سیم سنگ سربراہ کے وارثوں پر وراثت ٹیکس گیارہ ارب امریکی ڈالر

جنوبی کوریا کی بہت بڑی ٹیکنالوجی کمپنی سیم سنگ کے آنجہانی سربراہ لی کُن ہی کے وارثوں کو تقریباﹰ گیارہ ارب امریکی ڈالر کے برابر وراثتی ٹیکس ادا کرنا ہو گا۔

سیم سنگ سربراہ کے وارثوں پر وراثت ٹیکس گیارہ ارب امریکی ڈالر
سیم سنگ سربراہ کے وارثوں پر وراثت ٹیکس گیارہ ارب امریکی ڈالر
user

Dw

جنوبی کوریائی دارالحکومت سیول سے بدھ اٹھائیس اپریل کو ملنے والی رپورٹوں کے مطابق دنیا کی سب سے بڑی ٹیلیکوم کمپنیوں میں شمار ہونے والے ملکی ادارے سیم سنگ کے سربراہ لی کُن ہی نے اپنے پیچھے اپنے پسماندگان کے لیے جو اثاثے چھوڑے ہیں، ان کی وجہ سے ان کے وارثوں کو حکومت کو 10.8 بلین امریکی ڈالر کے برابر پراپرٹی ٹیکس ادا کرنا ہو گا۔

ورثے کی مالیت کے نصف سے زیادہ ٹیکس


جنوبی کوریائی کرنسی میں ٹیکس کی یہ رقم 12 ٹریلین وان سے زیادہ بنتی ہے۔ لی کُن ہی کے خاندان کے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کے لواحقین وراثتی ٹیکس کی مد میں حکومت کو جتنی رقم ادا کریں گے، وہ اس خاندان کے سربراہ کی طرف سے چھوڑے گئے اثاثوں کی مجموعی مالیت کے نصف سے بھی زیادہ بنتی ہے۔

اس بیان میں کہا گیا ہے کہ لی کے پسماندگان حکومت کو جتنا پراپرٹی ٹیکس ادا کریں گے، وہ جنوبی کوریا ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں کسی بھی ملک کی حکومت کو کسی خاندان کی طرف سے ادا کیے جانے والے سب سے زیادہ پراپرٹی ٹیکسوں میں سے ایک ہو گا۔


'ہم یہ ٹیکس خوشی سے ادا کریں گے‘

جنوبی کوریائی نیوز ایجنسی یون ہاپ نے لکھا ہے کہ لی کے وارث سیول حکومت کو جتنا وراثتی ٹیکس ادا کریں گے، وہ اس ملک کو 2020ء کے پورے سال میں اس مد میں حاصل ہونے والے ٹیکسوں کی مجموعی مالیت کا بھی تین سے چار گنا تک ہو گا۔


لی خاندان کے بیان کے مطابق وہ حکومت کو یہ ٹیکس مروجہ ملکی قانون کے مطابق اسی ماہ سے ادا کرنا شروع کر دے گا اور اس کی ادائیگی چھ قسطوں میں اگلے پانچ سال میں مکمل ہو گی۔

ایک ٹریلین وان کا عطیہ بھی


لی فیملی نے کہا ہے کہ وہ اپنے آنجہانی سربراہ کی طرف سے چھوڑی گئی املاک میں سے ایک ٹریلین (ایک ہزار بلین) وان چند خیراتی منصوبوں کے لیے بھی عطیہ کرے گی۔ یہ رقم جن اداروں کو عطیہ کی جائے گی، وہ وبائی امراض کی روک تھام کے علاوہ کم عمر بچوں میں سرطان کے مرض کے خلاف سرگرم ہیں۔

اس کے علاوہ لی کُن ہی کی ملکیت 23 ہزار سے زائد بہت قیمتی فن پاروں میں سے بھی بہت سے عطیہ کر دیے جائیں گے۔ ان فن پاروں میں مارک شاگال، پابلو پکاسو اور کلود مونے جیسے عظیم فنکاروں کی تخلیقات بھی شامل ہیں۔


لی کے قانونی وارث

لی کُن ہی نے اپنے قانونی وارثوں کے لیے جو املاک چھوڑی ہیں، ان میں سام سنگ الیکٹرانکس کے بےشمار حصص بھی شامل ہیں۔ آنجہانی لی 2009ء سے لے کر اپنے انتقال تک جنوبی کوریا کے امیر ترین شہری تھے۔ انہوں نے اپنے پسماندگان میں ایک بیوہ، دو بیٹیاں اور ایک بیٹا چھوڑا ہے۔


یون ہاپ کے مطابق اگر لی کُن ہی کی ملکیت غیر منقولہ جائیداد کو بھی شامل کیا جائے، تو سام سنگ الیکٹرانکس کے آنجہانی چیئرمین نے اپنے لواحقین کے لیے مجموعی طور پر 25 ٹریلین وان سے زائد کی املاک چھوڑیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔