کویتی حکومت تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ سے پہلے ہی مستعفی

خلیجی عرب ریاست کویت کی حکومت اپنے خلاف پیش کردہ پارلیمانی عدم اعتماد کی قرارداد پر ووٹنگ سے پہلے ہی مستعفی ہو گئی۔

کویتی حکومت تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ سے پہلے ہی مستعفی
کویتی حکومت تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ سے پہلے ہی مستعفی
user

Dw

خلیجی عرب ریاست کویت کی حکومت اپنے خلاف پیش کردہ پارلیمانی عدم اعتماد کی قرارداد پر ووٹنگ سے پہلے ہی مستعفی ہو گئی۔ پارلیمانی رائے شماری سے صرف ایک روز قبل حکومتی ارکان نے پارلیمان میں اپنے استعفے جمع کرا دیے۔

کویتی حکومت کے سربراہ اور ملکی وزیر اعظم کے خلاف پارلیمانی عدم اعتماد کی تحریک پر رائے دہی بدھ چھ اپریل کے لیے طے تھی مگر کابینہ کے ارکان نے ووٹنگ سے چوبیس گھنٹے قبل منگل پانچ اپریل کے روز اپنے استعفے جمع کرا دیے۔ سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق حکومت کا مستعفی ہوجانا ایک ایسے طویل سیاسی تنازعے کا نتیجہ ہے، جس کے باعث خلیج کی تیل پیدا کرنے والی اس عرب ریاست میں مالیاتی اصلاحات کے عمل کو مسلسل رکاوٹوں کا سامنا تھا۔


انہوں نے گزشتہ برس کے اواخر میں سربراہ مملکت کے طور پر ملکی امیر کی زیادہ تر ذمہ داریاں سنبھال لی تھیں۔ انہیں وزیر اعظم شیخ صباح الخالد کی جانب سے ان کے اور ان کی حکومت کے استعفے کا خط باقاعدہ طور پر موصول ہو گیا ہے۔

شیخ صباح الخالد ملک پر حکمران الصباح خاندان ہی کے رکن ہیں اور وہ 2019ء سے وزیر اعظم کے عہدے پر فائز تھے۔ انہیں کویتی کابینہ کے سربراہ کے طور پر یکے بعد دیگرے کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا، جن میں حزب اختلاف کے پارلیمانی اراکین کی طرف سے مبینہ بدعنوانی سمیت کئی موضوعات پر پوچھے جانے والے سوالات بھی شامل تھے۔


کویت نے اپنی قومی اسمبلی کو دیگر خلیجی عرب ریاستوں کے پارلیمانی اداروں کی نسبت کہیں زیادہ اختیارات دے رکھے ہیں،جن میں قوانین کو منظور یا رد کرنے، پارلیمانی اراکین کی طرف سے حکومت سے جواب طلبی اور اعلیٰ سیاست دانوں پر عدم اعتماد کے اظہار کے جمہوری اختیارات بھی شامل ہیں۔

کورونا وائرس کی عالمی وبا کے پیش نظر کویت سٹی میں ملکی حکومت نے کئی طرح کی پالیسیوں پر عمل کرتے ہوئے کویتی معیشت کو سہارا دینے کی کوشش کی تھی تاہم اس دوران مالیاتی اصلاحات کا معاملہ تعطل ہی کا شکار رہا۔ اس دوران عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے حکومت کے لیے کچھ مالی آسانیاں تو پیدا ہوئیں، مگر کویت نے 2017ء سے لے کر اب تک کسی ترقی پذیر ملک کو کوئی بیرونی قرض فراہم نہیں کیا۔


کویت میں ماضی قریب میں سیاسی رسہ کشی، کابینہ میں بار بار کے رد و بدل اور پارلیمان کے تحلیل کیے جانے کے باعث سرمایہ کاری منصوبوں کے ساتھ ساتھ ملک کے مالیاتی اور اقتصادی حالات اور اصلاحات کی کوششوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

رواں سال فروری میں بھی کویت میں حکمران خاندان ہی سے تعلق رکھنے والے دفاع اور داخلہ امور کے وزراء نے اس لیے اپنے عہدوں سے استعفے دے دیے تھے کہ ان کے بقول کابینہ کے ارکان سے 'بار بار کی بے جا پوچھ گچھ‘ کا رجحان بڑھتا جا رہا تھا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔