بیرام دنشا آواری کے ہمراہ سونے کا تمغہ جیتا تھا۔ وہ پاکستان کی پہلی خاتون کھلاڑی ہیں، جنہوں نے کسی بین الاقوامی مقابلے میں سونے کا تمغہ اپنے نام کیا تھا۔

بانی کراچی

کراچی کی تاریخ جمشید نسروانجی مہتا کے ذکر کے بغیر ہمیشہ نامکمل ہی ہو گی۔ جمشید نسروانجی مہتا کو بانی کراچی بھی کہا جاتا ہے۔ انہیں کراچی کا پہلا میئر ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ یہ جمشید مہتا کی محنت ہی تھی کہ جس نے چھوٹے سے شہر کراچی میں سڑکیں، ہسپتال، تعلیمی اور فلاحی ادارے اور پارک تعمیر کروائے، یہاں تک کہ شجرکاری بھی کروائی اور جانوروں کے لیے پینے کے پانی کا ایک باقاعدہ نظام قائم کیا اور ان کے لیے ایک ہسپتال بھی تعمیر کروایا۔ جس شہر میں آج جابجا کچرے کے ڈھیر نظر آتے ہیں، مہتا کے دور میں اس شہر کی سڑکیں دن میں دو بار دھلوائی جاتی تھیں۔ اسی وجہ سے اس وقت کراچی کو مشرق کا سب سے صاف شہر تصور کیا جاتا تھا۔ کراچی میں واقع جمشید کوارٹرز آج بھی جمشید مہتا کی یاد تازہ کرتے ہیں۔

سفارت کار

جمشید مارکرجو تین دہائیوں سے زیادہ عرصے تک سفارتکار رہے تھے، پارسی برادری کا ایک جگمگاتا نام ہیں۔ جمشید مارکر کو ہلالِ امتیاز سے بھی نوازا گیا اور تقریباﹰ ایک درجن سے زیادہ ممالک میں سفارت کار رہنے پر ان کا نام گینس ورلڈ ریکارڈز میں بھی شامل ہے۔

پارسی قانون دان

پارسی برادری سے تعلق رکھنے والے جسٹس دراب پٹیل چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ بھی رہے۔ وہ انسانی حقوق کی تنظیموں کے بانی بھی تھے۔ انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کے لیے پھانسی کی سزا کی مخالفت کی تھی اور پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے بھی انکار کیا تھا۔ اس کے علاوہ رستم سہراب جی سدھوا، اردشیر کاوسجی اور جمی انجینئر بھی پارسی برادری ہی سے تعلق رکھنے والے بڑے نام ہیں۔ ماما پارسی اسکول، ڈی جے سائنس کالج اور انکل سریا ہسپتال بھی پارسی برادری کی طرف سے بنائے گئے تھے۔ پاکستان کی مایہ ناز انجینئرنگ یونیورسٹی این ای ڈی بھی ایک پارسی نادر شاہ ادلجی دنشاہ کے نام پر ہے۔

پارسیوں کی پاکستان میں کم ہوتی ہوئی تعداد

پاکستان میں فرقہ وارانہ خونریزی اقلیتی مذاہب کے باشندوں میں شدید تشویش کا باعث بنی۔ سیاسی عدم استحکام، طالبان کی طرف سے بڑھتے ہوئے خطرات اور جبری تبدیلی مذہب کے واقعات نے صاحب حیثیت اقلیتی باشندوں کو ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔ ملک چھوڑنے والوں میں نوجوان طبقے کی تعداد زیادہ ہے۔ ایک پاکستانی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق 1941ء میں پارسیوں کی تعداد ایک لاکھ 14 ہزار تھی۔ پاکستانی زرتشتی بانو مَندآل کے مطابق 1995ء میں یہ تعداد 2,831 رہ گئی۔ پھر 2012 میں یہی تعداد مزید کم ہو کر 1,675 رہ گئی تھی۔

بیرام دنشا آواری نے اس تناظر میں ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''نوجوانوں کے بیرون ملک جانے کی بڑی وجہ تعلیم کا حصول تو یقیناﹰ ہے مگر پچھلے کچھ سالوں میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال بھی ہے۔ اس کی دوسری بڑی وجہ ہمارے معاشرے میں قانون کی پاسداری کا فقدان بھی ہے۔ قوانین تو موجود ہیں لیکن ان پر عملدرآمد نہیں کیا جاتا، جس کے باعث اقلیتی برادری خود کو غیر محفوظ محسوس کرتی ہے۔ اسی وجہ سے پاکستان کے مقابلے میں اب کینیڈا اور امریکا میں پارسیوں کی تعداد زیادہ ہے۔‘‘

روشن خورشید برہوچہ کے بقول پارسی دوسرے ملک ہجرت نہیں کر رہے بلکہ نئی نسل تعلیم کے حصول کے لیے باہر جا رہی ہے۔ ہوا بازی کی صنعت سے تعلق رکھنے والی نتاشا ماولوالا کا کہنا ہے، ''اگرچہ پاکستان میں بھی معیاری تعلیمی ادارے موجود ہیں لیکن اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے ملک سے باہر جانا بھی ناگزیر ہے۔‘‘ کم ہوتی ہوئی تعداد کی ایک اور اہم وجہ یہ بھی ہے کہ پارسی لڑکیاں اپنی برادری سے باہر شادی نہیں کر سکتیں۔ اسی طرح کوئی دوسرا بھی اپنا مذہب تبدیل کر کے زرتشتی نہیں بن سکتا۔ پارسی برادری میں شرح پیدائش کا کم ہونا بھی اس آبادی میں کمی کی ایک بہت بڑی وجہ ہے۔ ان تمام وجوہات نے پاکستان میں مقیم پارسی برادری کو بہت حد تک تنہا کر دیا ہے۔ نتاشا ماولوالا کہتی ہیں، ''میں بچپن میں اپنے مذہبی تہواروں پر جوش و خروش سے تیاریاں کیا کرتی تھی اور پوری برادری میں خوب گہما گہمی ہوتی تھی۔ اب لیکن یہ سب کچھ ختم ہو گیا ہے۔‘‘

کراچی کے رہائشی ارشیش ایرانی جو پیشے کے لحاظ سے انجینئر ہیں۔ انہوں نے اس بارے میں ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''ہم اکیلاپن تو محسوس کرتے ہیں لیکن اس بات کا اطمینان بھی ہے کہ ہماری اولاد بیرون ملک اپنی زندگی سے مطمئن، خوش اور کامیاب ہے۔‘‘ وہ اپنی اہلیہ کے ہمراہ ہرسال اپنے بچوں سے ملنے بیرون ملک جاتے ہیں۔ پاکستان میں پارسیوں کے مستقبل سے متعلق ایک سوال کے جواب میں بیرام آواری پُرامید نظر آئے۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا،''نوجوان پارسی ملک واپس آ کر اپنے معاشرے کے لیے کچھ مثبت کرنا چاہتے ہیں۔ چونکہ پارسی فلاحی کاموں میں ہمیشہ آگے رہے ہیں، اسی طرح پارسی نوجوان بھی اپنے ملک واپس آکر اسی روایت کو زندہ رکھیں گے۔ پارسی بھی پاکستان کے اتنے ہی وفادار ہیں جتنا کوئی اور پاکستانی، اسی لیے عمر رسیدہ پارسی پاکستان کو ہی اپنا گھر تصور کرتے ہیں اور یہاں سے جانا نہیں چاہتے۔‘‘

زرتشتی عقائد

زرتشتی مذہب کی مقدس کتاب کا نام اوستہ ہے۔ زرتشتی عقائد کے مطابق ہر چیز کا خالق ایک خدا آہورا مذدا ہے اور زرتشتی دن میں پانچ بار اس کی عبادت کرتے ہیں۔ روشن خورشید برہوچہ نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''اس کی بنیاد تین اصولوں پر ہے، نیک اعمال، اچھی سوچ اور خوش گفتاری۔ نو سے بارہ سال تک کے بچوں کو زرتشتی مذہب میں باقاعدہ طور پر شامل کیا جاتا ہے، جسے نوجوت کہتے ہیں۔ عنایت گزدار کی کتاب'زرتشتیوں کے لیے اے بی سی‘ کے مطابق خدا نے انسان کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ اچھائی اور برائی کے راستے میں تمیز کر سکے۔

زرتشتی عقیدے میں موت کے بعد صدقے کے آخری عمل کے طور پر جسم کو پرندوں کی خوراک بننے دیا جاتا ہے تاکہ مردہ انسانی جسم پانی ہوا اور زمین کو ناپاک نا کرے۔ تاہم اس عقیدے کے مطابق سب انسان برابر ہیں اور موت کے بعد ان کے اعمال ہی ان کے کام آئیں گے۔ اس لیے پارسی برادری میں فلاحی کاموں کا رجحان بہت زیادہ ہے۔ یہ برادری معاشی طور پر کمزور پارسی خاندانوں کی بھی ہر ممکن مدد کرتی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next