مجاہدینِ خلق: ایران کی جلاوطن اپوزیشن

ایرانی مذہبی حکومت کو مجاہدینِ خلق نامی تنظیم کے خاموش کارکنوں کی اپوزیشن کا سامنا ہے۔ اس تنظیم کے کارکن پہلے آمر حکمران رضا شاہ پہلوی کے خلاف تھے اور اب سابقہ حلیف ان کو ملک دشمن قرار دیتے ہیں۔

فائل تصویرآئی اے این ایس
فائل تصویرآئی اے این ایس
user

Dw

مجاہدینِ خلق کو انگریزی میں پیپلز مجاہدین تنطیم برائے ایران (PMOI) کہا جاتا تھا۔ اس تنظیم کے کارکن جلاوطن رہتے ہوئے اپنے ملک میں جمہوری اقدار کی بحالی کی کسی حد تک مسلح جد و جہد جاری رکھے ہوئے تھے۔

اُن کی سیاسی جدوجہد کا آغاز سن 1960 کی دہائی میں اس وقت شروع ہوتا ہے جب ڈکٹیٹر بادشاہ رضا شاہ پہلوی کا دور تھا اور اس وقت وہ اسلامی انقلاب کے روحِ رواں آیت اللہ روح اللہ خمینی کے حلیف تھے اور انقلاب کے بعد انہیں مذہبی حکومت نے انقلاب اور ملک دشمن قرار دے دیا اور ان پر الزام لگایا کہ وہ سن 1980 میں لڑی جانے والی ایران عراق جنگ میں عراقی فوج کے ساتھ جنگ میں شریک تھے۔


اسلامی انقلاب کے بعد حکومت اور مجاہدینِ خلق

مجاہدینِ خلق کا قیام سن 1965 میں کیا گیا تھا تا کہ ڈکٹیٹر شاہ محمد رضا پہلوی کی آمرانہ حکومت کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔ اس گروپ کی ابتدا میں جھکاؤ مارکسی نظریات کی جانب تھا لیکن یہ خود کو جمہوریت نواز اور سیکولر قرار دیتا تھا۔ یہ گروپ آیت اللہ روح اللہ خمینی کے ساتھ پہلوی حکومت کے خلاف عملی طور پر متحرک رہا۔

انقلاب کے بعد مجاہدینِ خلق کو مذہبی حکومت نے سن 1981 میں خلافِ قانون قرار دے دیا۔ اسی کو سن 1981 میں ہونے والے ایک بڑے ہولناک بم دھماکے کا ذمہ دار بھی ٹھہرایا گیا، جس میں چوہتر افراد کی موت ہوئی تھی۔ ہلاک ہونے والوں میں آیت اللہ خمینی کے بعد سب سے معتبر مذہبی رہنما آیت اللہ بہشتی بھی شامل تھے۔


اسی طرح مجاہدین خلق کو تہران حکومت نے سن 1981 کے ایک اور بم حملے کا ذمہ دار بھی ٹھہرایا، اس میں مستقبل کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای زخمی ہوئے اور ان کا ایک ہاتھ تمام عمر کے لیے مفلوج ہو کر رہ گیا۔

مجاہدینِ خلق کے خلاف کریک ڈاؤن

ان بم حملوں کے بعد ایرانی حکومت نے ملک کے اندر مجاہدینِ خلق کے حامیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا۔ اس کریک ڈاؤن میں ہزاروں افراد کو ہلاک کر دیا گیا۔ بعض ٹارگٹ کلنگ میں مارے گئے اور بے شمار کو تختہ دار پر چڑھا دیا گیا۔ اس گروپ کے افراد نے غیر ممالک جانے میں عافیت سمجھی اور جو ملک میں رہ گئے، انہوں نے خاموشی اختیار کر لی۔


نیشنل کونسل آف ریزیسٹنس آف ایران (NCRI) کے مطابق سن 1988 میں اسلامی حکومت کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد تیس ہزار کے لگ بھگ ہے۔ بعض ذرائع یہ تعداد چار سے پانچ ہزار بیان کرتے ہیں۔

نئی مزاحمتی تحریک کی بنیاد

مجاہدینِ خلق سے نسبت رکھنے والے بے شمار افراد کی قیادت مسعود رجاوی نے سنبھال کر ایک نئی تنظیم نیشنل کونسل آف ریزیسٹنس آف ایران (NCRI) کی بنیاد فرانس میں رکھی۔ یہ ایران کی مذہبی حکومت کے مخالف کئی گروپوں میں سے ایک ہے۔


مسعود رجاوی کو ایران حکومت کے دباؤ پر فرانسیسی حکومت نے سن 1986 میں ملک بدر کر دیا اور خیال کیا جاتا ہے کہ وہ عراق منتقل ہو گئے تھے، کیونکہ اس وقت وہاں ایران مخالف صدام حیسن کی حکومت قائم تھی۔ عراق پر سن 2003 میں امریکی فوج کشی کے بعد مسعود رجاوی کے بارے میں کوئی مصدقہ اطلاع میسر نہیں کہ آیا وہ زندہ ہیں۔

دوسری جانب رجاوی کی قائم کردہ تنظیم NCRI کی قیادت اب ان کی اہلیہ مریم رجاوی نے سنبھال رکھی ہے۔ مریم رجاوی کو فرانس نے سیاسی پناہ دی تھی اور اب وہ فرانسیسی شہریت کی حامل ہیں۔


مجاہدین خلق ایک دہشت گرد تنظیم

مجاہدین خلق نے ایران کے اندر کئی خونی حملوں کی ذمہ داری بھی قبول کی تھی اور ان میں سن 1993 میں کیے گئے ایرانی تیل کی تنصیبات پر حملے بھی شامل تھے۔ اس تنظیم کو امریکا اور یورپی یونین نے ایک دہشت گرد گروپ قرار دے دیا تھا۔

صدام حکومت کے زوال کے بعد مجاہدین خلق کو امریکی حمایت سے بھی کسی حد تک محرومی ہو گئی۔ اس کے کارکنوں کو امریکی فوج نے ہتھیاروں سے بھی محروم کر دیا۔ ان کا ایک کیمپ بغداد کے شمال میں اشرف ریفیوجی کیمپ کے نام سے قائم تھا۔ اس کیمپ کو رضا شاہ پہلوی کی بہن اشرف پہلوی سے بھی منسوب کیا جاتا تھا۔


سن 2013 میں امریکا اور اقوام متحدہ کی درخواست پر مجاہدینِ خلق کے بچے کچے کارکنوں کو کئی ممالک اور خاص طور پر البانیا نے اپنے ہاں بسانے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔ سن 2009 میں یورپی یونین نے اس تنظیم کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے بھی خارج کر دیا اور امریکا بھی اس تنظیم کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے خارج کر چکا ہے۔

منگل دس اگست سے یورپی ملک سویڈن میں ایران کے ایک سابق پراسیکیوٹر کے خلاف فوجداری مقدمہ شروع ہو گیا ہے۔ اس پر سن 1988 میں مذہبی حکومت کے ایما پر مجاہدینِ خلق کے کئی کارکنوں کو ہلاک کرنے کا الزام ہے۔


اس عدالتی کارروائی کے حق میں کئی نوبل انعام یافتگان بھی اپنی آواز بلند کر چکے ہیں۔ ان کے ساتھ کئی سابق یورپی ممالک کے سربراہان بھی ایرانی حکومت کی ماورائے قانون ہلاکتوں کی مزمت کرنے کے علاوہ مرتکب افراد کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کی مہم میں شامل رہے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔