اسرائیلی وزیر اعظم نے آئس کریم کمپنی کو دھمکی کیوں دی ہے؟

اسرائیلی وزیر اعظم نیفتالی بینیٹ نے بین اینڈ جیریز کی طرف سے مقبوضہ علاقوں میں آئس کریم فروخت نہیں کرنے کے اعلان کے بعد ملٹی نیشنل کمپنی یونی لیور کو ”سنگین مضمرات" کی وارننگ دی ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم نے آئس کریم کمپنی کو دھمکی کیوں دی ہے؟
اسرائیلی وزیر اعظم نے آئس کریم کمپنی کو دھمکی کیوں دی ہے؟
user

Dw

اسرائیلی وزیر اعظم نیفتالی بینیٹ نے اس اعلان کے بعد یونی لیور کے سی ای او ایلن جوپ سے ٹیلی فون پر بات کی اور کہا کہ بائیکا ٹ کا یہ فیصلہ 'اسرائیل مخالف ایک واضح قدم‘ ہے۔ وزیر اعظم بینیٹ نے منگل کے روز وارننگ دی کہ اسرائیل بائیکاٹ کے ایسے کسی بھی اقدام کے خلاف'سخت کارروائی‘ کرے گا جس سے اس کے شہریوں پر اثر پڑتا ہو۔

بین اینڈجیریز کمپنی نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں تعمیر غیر قانونی یہودی بستیوں میں آئس کریم فروخت نہ کرنے کا فیصلہ فلسطین حامی کارکنوں کی طرف سے چلائی جانے والی ایک مہم کے بعد کیا تھا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ مقبوضہ علاقوں میں مصنوعات کو فروخت کرنا اس کی دیرینہ 'قدروں‘ کے منافی ہے۔


اسرائیلی اقدامات

امریکا میں اسرائیل کے سفیر نے متعدد ریاستی گورنروں سے رابطہ کیا اور ان سے مذکورہ آئس کریم برانڈ کے خلاف بائیکاٹ مخالف قوانین کو نافذ کرنے کی اپیل کی۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے اس معاملے پر گوکہ براہ راست کوئی بیان دینے سے گریز کیا۔ تاہم انہوں نے اسرائیل کو 'نامناسب طریقے سے الگ تھلگ کرنے‘ کے لیے بائیکاٹ اور ڈس انوسٹمنٹ اینڈ سینکشنز (بی ڈی ایس) تحریک کے سلسلے میں امریکی حکومت کے موقف کا اعادہ کیا۔


نیویارک شہر میں، جہاں بڑی تعداد میں یہودی رہتے ہیں، بعض چھوٹے کریانہ کی دکانوں کا کہنا تھا کہ وہ اپنی دکانوں سے بین اینڈ جیریز کی مصنوعات کو کم کردیں گی یا ہٹا دیں گی۔

بین اینڈ جیریز اور سیاست

یونی لیور نے سن 2000 میں بین اینڈ جیریز کو خرید لیا تھا۔ معاہدے کے تحت آئس کریم برانڈ کو کمپنی کے دیگر ذیلی کمپنیوں کے مقابلے میں نسبتاً کہیں زیادہ خود مختاری حاصل ہے۔


بین اینڈ جیریز کمپنی کا اپنا آزادنہ بورڈ ہے اور سوشل کارپوریٹ مشن کے حوالے سے اسے اپنے منصوبوں پر عمل کرنے کی آزادی ہے۔ اس نے ماضی میں بلیک لائیوز میٹر جیسی سماجی انصاف کی تحریکوں کی بھی حمایت کی ہے۔

بین اینڈ جیریز کی جانب سے پیر کے روز کیے جانے والے اعلان کے مطابق کمپنی اپنے اسرائیلی شراکت دار کے ساتھ معاہدے کی تجدید نہیں کرے گی۔ یہ معاہدہ سن 2022 میں ختم ہو رہا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔