شہر لاہور تیری رونقیں دائم آباد

ایک سادہ لوح پنجابی حج کرنے سرزمین حجاز گیا۔ زیارتیں کر چکا تو کہنے لگا: یا ربا، تیرا مکہ مدینہ بہوں سوہنا ہووے دا پر لہور دی گلھ وکھری اے۔ ۔ یہ نہیں پتا کہ یہ جملہ اس نے کیوں کہا؟

شہر لاہور تیری رونقیں دائم آباد
شہر لاہور تیری رونقیں دائم آباد
user

Dw

لاہور کے قصے لاہور کی باتیں تو ہم نے سنی ہی سنیں، غضب یہ ہوا کہ ہم نے لاہور دیکھ بھی لیا۔ لاہور کی باقی خوبیاں اپنی جگہ، لاہور دوسرا مطلب ہمارے لیے آزادی تھا، سو لاہور اچھا لگنے کے لیے یہ ایک وجہ بھی کافی تھی۔ لاہور نے آزادی سے محبت کرنے دی، ہمیں لاہور سے محبت ہو گئی۔ لوگوں کو آزادی دینے والے دراصل لوگوں کو اپنا اسیر بنا دیتے ہیں۔

سرشاری، الہڑ پن، شوخی کا وہ دور کیا دور تھا۔ کیا جنت ایسی ہی ہوتی ہو گی؟ہونی تو ایسی ہی چاہیے۔ لاہور میں محبت ہو گئی۔ وہ ساری جگہیں جو محبوب سے ملاقات کی گواہ تھیں، اس ہر جگہ کا نام لاہور ہے۔ کہیں بیٹھے لاہور کی نہر، مال روڈ، لارنس گارڈن، ماڈل ٹاؤن کی بینک سکوئر مارکیٹ، جیل روڈ کا تذکرہ ہوتا تو دھڑکن کی لے ٹوٹ جاتی تھی۔ پھر یادیں محض تذکرے سے تو نہیں آتیں۔ کبھی یاد آتی ہے اور تذکرے چل پڑتے ہیں۔ ان یادوں سے محبت ہے۔ ان تذکروں سے محبت ہے۔ لاہور سے محبت ہے۔


محبت روٹھی بھی تو اس کی باقیات تو وہیں تھیں، لاہور میں۔ سب میرین، جیل روڈ کا اشارہ، وہ باغات، وہ شاہراہیں۔ وہ محبت کا امین شہرِ لاہور۔ وہ یادوں کا سنہری ڈبہ، میرا لاہور۔

پھر نئی محبتیں، پھر وہی پرانا شہرِ لاہور۔

نئے وعدے، وہی امین، پرانی انار کلی۔

نئے محبوب، نئی یادیں، پرانی رازدان لاہور کی نہر۔

لاہورعشاق کا شہر ہے۔ لاہور کی ہوا میں کچھ ہے۔ کتا ہی گریز کر لیں محبت ہو ہی جاتی ہے۔ کسی کو لاہور کی ہوا لگی ہو اور کہے مجھے محبت نہیں ہوئی، وہ بھروسے لائق نہیں ہے۔ چلو یہ مان لی جائے کہ اسے کسی سے محبت نہیں ہوئی، کیا یہ بھی مان لیا جائے کہ اسے لاہور سے بھی محبت نہیں ہوئی؟ کیسے مان لیا جائے۔ کیا قدم قدم پہ پھول اور گجرے بیچنے والے بھی محبت کا اظہار نہیں کرواتے؟ گدا گروں کی مولا جوڑی سلامت رکھے جیسی دعائیں بھی گداز پیدا نہیں کرتیں؟ اور اللہ تمہیں بچہ دے جیسی دعائیں؟ آخر کوئی محبت نہ کرنے سے کتنا بچ کے چل سکتا ہے۔


لاہور میں محبت غریب اور امیر میں تفریق نہیں کرتی۔ آپ کی جیب بھاری ہے، تو بہت اچھے۔ اگر نہیں تو سڑک کنارے 20 روپے کا بھٹہ کھانا بھی انداز ریسٹورنٹ کے کھانے سے بہتر ہے۔ کیونکہ لاہور آپ کا دل سرشار رکھتا ہے۔ باقی باتیں بے معنی ہیں۔ لاہور میں ہوئی محبتیں بہت تباہ کن ہوتی ہیں۔آپ ماچو پچو سے لے کر جاپان تک چلے جائیں، لاہور میں ہوئی محبت آپ کے گوڈوں گٹوں میں بیٹھ جاتی ہے، جن محبتوں کا امین لاہور ہو، وہ بھلا آسانی سے تھوڑی جاتی ہیں۔ کیا وجہ تھی جو ایک غیر ملک سیٹل ہونے کے بعد بھی ہچکیوں میں فون آتا ہے: تینون بھلنا وسوں باہر اے۔

لاہور سے دور جا کے جن کی محبتیں بیمار ہوئیں، انہیں کبھی اپنے قدموں پہ اٹھتے دیکھا نہیں۔ جو غم لاہور دیتا ہے، تو اس کا مرہم بھی لاہور ہی کر پاتا ہے۔ ایک روز خواب میں کسی نے کہا کہ میں اب "disenchanted” ہوں۔ کافی دن پریشانی تو رہی مگر پھر خیال آیا جو جادو لاہور میں ہوا تھا، اس کا توڑ امرتسر کے پاس کہاں ہو گا۔ ستے خیراں نیں۔


محبتیں آتی جاتی رہتی ہیں، لاہور وہیں ٹھہرا رہتا ہے، اپنا الہڑ پن لیے۔ کسی کسی وقت نہر سے آتی ہوا دے پیام بھجواتا ہے، کان میں سرگوشی ہوتی ہے: یہ سب تو آتی جاتی رتوں کے قصے ہیں، اصلی محبت میں ہی رہوں گا۔ میں، شہرِ لاہور۔ ایسا ہی ایک سندیس آیا تو سمجھ آئی کہ لاہور سے محبت محبتوں، یادوں، آزادی کی محتاج نہیں۔ لاہور سے محبت دراصل لاہور سے ہی محبت ہے۔ لاہور سراپا محبت ہے۔ اس کا ہر گلی کوچہ، ہر گلی محلہ۔

لاہور سے دور ہو تو ایک دکھ یہ بھی ہوتا کہ اب کبھی محبت نہ ہو پائے گی کیونکہ محبتیں کروانے والا لاہور تھا اور محبت نہ بھی ہو تو، لاہور ایسا کہ وہاں سنگل بندہ بھی خوش رہتا ہے۔ جی یونہی سرشار سا رہتا ہے۔ صابر نذر مصور ہے، سو وہ اپنے پینٹنگ برش اٹھاتا ہے اور رنگوں کی زبان میں لاہور کو محبت نامے لکھ ڈالتا ہے۔ حالانکہ لاہور بذات خود ایک پینٹنگ ہے، اسے بھلا کیا پینٹ کرنا۔ میں اگر شاعری کر سکتی تو اپنی ہر نظم اس شہر، اس کی نہر، اس کے املتاس، اس کے جی پی او، اس کے لوگوں، اس کی خوشبو۔ پہ لکھتی۔


آپ دنیا کے کسی شہر میں چلے جاؤ، لاہور سے محبت آپ کی رگوں میں بہتی ہے۔ لاہور واپس آؤ تو یہ شہر نہ گلہ کرتا ہے نہ شکایت، بازو کھول کر گلے ملتا ہے اور وہیں سے قصہ شروع ہوتا، جہاں سے آپ نے رخصت لی ہو۔ لاہور کی ہوائیں، جامن کے درخت، شاہ عالمی کی بھیڑ، مال روڈ کی ٹھنڈی چھاؤں، لبرٹی کی رونق۔ سب ویسی ہی ملتی ہے۔ اس شہر کی وفاداری پہ آنکھیں نمناک ہوتی ہیں اور دل سے بےاختیار دعا نکلتی ہے:

شہر لاہور تیری رونقیں دائم آباد

تیری گلیوں کی ہوا کھینچ کے لائی ہے مجھے

جب جب لاہور ایک عرصے بعد جانا ہو۔ خدا پاک کی قسم دل چاہتا جھولی پھیلا کے یہ شعر پڑھوں، بالکل ویسے جیسے یہاں گداگر عورتیں بھیک مانگتے دعائیں مانگتی ہیں۔

وے کوٹھیاں والیا جیویں،

وے اچیاں شاناں والیا، تینوں بھاگ لگے رہن

وے شہر لاہور، تیری رونقیں دائم آباد

وے میریا فانوس بدن شہر لاہور


آپ لاہور میں کبھی اکیلے نہیں ہوتے۔ یہ شہر آپ کو تنہائی کا احساس نہیں ہونے دیتا۔ آپ رتجگوں میں الجھو، یہ شہر رات بھر آپ کے ساتھ جاگے گا، آپ ٹوٹے دل اور چھلنی وجود کے ساتھ آؤ، یہ شہر مرہم پٹی کرے گا، اس کے لوگ آپ کو پیار دیں گے۔ یہاں تنہائی کا احساس نہیں ہوتا۔ آپ خوش ہو، خوشیاں منانے کو اس کی روشنیاں رات بھر جلیں گی، لوگ مسکرا کے ملیں گے، کسی کے پاس اٹھنی ہے، وہ قرض لے کر تمہاری ضرورت پوری کرے گا۔ یہ لاہور کسی کو بے آسرا نہیں کرتا۔ کسی کو نہ بھی جانتے ہو، دکانیں شاہراہیں اپنی لگتی ہیں۔ غمگسار، ملنسار۔

شالا رب کسے دا لاہور نہ چھڈاوے۔ میں صدقے لہور، تیری چوبرجی، تیری مسجد وزیر خان، تیری لکشمی، تیرے مال روڈ، لبرٹی توں۔ اوہ سادہ لوح بندہ حقی رویا سی۔ دنیا تے بھانویں کدرے ٹر جاؤ، دل وچوں ہوک نکلدی اے: یا ربا تیری دنیا بڑی سوہنی اے پر لاہور دی گلھ اپنی اے۔


نوٹ: ڈی ڈبلیو اردو کے کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں ظاہر کی گئی رائے مصنف یا مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے متفق ہونا ڈی ڈبلیو کے لیے قطعاﹰ ضروری نہیں ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔