’زندگی عجیب ہے‘ ، ہم جنس پسندوں کا ویڈیوز گیم

حالیہ کچھ عرصے میں ایسے ویڈیو گیمز کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جن میں مرکزی کردار کوئی ہم جنس پسند ہے۔ ’لائف از سٹرینج‘ یا ’زندگی عجیب ہے‘ کی نئی اسٹالمنٹ ایسے ہی ایک ویڈیو گیم ہے۔

’زندگی عجیب ہے‘ ، ہم جنس پسندوں کی ویڈیوز گیمز
’زندگی عجیب ہے‘ ، ہم جنس پسندوں کی ویڈیوز گیمز
user

Dw

لائف از اسٹرینج کی سیریز کے دیگر گیمز کی طرح ''لائف از اسٹریج، ٹرو کلرز‘‘ میں کھیلنے والے کو موقع دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے منتخب کردار کے لیے ہم جنس تعلقات کا انتخاب کر سکیں۔ اس گیم میں پروٹیگنسٹ یا کھیل کے لیے منتخب کردہ کردار مافوق الفطرت صلاحیتوں کا حامل ایک سپیر ہیرو ہے، جو امریکی کے کسی چھوٹے سے قصبے میں ہے۔

جمعے کے روز اس گیم کے اجراء کے مطابق کھیل کے مرکزی لکھاری جون زمرمین نے کہا، ''ہم اس گیم میں ہر جنسی رغبت رکھنے والے کے لیے احترام کا پیغام دینا چاہتے ہیں۔‘‘


اس گیم کا مرکزی خیال کچھ یوں ہے کہ ایلکس ایک نوجوان ایشیائی امریکی خاتون ہے، جسے یہ طاقت مل جاتی ہے کہ وہ لوگوں کے جذبات محسوس کر سکے اور یوں وہ کولوراڈو کے پہاڑی سلسلے میں اپنے بھائی کی موت کی تحقیق کرتی ہے۔

یہ بات اہم ہے کہ لائف از اسٹریج سیریز کے سابقہ کھیل بھی بے حد مقبول ہوئے تھے اور ان پر ایک ٹی وی سیریز تک بن چکی ہے۔ سن 2015 میں اس کھیل کو کہانی میں احساسات کا خیال رکھنے پر انعام بھی دیا جا چکا ہے۔ اس کی پہلی انسٹالمنٹ فرانسیسی اسٹوڈیو ڈونٹنوڈ نے تیار کی تھی اور اس کی تین ملین نقول فروخت ہوئیں تھیں۔ 'ٹرو کلر‘ اس سیرز کی چوتھی انسٹالمنٹ ہے اور اس کے اجرا پر ہم جنس پسند برادری کی جانب سے خوشی کا اظہار کیا گیا ہے۔


ارجنٹائن کے دارالحکومت بیونس آئرس میں مقیم اس گیم کی ڈیولپر مائی ٹورراس نے کہا، ''2015 تک میں جیسے کسی کنویں میں بند تھی۔ اس گیم نے مجھے میری ذات سے متعلق کئی چیزیں سمجھا دیں۔‘‘

یہ بات اہم ہے کہ اس سے قبل ویڈیو گیمز میں ہم جنس پسند کردار فقط چھوٹی کمپنیوں کی جانب سے تیاری کردہ گیمز ہی میں دکھائی دیتے رہے ہیں، تاہم بڑے اسٹوڈیوز کی جانب سے بھی اب تنوع کے لیے جگہ نکالی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق حالیہ کچھ عرصے میں دنیا بھر میں ویڈیوز گیمز کھیلنے والے افراد کی تعداد کروڑوں میں پہنچ چکی ہے اور ایسے میں ویڈیو گیمز کھیلنے والے ان کھیلوں میں اپنی زندگی کے کردار اور تجربات بھی تلاش کرتے ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔