جرمن کے لوگوں کے لیے مذہب کتنا اہم ہے؟

جرمنی میں زیادہ تر لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کی زندگیوں میں مذہب کا کوئی کردار نہیں۔ آٹھ میں سے صرف ایک کا کہنا ہے کہ عیقدہ اس دنیا کو منصفانہ بنا سکتا ہے۔ اس سروے میں دو ہزار سے زائد افراد نے حصہ لیا۔

جرمنوں کے لیے مذہب کتنا اہم ہے؟
جرمنوں کے لیے مذہب کتنا اہم ہے؟
user

Dw

ایک تازہ سروے کے مطابق جرمنی ميں لوگوں کی بھاری اکثریت کا خیال ہے کہ روز مرہ کی زندگی میں مذہب کا کوئی کردار نہیں ہے۔ اس سروے میں شامل شرکاء میں سے صرف تینتیس فیصد نے کہا کہ مذہبی تعلیم ان کے لیے اہم ہے۔ مذہب کی اہمیت کے حق میں بولنے والوں میں سے نوجوان شرکاء کی تعداد زیادہ نوٹ کی گئی ہے۔

اس سروے کے نتائج کے مطابق بارہ فیصد شرکاء نے کہا کہ مذہب کی بدولت دنیا منصفانہ ہو سکتی ہے۔ ان میں سے ایک تہائی مذہب کی سیاسی اہمیت پر بھی متفق ہوئے۔ اس سروے میں جرمنی بھر سے دو ہزار سے زائد افراد نے حصہ لیا۔


جرمنی یورپ میں ایک بڑا مسیحی ملک قرار دیا جاتا ہے تاہم ہر سال اس ملک میں مذہب سے دوری اختیار کرنے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ جرمنی میں کیتھولک اور پروٹسٹنٹ مسیحیوں کی روایات معاشرے میں رچی بسی ہیں اور روز مرہ زندگی کے معاملات میں ان کی جھلک نمایاں ہے۔

مشرقی علاقوں میں مذہبی لوگوں کی کم تعداد

اس سروے کے تیس فیصد شرکا نے کہا کہ وہ ’متقی‘ یا بہت زیادہ ’متقی‘ ہیں جبکہ پینتیس فیصد نے کہا کہ وہ ’بالکل متقی نہیں‘۔ جرمنی کے مشرقی علاقوں میں بسنے والے ایسے افراد کی تعداد زیادہ ہے، جنہوں نے کہا کہ وہ بالکل مذہبی نہیں ہیں۔


اس سروے کے مطابق جنوبی جرمن صوبوں باویریا، باڈن ورٹمبرگ اور مغربی ریاستوں سے تعلق رکھنے والے جرمن خود کو زیادہ ’متقی و پرہیزگار‘ قرار دیتے ہیں۔ مشرقی ریاستوں میں سے صرف اکیس فیصد شرکاء نے خود کو مذہبی قرار دیا ہے۔ مجموعی طور پر اکسٹھ فیصد جرمنوں نے کہا کہ ان کی زندگیوں میں مذہب کی کوئی اہمیت نہیں یا بالکل ہی کوئی جگہ نہیں ہے۔

نوجوان زیادہ مثبت

اس سروے میں شریک نوجوانوں نے روز مرہ کی زندگی میں مذہب کے کردار کے حوالے سے کوئی فیصلہ کن رائے دینے سے گریز کیا۔ اٹھارہ تا انتیس برس کی عمر کے درمیان افراد کے پندرہ فیصد نے یا تو کوئی جواب نہیں دیا یا کہا کہ انہیں اس بارے میں علم ہی نہیں ہے۔


یوں کہا جا سکتا ہے کہ نوجوان طبقہ زندگی میں مذہبی تعلیمات کے حوالے سے آگاہی حاصل کرنے کی کوشش میں ہے۔ ان میں سے سولہ فیصد نوجوانوں نے کہا کہ ’مذاہب اس دنیا کو منصفانہ بنانے میں کردار ادا کرتے ہیں‘۔

کووڈ اور ماحولیاتی تبدیلی

پچھتر فیصد شرکا نے کہا کہ کورونا کی عالمی وبا کی وجہ سے ان کے عقیدوں پر کوئی فرق نہیں پڑا ہے۔ نوجوان شرکا میں سے بارہ فیصد نے البتہ کہا کہ اس عالمی وبا کی وجہ سے ان کا عقیدہ مضبوط ہوا ہے۔ یہ شرح زیادہ عمر کے لوگوں کے تناسب سے دوگنا زیادہ بنتی ہے۔


اس سروے میں شریک صرف چودہ فیصد شرکاء کا خیال ہے کہ تحفظ ماحولیات میں مذہب مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان میں سے تیس سے کم عمر افراد کی تعداد زیادہ نوٹ کی گئی ہے۔

اس سروے کے نتائج ایک ایسے وقت میں جاری کیے گئے، جب جنوبی جرمن شہر لنڈاؤ میں ’امن کے لیے مذاہب‘ نامی ایک بین الاقوامی کانفرنس کا اہتمام کیا گیا۔ اس کانفرنس میں دنیا بھر کے مذہبی رہنما عالمی سطح پر سکیورٹی، امن، تحفظ ماحولیات اور انسانی بنیادی پر ہونے والے امدادی منصوبہ جات پر تبادلہ خیال کرتے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔