ہالی ووڈ بند، ہڑتال کرنے والوں میں اداکار بھی شامل

ہالی ووڈ اسکرین رائٹرز اور اداکاروں کی تاریخی ہڑتال کے سبب دنیا کی سب سے بڑی فلم انڈسٹری وقتی طور پر مفلوج ہونے کے خطرے سے دوچار ہو گئی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>فائل علامتی تصویر آئی اے این ایس</p></div>

فائل علامتی تصویر آئی اے این ایس

user

Dw

دنیا کی سب سے بڑی فلمی صنعت ہالی ووڈ کے اداکاروں نے جمعہ کے روز کیلیفورنیا سے نیویارک تک اسٹوڈیو ہیڈ کوارٹر کے باہر دھرنا دیا۔ اس ہڑتال کو کئی دہائیوں میں ہالی ووڈ کی سب سے بڑی ہڑتال قرار دیا جا رہا ہے جس کے سبب فلم اور ٹیلی ویژن پروڈکشن کا سلسلہ رک گیا ہے۔ لاس اینجلس کے مشہور سن سیٹ بولیوار پر واقع نیٹ فلکس کی عمارت کے ساتھ ساتھ ڈزنی، پیراماؤنٹ، وارنر اور ایمیزون کے احاطے میں سینکڑوں ہڑتالیوں نے پلے کارڈز کے ساتھ مارچ کیا۔

اُدھر نیویارک میں، جیسن سوڈیکیس اور سوسن سارینڈن بھی احتجاج کرنے والوں میں شامل تھے۔ ان مظاہرین کا احتجاج اسٹوڈیو کے مالکان کی جانب سے اداکاروں کی بہتر تنخواہ اور ملازمت کے تحفظ کے مطالبات کو پورا کرنے سے انکار کے باعث شروع ہوا ہے۔ مشہور زمانہ فلم ''ٹائی ٹینک‘‘ میں اداکاری کرنے والی اداکارہ فرانسس فشر نے پیراماؤنٹ پکچرز کے باہر مارچ کے دوران کہا، ''اسٹوڈیو بہرے اور لالچی ہیں، اور انہیں بیدار ہونے کی ضرورت ہے کیونکہ ہم نے ہی انہیں امیر بنایا ہے۔‘‘


دریں اثناء 'اسکرین ایکٹرز گلڈ فاؤنڈیشن (SAG-AFTRA) کے ممبران ایسے اسکرپٹ رائٹرز کی صفوں میں شامل ہوگئے ہیں جو ہفتوں سے ہڑتال پر ہیں۔ ان اقدام نے ہالی ووڈ انڈسٹری کی 63 سالوں پر محیط تاریخ میں پہلی بار اتنے وسیع پیمانے پر واک آؤٹ تحریک کو متحرک کیا اور ہالی ووڈ کو مؤثر طریقے سے بند کروایا ہے۔

''فرینڈز‘‘ کی شریک تخلیق کار معروف امریکی فلم ساز مارٹا کافمین نے اپنے بیان میں کہا، ''ہم یہاں تقریباً 80 دنوں سے باہر ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ SAG-AFTRA کی ہڑتال نے کافی توانائی فراہم کی ہے اور ناقابل یقین یکجہتی کا مظاہرہ کیا ہے۔‘‘


پروڈکشن اسٹوڈیوز کے ساتھ ایک نئے معاہدے تک پہنچنے کے لیے مذاکرات بغیر کسی معاہدے کے ختم ہونے کے بعد اداکاروں نے جمعرات کی آدھی رات کو باضابطہ طور پر ہڑتال شروع کی تھی۔ یونین کے مطالبات دراصل اسٹریمنگ دور میں کم ہوتی تنخواہ اور مصنوعی ذہانت سے لاحق خطرے پر توجہ مرکوز کروانے کا سبب بنے ہیں۔

ہالی ووڈ کی مشہور فلموں ''دی امیریکنز‘‘ اور ''فار آل مین کائنڈ‘‘ میں کردار ادا کرنے والی معروف 44 سالہ امریکی اداکارہ ویرا چرنی کا اس موقع پر کہنا تھا، ''ہم اس طویل سفر پر ہیں، لیکن یہ ایک تاریخی لمحہ ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ان معاہدوں کو بند کروا دیں جو آنے والی نسلوں کے اداکاروں کے ساتھ ویسا ہی کریں گے جیسا 1960ء میں کیا گیا تھا۔‘‘


امریکہ میں اداکاروں کی یونین نے ''پے ٹیلی ویژن اور ہوم ویڈیو‘‘ کی آمد پر سن 1980 میں آخری بار ہڑتال کی تھی جو تین ماہ سے زیادہ عرصے تک جاری رہی تھی۔ اس بار، یونین کا کہنا ہے کہ اسٹریمنگ کے ذریعے اداکاروں کی تنخواہ کو ''شدید طور پر نقصان پہنچ ہے‘‘۔ اداکاروں کی یونین کی طرف سے متنبہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت ''ایک وجودی خطرہ‘‘ ہے۔

SAG-AFTRA نیویارک کے مقامی صدر اور اداکار ایزرا نائٹ نے کہا کہ AI ''حقیقی اداکاروں کو تخلیقی جگہ سے ہٹانے کی ایک دھمکی ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ''ہم اس کے لیے حدود طے کرنا چاہتے ہیں، ہم رضامندی چاہتے ہیں اور اس کے لیے اجازت دینے کے قابل بننا چاہتے ہیں۔‘‘


الائنس آف موشن پکچر اینڈ ٹیلی ویژن پروڈیوسرز (AMPTP) کا کہنا ہے کہ اس نے اداکاروں کو تنخواہوں میں بڑے اضافے اور AI کی ایک جامع تجویز پیش کی تھی۔ ہالی ووڈ کے چوٹی کے اداکاروں سمیت 60 ہزار فنکاروں کی نمائندگی کرنے والے ادارے SAG-AFTRA اور رائٹرز گلڈ آف امریکہ WGA نے تنخواہوں اور بقایاجات میں اضافے کے ساتھ ساتھ اس امر کی ضمانت کا مطالبہ کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت اداکاروں کی جگہ نہیں لے گی۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


;