اسرائیل میں ملازمت کرنے والے گرفتار پاکستانیوں سے تفتیش شروع

پاکستان کی وفاقی تفتیشی ایجنسی نے اسرائیل میں غیر قانونی طور ملازمت اختیار کرنے والے پانچ پاکستانیوں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

اسرائیل میں ملازمت کرنے والے گرفتار پاکستانیوں سے تفتیش شروع
اسرائیل میں ملازمت کرنے والے گرفتار پاکستانیوں سے تفتیش شروع
user

Dw

پاکستان کی وفاقی تفتیشی ایجنسی (ایف آئی اے) کے ایک اعلیٰ افسر نے بتایا کہ ملزمان سے ابتدائی پوچھ گچھ کے بعد پورے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ان پانچوں افراد پر اسرائیل میں غیر قانونی طورپر قیام نیز وہاں ملازمت کرنے اور مشکوک ترسیلات زر پاکستان بھیجنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ان لوگوں کو آج ایک بار پھر متعلقہ عدالت میں پیش کیا جائے گا اور معاملے کی مزید تحقیقات کے لیے ملزمان کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست کی جائے گی۔


کیا ہے معاملہ؟

ایف آئی اے کے صوبہ سندھ کے ڈائریکٹر عبدالحمید بھٹو نے میڈیاکو بتایا کہ میر پور خاص کرائم سرکل نے اسرائیل میں 'غیر قانونی مہاجرت ' کے الزام میں پانچ افراد کو گرفتار کیا ہے۔ ان کے نام نعمان صدیقی، کامل انور، محمد ذیشان، محمد کامران صدیقی اور محمد انور بتائے گئے ہیں۔ یہ تمام افراد میر پور خاص کے رہائشی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ مشکوک ترسیلات زر پاکستان بھیجنے کی رپورٹ پر ابتدائی تفتیش کے نتیجے میں انہیں گرفتار کرلیا گیا۔ انہوں نے پاکستانی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسرائیل کا نہ صرف سفر کیا بلکہ وہاں ملازمت بھی کی۔ ایف آئی اے کی طرف سے جاری ایک بیان کے مطابق گرفتار کیے جانے والے ملزمان چار سے سات سال تک اسرائیل کے شہر تل ابیب میں مقیم رہے جہاں وہ بطور ہیلپر اور کار واشر ملازمت کر رہے تھے۔


ایف آئی اے کے مطابق پانچوں ملزمان نے یہ جانتے ہوئے اسرائیل کا سفر کیا کہ پاکستانی پاسپورٹ پر اسرائیل سفر کرنے، وہاں قیام اور کام کرنے کی ممانعت ہے۔ ان لوگوں نے ایک اسرائیلی ایجنٹ کے ذریعے اسرائیل میں انٹری حاصل کی تھی جس کے لیے فی کس تین سے چار لاکھ روپے رقم ادا کی گئی تھی۔

یہ پاکستانی اسرائیل کس طرح پہنچے؟

خیال رہے کہ پاکستان کے پاسپورٹ پر اسرائیل کا سفر نہیں کیا جاسکتا کیونکہ پاکستانی پاسپورٹ پر یہ عبارت بھی درج ہے کہ "یہ پاسپورٹ سوائے اسرائیل کے دنیا کے تمام ممالک کے لیے کار آمد ہے۔" ایف آئی اے کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ملزمان ترکی، کینیا اور سری لنکا کے راستے سے بھی اردن ایئرپورٹ پہنچ کر اسرائیل میں داخل ہوتے رہے ہیں جبکہ پاکستان واپسی کے لیے دبئی کے راستے اردن ایئرپورٹ سے ہی کراچی آتے تھے۔


ابتدائی تفتیش کے مطابق ملزمان ویسٹرن یونین سے پاکستان پیسے بھیجتے رہے ہیں۔ ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ اس سال پتہ چلا کہ پاکستان میں آنے والی ترسیلات زر مشکوک ٹرانزیکشنز کے ذریعہ ہوئی ہیں اور وہ اسرائیل سے آئی ہیں۔ اس معاملے کی تحقیقات کے بعد پانچ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جب کہ مزید تین افراد کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

ایف آئی اے کے ایک اہلکار کے مطابق ان لوگوں نے اسرائیل میں چار سے سات برس تک قیام اور ملازمت کی۔ اور وطن واپسی کے بعد میر پور خاص میں جنرل سٹور اور موبائل نیٹ ورکنگ کا کام کر ر ہے تھے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ملزمان نے اپنی جعلی دستاویزات ضائع کر دی ہیں جبکہ ان کے زیر استعمال موبائل فون اور لیپ ٹاپ سے کچھ ڈیٹا حاصل کیا گیا ہے جو تحقیقات کو آگے بڑھانے میں مدد دے گا۔


یہ امر دلچسپ ہے کہ اپریل میں اسلام آباد نے ان خبروں کی تردید کی تھی کہ پاکستان اسرائیل سے تجارت کر رہا ہے۔ دراصل ایک یہودی تاجر نے ٹویٹ کیا تھا کہ اس نے خوردنی اجناس کامیابی کے ساتھ یروشلم اور حیفہ درآمد کیے ہیں۔ پاکستان دفتر خارجہ نے اس کی تاہم تردید کرتے ہوئے کہا تھا، "ہماری پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔" پاکستان نے سفارتی طور پر اسرائیل کو اب تک تسلم نہیں کیا ہے۔"

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔