’کورونا ہے تو کيا ہوا، اسرائيل مخالف جلوس گاڑیوں ميں نکالیں‘

ايرانی صدر نے اعلان کيا ہے کہ وبا کی تناظر ميں اس سال يوم القدس پر مظاہرے کاروں اور گاڑیوں کی مدد سے کيے جائيں گے۔

’کورونا ہے تو کيا ہوا، اسرائيل مخالف مظاہرے کاروں ميں کريں‘
’کورونا ہے تو کيا ہوا، اسرائيل مخالف مظاہرے کاروں ميں کريں‘
user

ڈی. ڈبلیو

ايرانی صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ اس بار يوم القدس کے موقع پر روايتی جلوس اور احتجاجی ريلياں گاڑيوں ميں قافلوں کی صورت ميں نکالی جائيں گی۔ روحانی نے يہ بات اتوار کو ٹيلی وژن پر نشر کردہ اپنی ايک تقرير کے دوران کہی۔ صدر روحانی نے مزيد کہا کہ قافلوں کا راستہ پاسداران انقلاب کے متعلقہ اہلکار طے کريں گے۔

يوم القدس ہر سال رمضان کے آخری جمعے کے دن ايران ميں منايا جاتا ہے۔ يہ دن سن 1967 کی جنگ کی ياد ميں منايا جاتا ہے،جس کے نتيجے ميں اسرائيل نے مشرقی يروشلم پر قبضہ کر ليا تھا۔ اس کا مقصد اسرائيل کی مخالفت اور فلسطينيوں کے ساتھ اظہار يکجہتی ہے۔ ايران ميں يہ دن ہر سال ملک گير سطح پر منايا جاتا ہے اور اس موقع پر تمام شہروں ميں ريلياں نکالی جاتی ہيں۔

حسن روحانی نے واضح کيا کہ اس سال جلسے جلوس کاروں ميں نکالنے کا فيصلہ نئے کورونا وائرس کے پھيلاؤ کو روکنے کے ليے کيا گيا ہے۔ ان کے بقول ملک کے ان حصوں ميں بھی پيدل احتجاج کرنے پر پابندی عائد ہے، جنہيں کووڈ انيس سے پاک قرار ديا جا چکا ہے۔ روحانی نے مزيد بتايا کہ ملک بھر ميں جمعے کی نماز کے بعد مساجد ميں بھی ،خصوصی خطبے اور تقاريب منقعد ہوں گے۔

ايران ميں يوم القدس منانے کی روايت سن 1979 ميں آيت اللہ روح اللہ خمينی نے شروع کی تھی۔ ايران اسرائيل کو بطور ايک رياست تسليم نہيں کرتا اور بيشتر عالمی مسائل کا قصور وار اسرائيل ہی کو قرار ديتا ہے۔