امریکا: منشیات کے'اوور ڈوز'سے سال بھر میں ایک لاکھ سے زائد اموات

امریکا میں منشیات کے حد سے زیادہ استعمال کرنے کی وجہ سے ہلاکتوں کی تعداد بندوقوں اور کار حادثات سے ہونے والی اموات سے کہیں زیادہ ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ فنٹینائل نامی مہلک نشہ آور دوا اس کا سبب ہے۔

امریکا: منشیات کے'اوور ڈوز'سے سال بھر میں ایک لاکھ سے زائد اموات
امریکا: منشیات کے'اوور ڈوز'سے سال بھر میں ایک لاکھ سے زائد اموات
user

Dw

امریکا میں بیماریوں کی روک تھام اور تدارک کے مرکز (سی ڈی سی) نے بدھ کے روز اپنی ایک رپورٹ میں بتایا کہ گزشہ ایک برس کے دوران منشیات کے حد سے زائد مقدار میں استعمال کرنے کی وجہ سے ایک لاکھ 306 افراد کی جان چلی گئی۔ ایک سال میں 'اوورڈوز' کی وجہ سے ہونے والی ہلاکتوں کی یہ سب سے بڑی تعداد ہے۔

اس ادارے نے ہسپتالوں سے جاری ہونے والے 'ڈیتھ سرٹیفکیٹس'کی بنیاد پر اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ مئی 2020 سے اپریل 2021 کے دوران منشیات کے 'اوورڈوز' کی وجہ سے ہونے والی اموات میں 28.5 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین کورونا وائرس سے متاثرین افراد کے منشیات کے استعمال اور خطرناک منشیات کی غیر قانونی دستیابی کو اتنی بڑی تعداد میں اموات کی وجہ قرار دے رہے ہیں۔


امریکا میں منشیات کے حد سے زیادہ استعمال کی وجہ سے اموات کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ سن 2020 میں 'اوورڈوز' کی وجہ سے 93000 ہلاکتیں ریکارڈ کی گئی تھیں۔

' اوورڈوز اتنی عام کیوں ہے'

سی ڈ ی سی کی طرف سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ منشیات کا 'اوورڈوز' یعنی ایک مقررہ مقدار سے زیادہ کا استعمال، امریکا میں چوٹی کے دس ''قاتلوں " میں سے ایک ہے اور اس نے کار حادثات، بندوق، فلو اور نمونیا سے ہونے والی ہلاکتو ں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔


ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی مارکیٹ میں فینٹینائل کی کھلے عام دستیابی اموات میں اضافے کی اہم وجہ ہے۔ فینٹینائل ایک انتہائی مہلک نشہ آور مادہ ہے۔ اس نشہ آور دوا نے پانچ برس قبل 'اوورڈوز'کی وجہ سے سب سے زیادہ ہلاکت کا سبب بننے والے ہیروئین کی جگہ لے لی ہے۔ منشیات کا کاروبار کرنے والے دکان دار بالعموم فینٹینائل کو دیگر نشہ آور مادوں میں ملاکر فروخت کرتے ہیں جس کی وجہ سے اس کی ہلاکت خیزی بڑھ جاتی ہے۔

امریکی ڈرگ انفورسمنٹ ایجنسی (ڈی ای اے) کی ایڈمنسٹریٹر اینی ملگرام کا کہنا ہے کہ منشیات کا غیر قانونی کاروبار کرنے والے گروہ پورے امریکا میں فینٹینائل اور میتھ کی بڑے پیمانے پر تیاری کے لیے چینی کیمیکلز کا استعمال کرتے ہیں۔


ملگرام نے بتایا کہ ڈی ای اے نے رواں برس اب تک 5500 کلوگرام فینٹینائل ضبط کی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا نے صورت حال کو مزید ابتر کردیا ہے کیونکہ منشیات استعمال کرنے والے بیشتر افراد تنہا رہ گئے اور ان کی مدد کے لیے کوئی شخص دستیاب نہیں تھا۔

' افسوس ناک سنگ میل'

امریکی صدر جو بائیڈن نے ایک بیان میں ان اعداد و شمار کو " ایک افسوس ناک سنگ میل" قرار دیا۔ حکام ملک میں منشیات کی لعنت کا مقابلہ کرنے کے لیے کانگریس سے اربوں ڈالر کے امداد کی اپیل کرنے والے ہیں۔


امریکی قومی منشیات کنٹرول پالیسی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر راہول گپتا اس صورت حا ل کو ناقابل قبول قراردیتے ہوئے اس کے خلاف "غیرمعمولی اقدامات" کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا میں ''اوورڈوز کی وجہ سے اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتیں کبھی دیکھنے کو نہیں ملی تھیں۔'' ان کا مزید کہنا ہے کہ منشیات کو ضبط کرنا مسئلے کا حل نہیں ہے بلکہ اس کے لیے ٹھوس پالیسی کی ضرورت ہے تاکہ ایسی اموات کے سلسلے کو روکا جا سکے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔