افغانستان کو پاکستان اور چین کی جانب سے انسانی امداد

حکومت پاکستان نے افغانستان کے عوام کے لیے انسانی بنیادوں پر خوراک اور ادویات پر مشتمل ضروری امداد بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ چین نے بھی افغان عوام کو تین کروڑ ڈالر کی فوری امداد دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

افغانستان کو پاکستان اور چین کی جانب سے انسانی امداد
افغانستان کو پاکستان اور چین کی جانب سے انسانی امداد
user

Dw

پاکستانی وزارت خارجہ کی طرف سے بدھ کے روز جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ تین سی 130 طیاروں کے ذریعہ امدادی سامان افغانستان روانہ کیا جا رہا ہے اور فوری امدادی اشیاء کی ہوائی جہاز کے ذریعہ روانگی کے بعد مزید امدادی سامان زمینی راستے سے بھجوانے کا سلسلہ جاری رہے گا۔

پاکستان نے امداد بھیجنے کا یہ اعلان افغانستان میں طالبان کی طرف سے عبوری حکومت کے اعلان کے ایک روز بعد کیا۔ افغانستان ایک عرصے سے شدید اقتصادی بحران سے دو چار ہے اور حالیہ مہینوں میں یہ صورت حال مزید خراب ہو گئی ہے۔ گوکہ قطر سے تقریباً روزانہ ہی طیاروں کے ذریعہ امدادی سامان افغانستان پہنچایا جارہا ہے تاہم اس کے باوجود افغان عوام کو بڑے پیمانے پر خوراک اور ادویات کی فوری ضرورت ہے۔


عالمی برداری سے تعاون کی اپیل

پاکستان نے عالمی برادری پر بھی زور دیا ہے کہ وہ افغان عوام کی مدد میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ ممکنہ انسانی بحران سے بچا جا سکے۔

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے افغانستان کے پڑوسی ملکوں کے وزرائے خارجہ کی ایک ورچوئل میٹنگ سے بدھ کے روز خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان موجودہ حالات میں افغان بھائیوں کی ہر ممکن مدد جاری رکھے گی۔ اس میٹنگ میں چین، ایران، تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان کے وزرائے خارجہ نے بھی حصہ لیا۔


پاکستان نے طالبان کی طرف سے حکومت کے قیام کے اعلان کے بعد اپنے پہلے سرکاری بیان میں امید ظاہر کی کہ نیا سیاسی نظم و نسق افغانستان میں امن، سلامتی اور استحکام کے لیے مربوط کوششوں کو یقینی بنائے گا۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا،”ہمیں جس خون خرابے کا خدشہ تھا اس سے افغانستان محفوظ رہا اور تصادم اور خانہ جنگی کا خطرہ بظاہر ٹل گیا ہے۔ سب سے بڑا خدشہ بڑے پیمانے پر لوگوں کی نقل مکانی کا تھا لیکن ایسا نہیں ہوا۔"


انہوں نے کہا صورت حال گوکہ اب بھی پیچیدہ اور غیر مستحکم ہے تاہم ”ہمیں پرانے عینک کے بجائے نئے طریقے سے دیکھنے اور حقیقی اور امید افزا اپروچ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔

اس دوران پاکستان کے دفتر خارجہ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے،”ہم امید کرتے ہیں کہ نیا سیاسی نظم و نسق افغانستان میں امن، سلامتی اور استحکام کے لیے مربوط کوششوں کو یقینی بنائے گا اور اس کے ساتھ ساتھ افغان عوام کی انسانی اور ترقیاتی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کام کرے گا۔"بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان پرامن، مستحکم، خود مختار اور خوشحال افغانستان کے لیے اپنے پختہ عزم پر کاربند ہے۔


چین کی جانب سے امداد کا اعلان

چین کے وزیر خارجہ وینگ یائی نے افغانستان کے لیے تین کروڑ ڈالر سے زائد کی امداد کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیجنگ ا فغانستان میں ترقی کے لیے مدد دے گا۔

خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق چین کے وزیر خارجہ نے اس بات کا اظہار افغانستان میں سفارتکاروں سے ویڈیو کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم افغانستان کی خود مختاری اور آزادی کا احترام کرتے ہوئے ملکی ترقی کے لیے ان کی مدد کریں گے۔


وینگ یائی نے کہا کہ وہ افغانستان کو دالوں، سردیوں کی اجناس، ویکسین اور ادویات کی مد میں 3 کروڑ ڈالر سے زائد (20 کروڑ یوآن) کی امداد فراہم کریں گے جبکہ وہ افغان عوام کو 30 لاکھ کووڈ-19 ویکسین کی خوراکیں بھی عطیہ کرنے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے کسی اور ملک کے مقابلے میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کی ذمے داری بنتی ہے کہ وہ افغانستان کی معاشی اور انسانی بنیادوں پر امداد کریں۔

اس سے قبل چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے افغانستان میں نئی حکومت کے قیام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ چین طالبان کی نئی حکومت کے رہنماؤں سے روابط برقرار رکھنے کو تیار ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وینبن نے کہا تھا کہ چین عبوری حکومت کے قیام کے طالبان کے اعلان کو بہت اہمیت دیتا ہے، اس کے ساتھ ہی تین ہفتوں سے ملک میں جاری انارکی کا خاتمہ ہو گیا ہے اور یہ ملک میں امن و امان کی بحالی اور تعمیر نو کے لیے انتہائی اہم قدم ہے۔


ان کا مزید کہنا تھا کہ 'ہمیں اُمید ہے کہ افغان حکام ہر نسل اور گروہ کے لوگوں کو غور سے سنیں گے تاکہ اپنے لوگوں کی خواہشات اور بین الاقوامی برادری کی توقعات پر پورا اتر سکیں۔

اقوام متحدہ کی اپیل

دنیا کے بیشتر ممالک ابھی اس بات پر غور کررہے ہیں کہ آیا طالبان حکومت کو تسلیم کریں یا نہیں۔ وہ افغانستان کو امداد بحال کرنے پر بھی فی الحال غور کر رہے ہیں۔ طالبان کے اقتدار پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد بیشتر ملکوں نے افغانستان کو جاری امداد روک دی ہے۔


اقوام متحدہ میں انسانی امور کے دفتر (او سی ایچ اے) نے عالمی برادری سے مدد کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کو اس ہفتے تک 60 کروڑ ڈالر کی ضرورت ہے تاکہ عوام کو بنیادی خدمات اور زندگی بچانے والے سازوسامان فراہم کیے جا سکیں۔

جرمنی کے وزیر خارجہ ہائیکو ماس نے بدھ کے روز کہا کہ ان کا ملک اقوام متحدہ کے ذریعہ افغانستان کو انسانی امداد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے تاہم کہا کہ اس کے علاوہ دیگر باتیں طالبان کے رویے پر منحصر کریں گی۔


اس دوران سعودی عرب نے پہلی بار افغانستان کی صورت حال پر اپنے پہلے رد عمل میں کہا ہے کہ عبوری حکومت کے قیام سے امن و استحکام قائم کیا جا سکے گا۔ سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے افغانستان کے بحران کے حوالے سے ایک اجلاس کے دوران کہا کہ سعودی عرب افغانستان کو اپنی حمایت جاری رکھے گا تاکہ ملک کو مزید بحران سے نکالا جا سکے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔