جرمنی میں ساڑھے چھ ملین انسانوں کی داخلی نقل مکانی

جرمنی میں گزشتہ تیس برسوں کے دوران تقریباﹰ ساڑھے چھ ملین باشندوں نے داخلی نقل مکانی کی۔

جرمنی میں ساڑھے چھ ملین انسانوں کی داخلی نقل مکانی
جرمنی میں ساڑھے چھ ملین انسانوں کی داخلی نقل مکانی
user

Dw

جرمنی کے 1990ء میں دوبارہ اتحاد سے پہلے سابقہ مشرقی جرمن ریاست یا جی ڈی آر ایک کمیونسٹ نظام حکومت والا ملک تھا جبکہ مغربی حصے پر مشتمل وفاقی جمہوریہ جرمنی ایک پارلیمانی جمہوری ریاست۔ منقسم جرمنی کے دوبارہ اتحاد کو گزشتہ برس اکتوبر میں ٹھیک تیس سال ہو گئے تھے۔

دوبارہ اتحاد کے بعد وسیع تر نقل مکانی

انیس سو نواسی میں دیوار برلن کے گرائے جانے کے نتیجے میں ممکن ہونے والے جرمن اتحاد کے حقیقت بن جانے کے بعد متحدہ جرمنی کے مشرقی اور مغربی یا نئے اور پرانے وفاقی صوبوں کے مابین وسیع تر عوامی نقل مکانی شروع ہو گئی تھی۔

اس دوران مشرق سے مغرب کی طرف نقل مکانی کا رجحان زیادہ تھا کیونکہ سابقہ مشرقی جرمنی کے عام شہری خاص کر نوجوان اپنے لیے روزگار اور زندگی میں مادی کامیابی کے نئے مواقع کی تلاش میں تھے۔ پرانے یا مغربی صوبوں سے مشرق کی طرف بھی نقل مکانی ہوئی تھی مگر وہ بہت کم رہی تھی۔

بنڈس ٹاگ میں سوال

اس حوالے سے جرمن پارلیمان بنڈس ٹاگ میں بائیں باز وکی سیاسی جماعت 'دی لِنکے‘ کے ایک رکن کی طرف سے پوچھے جانے والے سوال کا جو سرکاری جواب دیا گیا، وہ کئی اہم حقائق کا پتا دیتا ہے۔

وفاقی دفتر شماریات کے مطابق 1991ء سے لے کر 2019ء تک کے تین عشروں کے دوران ملک کے مشرق میں نئے وفاقی صوبوں سے کُل 3.86 ملین شہری رہائش کے لیے پرانے وفاقی صوبوں میں منتقل ہوئے۔ اس کے برعکس اسی عرصے میں پرانے مغربی صوبوں سے مشرق کی طرف نئے وفاقی صوبوں میں جا کر رہائش اختیار کرنے والے شہریوں کی مجموعی تعداد 2.63 ملین رہی۔

ابتدائی برسوں میں نقل مکانی بہت زیادہ رہی

برلن میں وفاقی وزارت داخلہ کے مطابق جرمن اتحاد کے بعد شروع کے چند برسوں کے دوران ملک میں داخلی نقل مکانی کا رجحان بہت زیادہ تھا، جو اب کافی کم ہو چکا ہے۔

مزید یہ کہ پچھلے تین عشروں میں ملک کے مشرق میں واقع نئے وفاقی صوبوں میں بھی اتنی زیادہ ترقی ہو چکی ہے کہ اب مغرب سے مشرق کی طرف جانا بھی ایک بہتر امکان ہے، جس سے عام جرمن باشندے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

اتحاد اور انضمام ایک مسلسل عمل

وفاقی وزارت داخلہ کے مطابق متحدہ جرمنی میں داخلی نقل مکانی کا سابقہ مشرق اور سابقہ مغرب کی بنیاد پر تو جائزہ لیا جا سکتا ہے لیکن اگر تمام سولہ وفاقی صوبوں میں سے ہر ایک کو مقامی آبادی میں نقل مکانی کے کم یا زیادہ رجحان کے باعث پیش آنے والے حالات کا انفرادی طور پر جائزہ لیا جائے، تو سبھی صوبوں کے بارے میں ایک سا نتیجہ اخذ کرنا بہت مشکل ہو گا۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ عام شہریوں میں نقل مکانی کے اس رجحان کا تجربہ سبھی وفاقی صوبوں کو ہوا مگر کہیں اس وجہ سے مقامی آبادی میں اضافہ ہوا تو کہیں کمی۔ لیکن مجموعی طور پر جرمنی کا اقتصادی اور سماجی اتحاد و انضمام جاری ہے، جو ایک مسلسل معاشی اور معاشرتی عمل ہے اور جس کا فائدہ پورے جرمنی، تمام جرمنوں اور اس ملک میں رہنے والے سبھی باشندوں کو پہنچ رہا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔