برطانوی حکمران جماعت میں ’اسلاموفوبیا ایک مسئلہ‘ ہے، رپورٹ

ایک غیر جانبدار تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق برطانیہ کی برسراقتدار جماعت میں پایا جانے والا اسلاموفوبیا ایک مسئلہ ہے۔ امتیازی سلوک نجی سطح پر تو ہے لیکن ’ادارہ جاتی سطح‘ پر ایسا نہیں ہے۔

برطانوی حکمران جماعت میں ’اسلاموفوبیا ایک مسئلہ‘ ہے، رپورٹ
برطانوی حکمران جماعت میں ’اسلاموفوبیا ایک مسئلہ‘ ہے، رپورٹ
user

Dw

برطانیہ کی مرکز سے دائیں جانب جھکاؤ رکھنے والی حکمران جماعت کو گزشتہ کئی برسوں سے مسلم مخالف جذبات رکھنے جیسے الزامات کا سامنا ہے۔ ایسے الزامات نہ صرف وزیر اعظم بورس جانسن بلکہ اس جماعت کے کئی دیگر اراکین کے خلاف بھی عائد کیے جا چکے ہیں۔ منگل کے روز جاری کردہ ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق بورس جانسن نے سن دو ہزار اٹھارہ میں پردہ کرنے والی مسلمان خواتین کا موازنہ بینک ڈکیتوں اور لیٹر باکسز سے کیا تھا۔ اس حوالے سے شائع ہونے والی خبروں اور کالموں سے اس تاثر کو تقویت ملی کہ مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک ایک مسئلہ ہے۔

برطانیہ کے مساوات اور انسانی حقوق کمیشن کے سابق کمشنر سورن سنگھ کی سربراہی میں ہونے والی تحقیقات سے پتہ چلا ہے، ''پارٹی میں مسلم دشمن جذبات ایک مسئلہ بنے ہوئے ہیں۔ یہ پارٹی کے لیے نقصان دہ ہے اور اس طرح معاشرے کا ایک اہم طبقہ الگ تھلگ ہو جاتا ہے۔‘‘ سورن سنگھ کے خیال میں یہ رپورٹ ''پارٹی کے لیے بہت زیادہ تکلیف دہ ثابت ہوگی۔‘‘ تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ رپورٹ میں کی گئی سفارشات کو عملی جامہ پہنایا جائے گا۔


اس تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق سن دو ہزار پندرہ کے بعد سے مسلم مخالف رویوں کے حوالے سے بہت زیادہ شکایات جمع ہو چکی تھیں۔ مجموعی طور پر 1418 شکایات موصول ہوئی تھیں اور ان میں سے 727 واقعات مبینہ طور پر امتیازی سلوک سے متعلق تھے جبکہ دو تہائی سے زیادہ واقعات (496) اسلام سے جڑے ہوئے تھے۔

اس تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے، ''لوکل ایسوسی ایشن کی سطح پر بھی افراد اور گروہوں میں مسلم مخالف امتیازی سلوک کی مثالیں موجود ہیں۔ تاہم ان مثالوں کی بنیاد پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ادارہ جاتی سطح پر ایسا کیا جا رہا ہے۔‘‘ رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کے حوالے سے موصول ہونے والی شکایات پر بھی ویسا ہی ردعمل ظاہر کیا جاتا ہے، جیسا کہ کسی دوسرے سماجی گروپ سے متعلق رویے یا کسی دوسری طرح کے امتیازی سلوک کے حوالے سے کیا جاتا ہے۔


اس رپورٹ میں وزیر اعظم بورس جانسن نے سورن سنگھ کو بتایا کہ وہ سن دو ہزار اٹھارہ میں اپنی طرف سے استعمال کردہ الفاظ کے حوالے سے شرمندہ ہیں اور بطور وزیر اعظم وہ ایسے الفاظ دوبارہ استعمال نہیں کرنا چاہیں گے۔ اس رپورٹ میں سن دو ہزار سولہ کے مئیر کے متنازعہ انتخابات میں شامل امیدوار زیک گولڈ اسمتھ کے اس بیان کو بھی شامل کیا گیا ہے، جو انہوں نے اپنے حریف امیدوار صادق خان کے حوالے سے دیا تھا۔

انہوں نے صادق خان کا تعلق انتہا پسندوں سے جوڑنے کی کوشش کی تھی۔ تاہم گولڈ اسمتھ نے بھی تفتیش کے دوران کہا کہ وہ مسلم مخالف جذبات پیدا کرتے ہوئے یا ایسے جذبات کو استعمال کرتے ہوئے سیاسی فائدہ حاصل نہیں کرنا چاہتے تھے۔


رکن پارلیمان اور سابق کنزرویٹیو وزیر خزانہ ساجد جاوید نے اس رپورٹ کے مندرجات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ہے، ''یہ رپورٹ مسلم مخالف جذبات کی پریشان کن مثال ہے‘‘ ساجد جاوید ایک پاکستانی تارک وطن کے بیٹے ہیں۔

حکمران کنزرویٹو پارٹی کی سابقہ خاتون صدر سعیدہ وارثی نے بھی اس رپورٹ کے حوالے سے ایک ٹویٹ میں اپنی پارٹی پر سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے لکھا کہ ان کی جماعت نسل پرستی سے نمٹنے کے لیے راضی ہی نہیں تھی

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔