محتاجی نہیں خود انحصاری

پاکستان کا شمار سب سے زیادہ خیرات دینے والے ممالک میں ہوتا ہے۔ پاکستان سینٹر فار فلنتھراپی کے مطابق پاکستانی سالانہ دو بلین ڈالر سے بھی زیادہ کی امداد کرتے ہیں۔

محتاجی نہیں خود انحصاری
محتاجی نہیں خود انحصاری
user

Dw

مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ صدقہ، خیرات اور دوسروں کی مدد کرنے والا یہ ملک اس قدر غریب کیوں ہے؟ مہنگائی بڑھنے کے ساتھ ساتھ معاشی خلیج بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے۔ امیر ہمیشہ امیر سے امیر تر اور غریب ہمیشہ غریب ہی کیوں ہوتا نظر آتا ہے؟ جہاں بہت سے معاشی اور اقتصادی عوامل جیسے کہ حکومت کی بدعنوانی، بین الاقوامی مارکیٹ میں ڈالر کی قدر، تیل کی قیمت اور آئی ایم ایف کے قرضے اپنا اہم کردار ادا کرتے ہیں وہیں ہمیں اپنے بل بوتے پر بھی کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔

ہمارے ہاں ایک فرد کماتا ہے اور سارا خاندان کھاتا ہے۔ ہم بچوں کو اکثر بڑا ہونے ہی نہیں دیتے۔ مشترکہ خاندانی نظام کو کسی سند کی طرح اس طرح دل سے لگائے بیٹھے ہیں جیسے اگلی نسل کا خود مختار ہونا کوئی گناہ ہو گا۔ میں نے اکثر بزرگوں کو کہتے سنا ہے کہ انگیز بچوں کو 18 سال کی عمر میں گھر سے نکال دیتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ جو بچہ 18 سال سے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا سیکھتا ہے وہ ذاتی زندگی اور ملک کی ترقی دونوں میں اہم کردار ادر کرتا ہے۔


زیادہ تر ترقی یافتہ ممالک میں 18 یا 19 سال سے بچہ اپنا کرایہ، بل اور دیگر اخراجات خود سنبھال لیتا ہے۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ مختلف پارٹ ٹائم نوکریاں کر کے وہ اپنا خرچہ اٹھاتا ہے۔ ضرورت پڑنے پر ماں باپ مدد ضرور کر دیتے ہیں مگرعاقل، بالغ ہونے میں حائل نہیں ہوتے۔ اس لیے نہ وہ بچہ خود کسی کام کو حقیر سمجھتا ہے اور نہ ہی اس کے والدین ایسا کوئی خیال رکھتے ہیں۔ اس طرح معاشرے میں ہر کام کو کسی اسٹیٹس سے جوڑے بغیر قابل احترام سمجھا جاتا ہے۔

ہمارے ہاں ہر کام کو احساس کمتری کے ترازو میں تول کر چھوٹا یا بڑا جانا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے کے معیار کے مطابق کسی فاسٹ فوڈ کی ڈیلیوری کرنے کے لیے، کسی کپڑوں کی دکان پر کام کرنے کے لیے، کہیں کھانا پکانا، صفائی ستھرائی، موٹر میکنک، سلائی یا کسی بھی قسم کا ہنر سیکھنے کے لیے آپ کے خاندان کا غریب ہونا ضروری ہے ورنہ یہ تحقیر آمیز ثابت ہو سکتا ہے۔


چھوٹی عمر سے خود کمانا اور خود کھانا صرف غریب طبقے کے لیے وقف ہے، جو بد قسمتی سے ہمیشہ تعلیم کو پس پست ڈال کر صرف دو وقت کی روٹی کما کر وقتی ضرورت پوری کر پاتا ہے۔ اس کے برعکس عام گھروں کے بچے خود کمانے کو معیوب ہی سمجھتے ہیں اور مجموعی طور پر معاشرہ چھوٹے بڑے کام کے کمپلیکس سے نکل ہی نہیں پاتا۔ تعلیم، ہنر، تجربہ سب مل کر انسان کو خود اعتماد اور خود مختار بناتے ہیں۔ تجربے اور غلطیوں سے سیکھ کر انسان اپنی قوت ارادی مضبوط کرتا ہے۔

ایک تنہا مرد سے سال ہا سال عاقل بالغ اولاد کی ہر ضرورت پوری کروانے کی امید سراسر ناانصافی ہے اور بہت سے پیچیده نفسیاتی مسائل کو بھی جنم دیتی ہے۔ سارے خاندان کو اکیلے پالنے کا دباؤ غصے اور جھنجھلاہٹ کا باعث بنتا ہے اور کہیں نہ کہیں والدین کو اولاد پر بے جا کنٹرول کی ترغیب دیتا ہے۔ اولاد میں بھی خود اعتمادی اور قوت ارادی کمزور کرتا ہے۔


خوش قسمتی سے آن لائن کمانے کے مواقع نے خود کچھ کرنے کو مثبت رنگ دیا ہے مگر معاشرتی طور پر سوچ کی تبدیلی اب بھی بہت اہم ہے۔ اگر بچوں کو 18 یا 19 سال کی عمر میں گھر سے باہر نکل کراکیلا رہنے کی اجازت دینے میں والدین قباحت محسوس کرتے ہیں اور تحفظ یا اسلامی اور مشرقی اقدار پر سمجھوتے کے خدشات رکھتے ہیں تو گھر سے نکل کر رہنا ضروری نہیں مگر اپنی ذمہ داری کا احساس ہونا ضروری ہے۔ خود محنت کریں، گھر کے اخراجات میں ہاتھ بٹائیں، جس سے اپنے جیب خرچ کا بھی انتظام ہو گا۔ اسی طرح گھر کے کاموں میں حصہ لیں۔

گھریلو ملازمین پر اس قدر انحصار بھی مکمل شخصیت بنانے میں رکاوٹ بنتا ہے۔ گھر کا کام صنف سے جوڑ کر اپنے آپ کو اتنا محتاج نہ کریں کہ زندگی کی بنیادی ضروریات بھی پوری نہ کر سکیں۔ لڑکوں کو اس قابل ضرور کریں کہ وہ کم از کم اپنے کھانے پکانے اور گھر کی صفائی کا خیال کر سکیں۔ اسی طرح لڑکیوں کو بھی باہر نکل کر بنیادی کام کرنا ضرور سکھائیں تاکہ وہ ہر چھوٹے بڑے کام کے لیے کسی کی محتاج نہ بنیں۔ یہ راجہ بیٹا اور پاپا کی پری صرف ڈراموں کہانیوں اور شاید ایک محدود آبادی جو سونے کا چمچ لے کر پیدا ہوتی ہے، وہیں زیب دیتا ہے۔


مغل بادشاہت ختم ہوئے زمانہ بیت گیا ہے لہذا کوئی نہ تو کام خود کرنے سے آپ رعایا تصور ہوں گے اور نہ ہی دوسروں پر انحصار کرنے سے بادشاہ۔ اس لیے اپنے آپ کو عام عوام قبول کر لینا ہی بہتر ہے۔ جب تک ہم محنت اور خود کام کرنے کو حقیر سمجھتے رہیں گے امیر غریب کا فرق مزید بڑھتا چلا جائے گا۔ صدقہ، خیرات سے ہمیں وقتی ضروریات کے لیے مدد ضرور کرنی چاہیے جیسے قدرتی آفات میں پاکستان نے بہت نقصان اٹھایا ہے۔ اسی طرح داخلہ فیس، کوئی کاروبار، گھر بنانا وغیرہ۔ مگر ضروری ہے کہ غریب کو اپنا محتاج نہ کریں بلکہ کسی طرح خود کمانے کے قابل بنائیں۔ اگر ایک مہینے کا راشن دیں تو وہ ہمیشہ راشن کے لیے آپ پر ہی انحصار نہ کرے بلکہ خود کوشش کرے۔

اسی طرح کسی طالب علم کی ایک سیمسٹر کی فیس ادا کرنا ایک وقتی سہولت ہے کوئی مستقل حل نہیں۔ خود نوکری کرنے یا کوئی ہنر سیکھے سے يقيناً ایک مستقل ذریعہ آمدن مل سکتا ہے۔ کتنے ہی تارکین وطن بیچارے ایجنٹ کو لاکھوں روپے دے کر بھی اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ اس رقم سے وہ کوئی کام شروع کر سکتے ہیں، تعلیم حاصل کر سکتے ہیں کوئی ہنر سیکھ سکتے ہیں۔ محنت اور ایمانداری سے کیا گیا کام نہ چھوٹا اور حقیر ہوتا ہے اور نہ ہی انسان کی اہمیت اور حیثیت کم کرتا ہے۔ اس بڑائی، دکھاوے اور مصنوعی امارت کی سوچ ضرور چھوٹی ہے، جو ہر چیز کو اسٹیٹس سے جوڑ کر صرف کمپلیکس پیدا کرتی ہے اور انفرادی و اجتماعی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنتی ہے۔


نوٹ: ڈی ڈبلیو اردو کے کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں ظاہر کی گئی رائے مصنف یا مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے متفق ہونا ڈی ڈبلیو کے لیے قطعاﹰ ضروری نہیں ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔