مکینک جہاز چوری  کر کے لے اڑا 

امریکی علاقے سی ٹاک میں ایک ہوائی کمپنی کا ایک مکینک ایک خالی جہاز لے اڑا۔ حکام نے کہا ہے کہ جہاز چرانے والے اس شخص کا مشن دراصل خودکشی کے مترادف تھا۔

مقامی حکام نے بتایا کہ جمعے کی شب سیئٹل کے سی ٹاک ایئر پورٹ سے مقامی ہوائی کمپنی کے ایک مکینک نے ایک خالی جہاز چوری کیا اور اسے اڑانے لگا، جب ایک لڑاکا طیارے نے اسے جا لیا تو یہ جہاز کریش کر گیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق جہاز کی تباہی کی ممکنہ وجہ اس شخص کا ہوا میں غیرضروری کرتب دکھانے کی کوشش یا ہوابازی کی تربیت نہ ہونا، تھا۔

لیبیا کے مسافر بردار طیارے کی ہائی جیکنگ ختم، اغواکاروں نے سرنڈر کر دیا

مصری ہوائی جہاز کی ہائی جیکنگ ختم، ہائی جیکر گرفتار

مقامی شیرف دفتر کا کہنا ہے کہ اس شخص کے اس عمل اور دہشت گردی کے درمیان کوئی تعلق نہیں تھا۔ اس حوالے سے سامنے آنے والی ایک ویڈیو کے مطابق ہورائزن ایئر کا کیو چار سو طیارہ فضا میں بڑے بڑے چکر کاٹ رہا ہے اور دیگر نہایت خطرناک کرتبوں میں مصروف ہے۔ اس جہاز میں کوئی مسافر سوار نہیں تھا۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ اس دوران ایک فوجی طیارے نے اسے واشنگٹن ریاست کے کیرٹون جزیرے کی فضا میں جا پکڑا تو وہ کریش کر گیا۔ مقامی افراد کے مطابق اس جہاز کو روکنے کے لیے امریکی فضائیہ کا ایف پندرہ لڑاکا طیارہ فضا میں تھا اور اس نے زمین پر موجود افراد کو محفوظ بنایا۔ مقامی شیرف دفتر کے مطابق جہاز کے ذریعے اس طرح مبینہ خودکشی کرنے والے اس شخص کی بابت تفتیش کی جا رہی ہے، تاہم اس شخص کا نام ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔

شیرف دفتر کے بیان کے مطابق، ’’اس شخص نے ایک نہایت بے وقوفانہ حرکت کی اور نتیجہ جان جانے کی صورت میں برآمد ہوا۔‘‘

اس واقعے کے بعد اس شخص کی حالت سے متعلق بھی کوئی اطلاعات سامنے نہیں آئی ہیں، تاہم کہا گیا ہے کہ کنٹرول ٹاور سے گفت گو میں یہ شخص چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا کہ اس کے پاس کچھ نہیں بچا۔ اس کے جواب میں کنٹرول ٹاور سے اسے کہا گیا کہ وہ ’امیر‘ ہے اور جہاز اتار دے۔ اس گفت گو میں کنٹرول ٹاور نے یہ بھی کہا، ’’آپ سے صرف ایک میل دور فوجی اڈہ ہے، وہاں جہاز اتار دیجیے۔‘‘

اس کے جواب میں اس شخص کا کہنا تھا، ’’وہ لوگ مجھے چھوڑیں گے نہیں، اگر میں نے وہاں جہاز اتارا، میری تو شاید ساری زندگی جیل میں گزر جائے گی۔‘‘ پھر بعد میں اس شخص کے آخری الفاظ تھے، ’’بہت سے لوگ میرا بہت خیال رکھتے ہیں۔ جب وہ سنیں گے کہ میں نے یہ کیا، تو انہیں بہت افسوس ہو گا۔ میرے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے۔‘‘

سب سے زیادہ مقبول