ایران کے بزرگ ترین پستہ فروش کا بیٹی سے متعلق انقلابی فیصلہ

خشک میووں، چند مخصوص پھلوں اور زعفران جیسی کمیاب اشیاء کا کاروبار ایران کی قدیم تجارتی ثقافت کا حصہ ہے۔ اس شعبے میں بھی صدیوں سے مردوں کی اجارہ داری ہے۔

ایران کے بزرگ ترین پستہ فروش کا بیٹی سے متعلق انقلابی فیصلہ
ایران کے بزرگ ترین پستہ فروش کا بیٹی سے متعلق انقلابی فیصلہ
user

Dw

تہران کے مشہور گرینڈ بازار میں پستے کے بزرگ ترین تھوک فروش نے اپنا کاروبار اپنی سب سے چھوٹی بیٹی کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس تاجر کا یہ فیصلہ ایرانی معاشرے میں کسی انقلاب سے کم نہیں۔ ایرانی معاشرہ بھی دیگر بہت سے معاشروں کی طرح پدر سری معاشرہ ہے اور وہاں تجارتی شعبے میں لڑکیوں یا خواتین کے لیے کوئی گنجائش نہیں۔

اٹھاسی سالہ عباس امامی نے اپنے والد کے ساتھ ان کے کاروبار میں ہاتھ بٹانا اس وقت شروع کیا تھا، جب وہ خود ابھی صرف 15 برس کے تھے۔ سات دہائیوں سے بھی زیادہ عرصے سے وہ اپنے والد کے کاروبار کو چلا رہے ہیں۔ وہ اپنی خاندانی دکان پر بیٹھتے ہیں، جہاں پستے کی بوریوں پر لکھا ہوتا ہے، ''ایک صدی سے بھی زائد عرصے کا تجربہ۔‘‘ عباس امامی کو تاہم یہ بالکل معلوم نہیں کہ ان کا خاندان کب اس کاروبار میں آیا تھا۔ وہ اپنے ذہن پر زور ڈال کر یاد کرنے کی کوشش کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ان کے والد ان کے نانا کی گری دار میووں کی دکان پر کام کرتے تھے۔ عباس امامی دن میں اپنے والد کی مدد کرتے اور رات میں پڑھائی کیا کرتے تھے۔ ان کے بقول، ''انہیں تجارت کے راز جاننے میں ایک دہائی لگی تھی۔‘‘


تجارتی ذمہ داری کی منتقلی

اب امامی اپنی تجارتی پیشہ وارانہ مہارت اپنی 50 سالہ بیٹی مرجان کو منتقل کرنے کی تیاری میں ہیں۔ مرجان ان کی کمپنی 'شمس روسٹڈ نٹس‘ کی ذمہ داری بھی سنبھالیں گی۔ ایران میں پستے کی کاشت عموماً صوبے کرمان اور سمنان میں ہوتی ہے۔ ہر دو سے تین ماہ بعد وہاں کاشتکاروں کے ایجنٹ آرڈر دینے آتے ہیں۔ امامی کے حریف تاجر تصدیق کرتے ہیں کہ امامی، جنہوں نے 1975ء میں اپنے والد کا کاروبار سنبھالا تھا، تہران شہر کے سب سے پرانے ہول سیل پستہ ڈیلر ہیں۔ امامی اپنے پستوں کے معیاری ہونے کا یقین دلاتے ہوئے کہتے ہیں، ''ہم پانچ اقسام کے پستے خریدتے ہیں، یہ سائز، ذائقے اور معیار میں مختلف ہونے کے سبب اپنی قیمت میں بھی مختلف ہوتے ہیں۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں، ''سب سے ذائقہ دار احمد آغائی پستے ہوتے ہیں، جو چار لاکھ پچانوے ہزار تومان یا 16 ڈالر فی کلوگرام کی قیمت پر بکتے ہیں۔‘‘

ایران میں پستے کی گزشتہ پیداوار پچھلے سال اکتوبر میں ہوئی تھی۔ دو لاکھ اسی ہزار ٹن کی مقدار والے ایرانی پستوں میں سے نصف اندرون ملک کھائے گئے اور باقی نصف دنیا کے تقریباﹰ 75 مختلف ممالک کو برآمد کر دیے گئے۔ ان برآمدات سے 900 ملین ڈالر کے برابر رقم حاصل ہوئی۔ اس طرح یہ صنعت ایرانی معیشت میں ایک قابل قدر شراکت دار ہے۔


اہم کاروباری اصول

عباس امامی اپنی بیٹی مرجان کو اپنے کاروبار کی بہت زیادہ تفصیلات بتانے سے گریزاں ہیں۔ مگر چند بنیادی اصولوں کا علم منتقل کرنا ضروری ہے۔ وہ کہتے ہیں، ''صحیح وقت پر خریداری ضروری ہے۔ ساتھ ہی پستوں کی مناسب ریفریجریشن بھی اہم ہے۔‘‘ مرجان نے جب اپنے والد کی دکان پر ابتدائی ڈیوٹی دینا شروع کی، تو وہ کورونا وائرس کی وبا کے سبب خدشات کا شکار تھیں۔ انہوں نےکہا، ''صحیح قیمت پر مال کا حصول آسان نہیں ہوتا۔ پروسیسنگ، اسٹوریج اور حفظان صحت کے اصولوں پر عمل کرنا بھی بہت ضروری ہوتا ہے۔‘‘

ترکی اور چین کے علاوہ ایران پستے کے تین بڑے عالمی صارف ممالک میں سے ایک ہے۔ ایران میں قدیم فارسی ثقافتی تہوار نوروز یا نئے سال کے جشن کے موقع پر تمام تقریبات میں پستوں کی مانگ خاص طور سے بہت زیادہ ہوتی ہے۔ مرجان کے بقول، ''کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے وقت میرے والد دکان پر نہیں آ سکے تھے۔ لہٰذا نوروز کے موقع پر میں اپنی دو بیٹیوں کے ساتھ دکان پر رہتی تھی۔ پہلے میں نے کیشیئر کے طور پر کام شروع کیا تھا، بعد ازاں میں نے اپنی یہ ذمہ داری جاری رکھی۔‘‘


پستوں کو قابل فروخت بنانے کا عمل

گری دار میوے کو بھوننا اس عمل کا ایک اہم حصہ ہوتا ہے۔ امامی کی دکان سے چند گلیوں کے فاصلے پر دارالحکومت تہران کے اہنگران علاقے میں کچے پستوں کے اسی اسی کلوگرام کے تھیلوں کا ایک اونچا ڈھیر پڑا ہے۔ 31 سالہ مجید ابراہیمی روزانہ دو ٹن پستے بھونتے ہیں۔ اپنے کام کی تفصیلات بتاتے ہوئے وہ کہتے ہیں، ''ایک بار جب ڈرم کو عام موٹے نمک سے صاف کر لیا جاتا ہے، تو پھر ہم پستوں کو خشک کرنے سے پہلے بھونتے ہیں۔‘‘

امامی کے بقول ایران میں پستے کی تجارت 1950ء کی دہائی سے کافی ترقی پر ہے۔ وہ کہتے ہیں، ''تب پستے کی تجارت امیروں کی ملکیت تھی۔ جب میں نوعمر تھا، تو صرف چار ہول سیل ٹریڈنگ ہاؤسز تھے۔ آج ان کی تعداد 10 گنا زیادہ ہے۔‘‘ امامی نے مزید کہا کہ 1950 کی دہائی میں یہ کاروبار زیادہ قابل رسائی ہو گیا تھا۔ ''آبادی کا ایک حصہ امیر ہوتا گیا اور یوں گاہکوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا۔ میرے پاس اب بھی 100 کے قریب گاہک ہیں۔‘‘


امامی اپنی دکان کے عقب میں بیٹھتے ہیں، پشت پر ان کے والد کی ایک بلیک اینڈ وائٹ تصویر آویزاں ہے۔ 70 سال سے زیادہ عرصے سے اس کاروبار میں کام کرنے کے باوجود وہ ابھی تک اپنی بیٹی کو تمام کاروباری گُر بتا دینے کے لیے تیار نہیں۔ ''میں مکمل طور پر لگامیں ڈھیلی چھوڑ دینے کے لیے بالکل تیار نہیں۔‘‘ ایک معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ عباس امامی کہتے ہیں، ''سب سے پہلے تو سیکھنا ضروری ہے۔ یہ کوئی آسان تجارت نہیں ہے، لیکن وہ (مرجان) سیکھ لے گی۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔