صحافیوں کے بیشتر قاتلوں کو سزائیں نہیں ملتیں، یونیسکو

یونیسکو نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں صحافیوں کی ہلاکتوں کے بیشتر کیسز میں قصورواروں کو سزائیں نہیں ملتیں۔ سن 2020 اور 2021 میں کم از کم 117 صحافیوں کو اپنا کام کرنے پر قتل کر دیا گیا۔

فائل تصویر آئی اے این ایس
فائل تصویر آئی اے این ایس
user

Dw

اقوام متحدہ کی تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی تنظیم، یونیسکو، نے بدھ کے روز جاری ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی کے دوران دنیا بھر میں ہلاک کر دیے جانے والے صحافیوں کے بیشتر کیسز میں قصوروار سزا سے بچ جاتے ہیں۔

تنظیم نے صحافیوں کے خلاف جرائم کے لیے استشنیٰ کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر جاری اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ صحافیوں کے قتل کے لیے عالمی سطح پر استشنیٰ کی شرح "حیران کن حد تک بلند" ہے۔ یونیسکو کا کہنا ہے کہ "صحافیوں کے قتل کے لیے استشنیٰ ناقابل قبول حد تک بہت زیادہ یعنی 86 فیصد ہے۔"


صحافیوں کے قاتلوں کو سزا یقینی بنانے کی ضرورت

یونیسکو نے ''صحافیوں کے خلاف ہونے والے جرائم کی مناسب تفتیش اور ان کے مرتکب افراد کی شناخت اور سزا کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کا مطالبہ کیا۔''

یونیسکو کی ڈائریکٹر جنرل آڈرے ازولے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''اگر غیر حل شدہ مقدمات کی اتنی حیران کن تعداد موجود ہو تو اظہار رائے کی آزادی کا تحفظ نہیں کیا جاسکتا''۔


صحافیوں کے خلاف "تشدد کا چکر"

یونیسکو نے گوکہ گزشتہ دہائی کے دوران استثنیٰ کی شرح میں 9 فیصد پوائنٹ کی کمی کا خیرمقدم کیا، تاہم اس کے بقول "تشدد کے اس چکر" کو روکنے کے لیے یہ ناکافی ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2020 اور 2021 میں 117 صحافیوں کو اپنا کام کرنے کے دوران قتل کیا گیا جب کہ 91 دیگر کو' آف دی کلاک' یعنی جب وہ ڈیوٹی پر نہیں تھے، ہلاک کر دیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے، ''کئی افراد کو تو ان کے بچوں اور خاندان کے افراد کے سامنے ہلاک کر دیا گیا۔''


یونیسکو نے کہا کہ وہ رکن ممالک کے میڈیا قوانین اور پالیسیوں کو تیار کرنے اور نافذ کرنے کے لیے ان ممالک کے ساتھ مل کر کام کر رہا بے۔ وہ ججوں، پراسیکیوٹرز اور سیکیورٹی فورسز کو ''صحافیوں کے حقوق کو نافذ کرنے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ ان کے خلاف حملوں کی تحقیقات اور مقدمہ چلایا جائے'' کی تربیت بھی دے رہا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔