بھارت کا عام بجٹ،کیا حکومت عوام کو لبھانے کی کوشش کر رہی ہے؟

ماہرین کے مطابق اگلے سال کےعام انتخابات سے قبل بھارت میں مودی حکومت نےاپنے آخری عام بجٹ میں عوام کو لبھانے کی بھرپور کوشش کی ہے۔

بھارت کا عام بجٹ،کیا حکومت عوام کو لبھانے کی کوشش کر رہی ہے؟
بھارت کا عام بجٹ،کیا حکومت عوام کو لبھانے کی کوشش کر رہی ہے؟
user

Dw

بھارتی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے بدھ یکم فروری کو آئندہ مالی سال کے لیے بھارت کا عام بجٹ پیش کیا۔ ان کا یہ مسلسل پانچواں بجٹ تھا اور وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والی بھارت کی چھٹی وزیر خزانہ بن گئی ہیں۔ سابق وزیر اعظم من موہن سنگھ بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔ ہندو قوم پرست جماعت بی جے پی نے اس بجٹ میں کئی اہداف حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ اگلے برس اپریل۔ مئی میں ہونے والے عام انتخابات سے قبل یہ حکومت کا آخری مکمل بجٹ ہے، اسی لیے بی جے پی حکومت کے لیے کافی اہمیت کا حامل بھی ہے۔ انتخابات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے عوام کے لیے کئی طرح کی رعایتوں اور مراعات کا اعلان کیا ہے۔

بھارت کے سالانہ قومی بجٹ میں ہے کیا؟

بجٹ میں ملازمت پیشہ افراد کو بہت سہولت دی گئی ہے۔ ان کے لیے انکم ٹیکس میں رعایت کی حد میں دو لاکھ کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ ان کے لیے ٹیکس کی چھوٹ کی حد کو پانچ لاکھ سے بڑھا کر سات لاکھ کر دیا گیا ہے۔


اس کے علاوہ ٹیکس کے سلیب (Slab) میں بھی تبدیلی کی گئی ہے۔ سیتارمن نے کہا کہ اب ساڑھے پندرہ لاکھ روپے سالانہ آمدن والے ملازمت پیشہ کو ٹیکس کی مد میں 52500 روپے کا فائدہ ہو گا۔

’ترقی یافتہ بھارت کے عزائم کی تکمیل کا بجٹ‘

وزیر خزانہ نے اپنی بجٹ تقریر میں کہا کہ حکومت غریب کنبوں کو مفت اناج کی فراہمی اسکیم پر 24 ارب ڈالر خرچ کرے گی۔ حکومت غریب شہریوں کے لیے سستے گھر فراہم کرنے کی اسکیم میں بھی 66 فیصد کا اضافہ کرے گی۔


سن 2070 تک کاربن سے پاک ماحول کا ہدف حاصل کرنے میں مدد کے لیے بجٹ میں 4.3 ارب ڈالر مختص کیے گئے ہیں۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ اس رقم کو کس طرح خرچ کیا جائے گا۔ بجٹ میں ریلوے کے بنیادی ڈھانچے کے لیے 2.40 لاکھ کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ نرملا سیتا رمن کا کہنا تھا کہ ریلوے کے لیے اتنی بڑی رقم آج سے پہلے کبھی مختص نہیں کی گئی۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے اسے ایک شاندار بجٹ قرار دیتے ہوئے نرملا سیتارمن کو مبارک باد دی۔ انہوں نے اسے ''امرت کال‘‘ (دور آب حیات) کا پہلا بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا، ''یہ ترقی یافتہ بھارت کے عزائم کی تکمیل کے لیے بنیاد فراہم کرنے والا بجٹ ہے۔‘‘


ان کا مزید کہنا تھا، ''بجٹ میں محروم طبقات کو ترجیح دی گئی ہے اور یہ پرامنگ سماج، کسانوں اور درمیانے طبقے کے خوابوں کو پورا کرے گا۔‘‘

مایوس کن بجٹ، اپوزیشن

اپوزیشن کانگریس پارٹی نے اس بجٹ کو مایوس کن بتایا۔ پارلیمان میں پارٹی کے چیف وہپ کے سریش کا کہنا تھا، ’’بجٹ میں جن اسکیموں کا اعلان کیا گیا وہ صرف آنکھوں میں دھول جھونکنے والی ہیں۔ پچھلے برسوں کے بجٹ میں بھی انہوں نے یہی سب کیا تھا۔ اس مرتبہ کا بجٹ 2024 کے انتخابات کو مدنظر رکھ کر پیش کیا گیا ہے۔‘‘


دہلی کے وزیر اعلیٰ اور عام آدمی پارٹی کے کنوینر اروند کیجریوال کا کہنا تھا، ''بجٹ میں مہنگائی سے کوئی راحت نہیں ہے۔ اس کے برخلاف اس بجٹ سے مہنگائی میں اضافہ ہو گا۔ بے روزگاری دور کرنے کا کوئی ٹھوس منصوبہ نہیں ہے۔ بجٹ میں تعلیم کے مد میں رقم کو گھٹا کر 2.5 فیصد کر دیا گیا ہے، جو افسوس ناک ہے۔ صحت کے مد میں بھی رقم کو 2.2 فیصد سے گھٹا کر 1.98فیصد کر دیا گیا ہے۔

بی جے پی کے پارلیمانی وزیر پرہلاد جوشی کا تاہم کہنا تھا کہ اپوزیشن کو عدم اطمینان کا مظاہرہ کرنے کے بجائے ملک کی ترقی کے لیے''بڑے دل کا مظاہرہ‘‘ کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ غریب دوست اور مڈل کلاس دوست بجٹ ہے۔ ماہرین اقتصادیات نے بجٹ پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔